سندھ ہائیکورٹحلقہ بندیوں کیخلاف متحدہ کے وکیل کے دلائل مکمل
ادھوری مردم شماری کی بنیادپرحلقہ بندیاں کی گئی ہیں،بیرسٹرفروغ نسیم،عدالت میں موقف
ادھوری مردم شماری کی بنیادپرحلقہ بندیاں کی گئی ہیں،بیرسٹرفروغ نسیم،عدالت میں موقف۔ فوٹو: فائل
کراچی میں قومی اسمبلی کی3اورصوبائی اسمبلی کی8نشستوں کی حلقہ بندی میں تبدیلی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی آئینی درخواست پربیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل مکمل کرلیے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت 8اپریل کیلیے ملتوی کردی ، بیرسٹرفروغ نسیم نے اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا کہ کراچی میں حلقہ بندی 1998کی مردم شماری کے مطابق نہیں ہوئی بلکہ بعد میں ہونے والی ادھوری مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا ہے جوکہ خلاف قانون ہے،الیکشن کمیشن کی جانب سے رائے دہندگان کی حتمی فہرستیں بھی تیارہوچکی ہیں اور رائے دہندگان کی فہرستوں کی تیاری کے بعدحلقہ بندی کاکوئی جواز نہیں۔
انتخابی عمل کا اعلان 20مارچ کوہوا اور حلقہ بندی22مارچ کوکی گئی جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، میرے مطابق20مارچ کو انتخابی عمل کا آغاز رجعت پسندانہ سوچ ہے کیونکہ ترقی پسندانہ نکتہ نظر کے مطابق انتخابی عمل کا آغاز 16مارچ سے ہی ہوگیاتھا جب صدر مملکت نے انتخابات کے لیے 11مئی کی تاریخ کا اعلان کیا تھا،فاضل بینچ نے بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہونے پرانہیں ہدایت کی کہ وہ سپریم کورٹ میں متحدہ کی جانب سے حلقہ بندیوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی اپیل اور اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل بھی ہائیکورٹ میں پیش کریں۔آئندہ سماعت پر عبدالقادر پٹیل کے وکیل جی این قریشی دلائل دیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینرڈاکٹرفاروق ستار نے بیرسٹرفروغ نسیم کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیاکہ کراچی میں حلقہ بندی کے ذریعے خاص لسانی گروہ کوفائدہ پہنچے گا،مردم شماری کے بغیر حلقہ بھی نہیں کی جاسکتی جبکہ حلقہ کسی شہر میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں کی جاتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی ازخود نوٹس (وطن پارٹی)کیس کے6اکتوبر2011کے فیصلے میں نئی حلقہ بندیوں کاحکم نہیں دیاتھا۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت 8اپریل کیلیے ملتوی کردی ، بیرسٹرفروغ نسیم نے اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا کہ کراچی میں حلقہ بندی 1998کی مردم شماری کے مطابق نہیں ہوئی بلکہ بعد میں ہونے والی ادھوری مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا ہے جوکہ خلاف قانون ہے،الیکشن کمیشن کی جانب سے رائے دہندگان کی حتمی فہرستیں بھی تیارہوچکی ہیں اور رائے دہندگان کی فہرستوں کی تیاری کے بعدحلقہ بندی کاکوئی جواز نہیں۔
انتخابی عمل کا اعلان 20مارچ کوہوا اور حلقہ بندی22مارچ کوکی گئی جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، میرے مطابق20مارچ کو انتخابی عمل کا آغاز رجعت پسندانہ سوچ ہے کیونکہ ترقی پسندانہ نکتہ نظر کے مطابق انتخابی عمل کا آغاز 16مارچ سے ہی ہوگیاتھا جب صدر مملکت نے انتخابات کے لیے 11مئی کی تاریخ کا اعلان کیا تھا،فاضل بینچ نے بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہونے پرانہیں ہدایت کی کہ وہ سپریم کورٹ میں متحدہ کی جانب سے حلقہ بندیوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی اپیل اور اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل بھی ہائیکورٹ میں پیش کریں۔آئندہ سماعت پر عبدالقادر پٹیل کے وکیل جی این قریشی دلائل دیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینرڈاکٹرفاروق ستار نے بیرسٹرفروغ نسیم کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیاکہ کراچی میں حلقہ بندی کے ذریعے خاص لسانی گروہ کوفائدہ پہنچے گا،مردم شماری کے بغیر حلقہ بھی نہیں کی جاسکتی جبکہ حلقہ کسی شہر میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں کی جاتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی ازخود نوٹس (وطن پارٹی)کیس کے6اکتوبر2011کے فیصلے میں نئی حلقہ بندیوں کاحکم نہیں دیاتھا۔