سیاسی مستقبل اور جلسوں کی حقیقت

آج بلاشبہ بایاں بازو اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے لیکن اس کے پاس نظریاتی ہتھیار اور ایک ایسا منشور ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پاکستان کی سیاست میں عشروں سے ایک جمود ایک ٹھہراؤکی کیفیت موجود ہے، قیام پاکستان کے بعد سے بھٹو کے دور تک سیاست میں ہلچل بھی محسوس ہوتی تھی اور عوام سیاسی سرگرمیوں میں حصہ بھی لیتے تھے لیکن بھٹو کے بعد نہ سیاست میں گہما گہمی رہی نہ عوامی سطح پر ہلچل نظر آتی ہے ۔ ہلچل تو آج بھی نظر آتی ہے لیکن یہ ہلچل مصنوعی اور فرمائشی ہوتی ہے۔

ہزاروں لاکھوں کے جلسے آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ جلسے عموماً فرمائشی ہوتے ہیں یا محض سیاسی کارکنوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ خاموش اکثریت ان فرمائشی اور سرکاری جلسوں سے دور بھاگتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ان فرمائشی جلسوں جلوسوں سے ان کی زندگی کے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لہٰذا وہ ان فرمائشی اور آرائشی جلسوں جلوسوں سے دور رہتی ہے فرمائشی اور آرائشی جلسوں جلوسوں کا مقصد محض اپنی اپنی جھوٹی طاقت کے مظاہرے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

قیام پاکستان کے بعد سے بھٹوکے دور تک عوام متحرک تھے اور جلسے جلوسوں میں شرکت کرکے اپنی سیاسی بیداری کا مظاہرہ کرتے تھے اس دور میں اچھا یا برا ہر پارٹی کا ایک منشور ہوتا تھا اور عوام اس منشور کے پس منظر میں سیاسی جماعتوں کی حمایت اور مخالفت کرتے تھے۔

حقیقی جلسوں اور جلوسوں کے مظاہرے سیاست میں بائیں بازوکی فعالیت تک ہوتے رہے، ٹریڈ یونین، کسانوں اور ہاریوں کی تنظیمیں وکلا اور ڈاکٹروں کی تنظیمیں بائیں بازوکا سرمایہ ہوتی تھیں لیکن روس چین کی نظریاتی جنگ کے ساتھ بائیں بازو میں ایک پھوٹ کا عنصر داخل ہوا اور آہستہ آہستہ بایاں بازو غیر فعال ہوتا رہا۔ بھٹو نے بائیں بازو کی سب سے بڑی طاقت ٹریڈ یونین کو ریاستی طاقت سے اس طرح کچل دیا کہ وہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔

اس صورتحال سے بائیں بازو میں ایک سخت مایوسی کی کیفیت پیدا ہوگئی، بائیں بازو کے کارکن مایوسی کا شکار ہوگئے۔ اس نازک موقع پر پیپلز پارٹی کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان بائیں بازو کے مایوس کارکنوں میں ایک روشنی کی کرن بن گیا اس پر بھٹو کی طلسماتی شخصیت نے عوام میں بیداری کی ایک روح پھونک دی اور روٹی کپڑا اور مکان کے جذباتی نعروں نے عوام کو پیپلز پارٹی کے قریب کردیا۔

پیپلز پارٹی کی کامیابی اور مقبولیت میں بائیں بازو کے کارکنوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا نیپ کی ٹوٹ پھوٹ اور غیر فعالیت سے مایوس بائیں بازو کے کارکن پیپلز پارٹی کی طاقت بن گئے لیکن بہت جلد بھٹو کا جاگیردار بھٹو کے روٹی کپڑا اور مکان کے نعروں کو چیرتا ہوا باہر آیا۔ پیپلز پارٹی کا مقبول عوام دستور بنانے اور عوام میں مقبول ہونے والے نعرے ایجاد کرنے والوں کے لیے پیپلز پارٹی کی زمین تنگ کردی گئی اور عوامی پارٹی کا نقاب اس وقت اترگیا جب بھٹو حکومت نے سائٹ اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں مزدوروں پرگولیاں چلائیں اور درجنوں مزدوروں کو شہید کردیا گیا یوں ٹریڈ یونین ختم ہوگئی ۔ عوامی بھٹو کے اندر سے جاگیردار بھٹو باہر آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جاگیردار اور وڈیرے پیپلز پارٹی پر چھا گئے۔


