وقار یونس بھی بیٹے کو کرکٹ میں لانے سے گریزاں
دلچسپی نہیں رکھتا،فیملی کوحیدرآباد دکن کے تاریخی مقامات دکھائوں گا،بولنگ کوچ.
سن رائزرز کے بولرزمیں اپنا تجربہ منتقل کرنا چاہتا ہوں، سابق پاکستانی اسپیڈ اسٹار۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
وسیم اکرم اور وقار یونس پاکستان کے عظیم فاسٹ بولرز رہے مگر وہ اپنے بیٹوں کو کرکٹ میں لانے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔
وسیم کے بعد اب وقار نے بھی واضح کر دیا کہ ان کا بیٹا اذان کھیل میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا،بطور آئی پی ایل ٹیم بولنگ کوچ حیدرآباد دکن میں موجود سابق سوئنگ ماسٹر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا بیٹا اذان ابھی صرف11برس کا ہے،اسے تمام کھیل کھیلنے میں دلچسپی مگروہ کرکٹ کا زیادہ شوق نہیں رکھتا،اس میں کسی اچھے ایتھلیٹ جیسی خصوصیات موجود ہیں مگر دیکھنا ہو گا کہ وہ کس طرح آگے بڑھتا ہے۔ وقار یونس کے اہل خانہ آئندہ ہفتے بھارت میں انھیں جوائن کر لیں گے، وہ اہلیہ ، دو بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ تاریخی مقامات کی سیر کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مجھے یہاں کی بریانی اور کباب بہت پسند آئے، اب آئندہ ہفتے میرے گھر والے یہاں آ رہے ہیں انھیں بھی لذیز کھانے کھلانے ساتھ لے کر جائوں گا،ان کے ساتھ تاریخی مقامات دیکھنے کا بھی پروگرام بنایا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایک شہرکا نام حیدرآباد ہے،تاریخی اور روایتی طور پر ہماری کئی چیزیں یکساں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں سن رائزرز کے بولرز میں اپنا تجربہ منتقل کرنا چاہتا ہوں، پہلے ٹریننگ سیشن کے دوران ایشانت شرما اور آنند راجن سے پرانی گیند سے بولنگ کرائی، اس سوال پر کہ کیا دوران ایونٹ حیدرآباد کے بولرز ان کی طرح یارکرز کرتے دکھائی دیں گے، وقار یونس نے کہا کہ ابھی تو ہم نے ایک دوسرے کو جاننا شروع کیا ہے، درحقیقت میں تو سب کے نام یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، ٹیم کی بولنگ لائن بہت اچھی اور میں آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔
وسیم کے بعد اب وقار نے بھی واضح کر دیا کہ ان کا بیٹا اذان کھیل میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا،بطور آئی پی ایل ٹیم بولنگ کوچ حیدرآباد دکن میں موجود سابق سوئنگ ماسٹر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا بیٹا اذان ابھی صرف11برس کا ہے،اسے تمام کھیل کھیلنے میں دلچسپی مگروہ کرکٹ کا زیادہ شوق نہیں رکھتا،اس میں کسی اچھے ایتھلیٹ جیسی خصوصیات موجود ہیں مگر دیکھنا ہو گا کہ وہ کس طرح آگے بڑھتا ہے۔ وقار یونس کے اہل خانہ آئندہ ہفتے بھارت میں انھیں جوائن کر لیں گے، وہ اہلیہ ، دو بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ تاریخی مقامات کی سیر کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مجھے یہاں کی بریانی اور کباب بہت پسند آئے، اب آئندہ ہفتے میرے گھر والے یہاں آ رہے ہیں انھیں بھی لذیز کھانے کھلانے ساتھ لے کر جائوں گا،ان کے ساتھ تاریخی مقامات دیکھنے کا بھی پروگرام بنایا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایک شہرکا نام حیدرآباد ہے،تاریخی اور روایتی طور پر ہماری کئی چیزیں یکساں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں سن رائزرز کے بولرز میں اپنا تجربہ منتقل کرنا چاہتا ہوں، پہلے ٹریننگ سیشن کے دوران ایشانت شرما اور آنند راجن سے پرانی گیند سے بولنگ کرائی، اس سوال پر کہ کیا دوران ایونٹ حیدرآباد کے بولرز ان کی طرح یارکرز کرتے دکھائی دیں گے، وقار یونس نے کہا کہ ابھی تو ہم نے ایک دوسرے کو جاننا شروع کیا ہے، درحقیقت میں تو سب کے نام یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، ٹیم کی بولنگ لائن بہت اچھی اور میں آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