بچی کی ہلاکت کے ذمے دار ڈاکٹرکیخلاف کارروائی کی جائےوالد

نجی اسپتال سے معلوم ہواکہ شہزل کوغلط دوا کے ری ایکشن سے جان لیوا بیماری لگی.

بچی شہزل کے رشتے دار انصاف کے لیے پریس کلب پرتصویر اٹھائے مظاہرہ کررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے ہلاک ہونے والی بچی شہزل یوسف زئی کے والد عرفان یوسف زئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 30 جنوری کوشہزل کو بخار کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔

جہاں انھوں نے بچی کو ایک شیشی میں سے ڈیڑھ ڈیڑھ چمچہ شربت پلایا اور اینٹی ملیریا دوا لکھ کر دی ، اگلے دن بچی کے منہ اور پورے جسم پر چھالے آگئے ۔

بچی کے پیشاب میں خون آنے لگا جس پر ہم بچی کونجی اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے تجزیوں کے بعد بتایا کہ بچی کو اسٹیون جانسن سینڈرون نامی لا علاج جان لیوا بیماری ہے جو غلط دوا کے ری ایکشن کے باعث ہوئی ہے،اس موقع پر بچی کی والدہ حنا یوسف زئی ، ارم حنیف ایڈوکیٹ ، بچی انیسہ آصف کیوالدہ ہما رضوی بھی موجود تھیں،عرفان یوسف زئی نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹر سے بارہا اس دوا کا نام پوچھا ہے لیکن انھوں نے نام نہیں بتایا، بچی کی والدہ حنا یوسفزئی نے کہا کہ ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے ۔




انھوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی کہ وہ بچی کے قتل کے ذمے دار ڈاکٹرکی غفلت کا از خود نوٹس لیں اور انھیں انصاف دلائیں ، ارم حنیف ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ شہزل کا ڈاکٹر کی غفلت کے باعث انتقال ہوا جس پر ان کے خلاف ڈیفنس تھانے میں مقدمہ درج ہے ، پولیس ڈاکٹر کی پشت پناہی کررہی ہے ، بچی کے والد اوررشتے داروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

 
Load Next Story