سری لنکا حکومت مسلم اقلیت پر ظلم کا نوٹس لے

مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا سری لنکا کی حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے کیونکہ وہ اسی ملک کے باشندے ہیں۔

مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا سری لنکا کی حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے کیونکہ وہ اسی ملک کے باشندے ہیں۔ فوٹو : فائل

عالمی قوانین کے مطابق اقلیتوں کا تحفظ ہر ریاست کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے لیکن عصبیت و نسل پرستی کا شکار قومیں اپنی اقلیتوں پر مظالم سے باز نہیں آتی ہیں ۔ مسلمان اس خطے میں جہاں جہاں اقلیت میں ہیں وہیں ظلم وستم کا شکار ہیں۔

ابھی تو روہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم وستم کی سیاہی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ تشدد کا سلسلہ اب سری لنکا تک جا پہنچا ہے، ایک افواہ کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کی گئی، ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود بدھوں نے مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہ مسجد ، گھر، دکانیں اورگاڑیاں جلادیں ، متشدد گروہ نے سخت سیکیورٹی کے باوجود پٹرول بم سے حملے کیے، ان واقعات میں اب تک تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔


اقوام متحدہ اور امریکی سفارتخانے کی مذمت کے باوجود تشدد کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ سری لنکا تامل ٹائیگرزکی صورت میں ایک طویل خانہ جنگی کا سامنا کرچکا ہے ۔ ماضی میں سنہالیوں نے مسلمان اقلیت پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور اب دوبارہ تشدد کی لہرکا ابھرنا انتہائی تشویش کی علامت ہے۔ مسلمانوں پرکڑی آزمائش کا وقت ہے۔

بھارتی و کشمیری مسلمان تو ستر برس گزرنے کے باوجود مظالم کا شکار ہیں، روہنگیا کی المناک کہانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، لہذا بربریت کا سری لنکن سلسلہ روہنگیا مسلمانوں جیسا المیہ نہ بنے۔ سری لنکن وزیراعظم رانیل وکریمی سنگھا نے اپنے پیغام میں نسل پرستی اور تشدد کی مذمت کی ہے، صدر میتھری پالاسری سینا نے منگل کو ملک کی اکثریتی سنہالی آبادی کے ایک ہجوم کے ہاتھوں کاندی کے علاقے میں کئی مساجد، مسلمانوں کی دکانوں اور کاروبار پر حملوں کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

اس ضمن میں پاکستان کی تشویش بھی درست ہے، مسلمانوں کو ایک مذہبی اقلیت ہونے کے ناتے تحفظ فراہم کرنا اور جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا سری لنکا کی حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے کیونکہ وہ اسی ملک کے باشندے ہیں۔ اقوام متحدہ ، امریکا بلکہ دنیا کے تمام طاقتور ممالک کو اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے مسلم اقلیت پر مظالم کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ مسلم اقلیت کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔
Load Next Story