معراج محمد خان ، بھٹو کے دست راست بن گئے لیکن بہت جلد معراج اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی چھوڑنا پڑی۔ جن لوگوں نے پی پی پی کا منشور بنایا اور روٹی کپڑا اور مکان کے پرکشش نعرے ایجاد کیے اس سے بائیں بازوکے منتشر عوام پیپلز پارٹی کے قریب آگئے۔کیا یہ معراج برادری کی تاریخی غلطی تھی؟ اس کا جواب ہمارے سامنے موجود ہے۔

بھٹو صاحب ایک ماڈریٹ کی شکل میں عوام کے سامنے آئے اور عوام کو یہ گمان ہونے لگا کہ بھٹو ایک غیر متزلزل ارادوں کا مالک، عوامی رہنما ہے لیکن آہستہ آہستہ بھٹو صاحب حالات سے سمجھوتوں کی طرف بڑھنے لگے۔ 1971 کی جنگ کے بعد بھارت نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے شملہ کانفرنس کا اہتمام کیا۔ بھٹو شملہ کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے سے پہلے مختلف شہروں میں عوامی نمایندوں سے ملاقات کرکے ان کی رائے لینا چاہتے تھے۔

کراچی میں بھی شہر کے معروف رہنماؤں کو مشاورت کے لیے بلایا ہم بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ کانفرنس کیا ایک رسم ادائی تھی اس وقت سندھ کے ایک وزیر بہت بدنام ہو رہے تھے، دوران کانفرنس میں نے ذوالفقارعلی بھٹو سے ان محترم وزیر کے حوالے سے کہا کہ ان کی وجہ سے حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے۔ بھٹو نے جواب دیا اقتدار کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں جن کا خیال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یوں بات تو آئی گئی ہوگئی لیکن کانفرنس کے شرکا پر اس کا بہت منفی اثر پڑا اور اندازہ ہوا کہ اقتدارکی مجبوریاں انقلاب کی راہ کا پتھر کیسے بن جاتی ہیں۔

بہرحال یہ تو گزری ہوئی باتیں ہیں اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ایک مشکل اور مستقبل پر اثرانداز ہونے والے دوراہے پر کھڑا ہے ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو پاکستان کو اس گرداب سے نکالے عوام میں مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی پارٹیاں عوام میں مقبول نہیں بلکہ ان بھاری خرچ کے بھاری جلسوں میں مقبول ہیں۔جن میں عوام آتے نہیں لائے جاتے ہیں اور اس سونے پر سہاگہ یہ کہ سخت ادارتی ٹکراؤ کا خطرناک راستہ اختیار کیا جا رہا ہے جو ختم نہ ہوا یا ختم نہ کیا گیا تو ملک کی بقا کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ملک کے چاروں طرف ہماری خارجہ پالیسی کے ثمرات بڑی بھیانک شکل میں نظر آرہے ہیں اور اندرونی صورتحال سب پر عیاں ہے۔ اس کا ایک راستہ تو یہ ہے کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں اپنے تحفظات اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر ان طاقتوں کا راستہ روکیں جو جمہوریت کے نام پر خاندانی حکمرانیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں اور ملک کو ان مشکلات سے نکالیں جو ملک کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔

بلاشبہ عمران خان ایک عوامی لیڈر کہلا سکتا ہے لیکن وہ نہ ملک کی حقیقی صورتحال کا ادراک رکھتے ہیں نہ ملک کی خاموش اکثریت کو رائٹ ڈائریکشن میں متحرک کرسکتے ہیں نہ ہی اپنی پارٹی کے اندر کے تضادات کو حل کرسکتے ہیں۔ ہم نے بھٹو سے پہلے بائیں بازو کی متحرک سیاست کا ذکر کیا تھا۔

آج بلاشبہ بایاں بازو اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے لیکن اس کے پاس نظریاتی ہتھیار اور ایک ایسا منشور ہے جو مردوں میں جان ڈال سکتا ہے لیکن پارٹیوں کے نام پر کھڑے کیے جانے والے گروہوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے باہر آنا پڑے گا اور ان تمام ایک ایک اینٹ کی مسجدوں کو ڈھانا ہوگا جو غیر متحرک اور عوام سے کٹے ہوئے لیڈروں کے مورچے بنے ہوتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو وہ خلا پر ہوسکتا ہے جو سامنے کھڑا ہے۔
Load Next Story