ایف بی آر 12 ہزار 608 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کیلیے نوٹس جاری
نئی آڈٹ پالیسی کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر 2011 کیلیے منتخب کیا گیا
نئی آڈٹ پالیسی کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر 2011 کیلیے منتخب کیا گیا،انکم، سیلزٹیکس اور فیڈرل ایکسائز،تینوں ٹیکسوں کا الگ الگ آڈٹ کیا جائیگا، ذرائع۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے 12 ہزار 608 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔
اس ضمن میں ایف بی آر کے سینئر افسر نے گزشتہ روز،، ایکسپریس،، کو بتایا کہ جن ٹیکس دہندگان کو ٹیکس ائیر 2011 کے آڈٹ کیلئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، انہیں فروری 2012 کے آخری عشرے میں نئی آڈٹ پالیسی کے تحت کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر 2011 کے آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا تھا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز پر مشتمل تینوں ٹیکسوں کا الگ الگ آڈٹ کرنے کیلیے منتخب کیا گیا ہے اور جو ٹیکس دہندگان آڈٹ کیلیے منتخب ہوئے ہیں انہیں آڈٹ کیلیے 3 نوٹس بھجوائے جارہے ہیں۔
مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ قرعہ اندازی میں ایف بی آر کی طرف سے تینوں ٹیکسوں کے آڈٹ کیلیے انتخاب کے مقرر کردہ نئے پیرامیٹرز کے تناظر میں ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا ہے۔ ذرائع نئے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت ٹیکس دہندگان کو سیلز ٹیکس میں آڈٹ کیلیے منتخب کرنے کا الگ معیار مقرر کیا گیا اور انکم ٹیکس کیلیے الگ جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے الگ میعار مقرر کیا گیا اور اس کیلیے باقاعدہ پینل تشکیل دیے گئے جنکی نگرانی میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہوئی ہے۔
ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ مذکورہ تینوں ٹیکسوں کا آڈٹ تینوں قوانین انکم ٹیکس آرڈیننس،سیلز ٹیکس ایکٹ اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت کیا جارہا ہے اس لیے ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کیلیے ایک نوٹس بھجوانے کی بجائے الگ الگ 3 نوٹس بھجوائے جارہے ہیں اور جو ڈیمانڈ ریز ہوگی قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد وہ وصول کی جائیگی، جبکہ خلاف ورزی کرنے پر ٹیکس دہندگان کیخلاف متعلقہ ٹیکس قانون کے مطابق کاروائی کی جائیگی۔
ذرائع نے بتایا کہ کمپیوٹرائزد قرعہ اندازی کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے 856 ٹیکس دہندگان ،جبکہ نان کارپوریٹ سیکٹر کے 9ہزار 414 ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس میں 662 کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو اور 12 ہزار 608 نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلیے نوٹس جاری کیے گئے ہیںجبکہ 26 ٹیکس دہندگان کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے آڈٹ کیلیے منتخب نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ ایکسپریس کو دستیاب ٹیکس دہندگان کو جاری کردہ نوٹس کی کاپی کے مطابق ان نوٹسز میں ان ٹیکس دہندگان سے کہا گیا ہے کہ متعلقہ آر ٹی او اور ایل ٹی یو کے ٹیکس حکام کو بُک آف اکاونٹس سمیت دیگر متعلقہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے تاکہ آڈٹ مکمل کیا جاسکے۔
اس ضمن میں ایف بی آر کے سینئر افسر نے گزشتہ روز،، ایکسپریس،، کو بتایا کہ جن ٹیکس دہندگان کو ٹیکس ائیر 2011 کے آڈٹ کیلئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، انہیں فروری 2012 کے آخری عشرے میں نئی آڈٹ پالیسی کے تحت کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر 2011 کے آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا تھا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز پر مشتمل تینوں ٹیکسوں کا الگ الگ آڈٹ کرنے کیلیے منتخب کیا گیا ہے اور جو ٹیکس دہندگان آڈٹ کیلیے منتخب ہوئے ہیں انہیں آڈٹ کیلیے 3 نوٹس بھجوائے جارہے ہیں۔
مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ قرعہ اندازی میں ایف بی آر کی طرف سے تینوں ٹیکسوں کے آڈٹ کیلیے انتخاب کے مقرر کردہ نئے پیرامیٹرز کے تناظر میں ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا ہے۔ ذرائع نئے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت ٹیکس دہندگان کو سیلز ٹیکس میں آڈٹ کیلیے منتخب کرنے کا الگ معیار مقرر کیا گیا اور انکم ٹیکس کیلیے الگ جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے الگ میعار مقرر کیا گیا اور اس کیلیے باقاعدہ پینل تشکیل دیے گئے جنکی نگرانی میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہوئی ہے۔
ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ مذکورہ تینوں ٹیکسوں کا آڈٹ تینوں قوانین انکم ٹیکس آرڈیننس،سیلز ٹیکس ایکٹ اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت کیا جارہا ہے اس لیے ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کیلیے ایک نوٹس بھجوانے کی بجائے الگ الگ 3 نوٹس بھجوائے جارہے ہیں اور جو ڈیمانڈ ریز ہوگی قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد وہ وصول کی جائیگی، جبکہ خلاف ورزی کرنے پر ٹیکس دہندگان کیخلاف متعلقہ ٹیکس قانون کے مطابق کاروائی کی جائیگی۔
ذرائع نے بتایا کہ کمپیوٹرائزد قرعہ اندازی کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے 856 ٹیکس دہندگان ،جبکہ نان کارپوریٹ سیکٹر کے 9ہزار 414 ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس میں 662 کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو اور 12 ہزار 608 نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلیے نوٹس جاری کیے گئے ہیںجبکہ 26 ٹیکس دہندگان کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے آڈٹ کیلیے منتخب نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ ایکسپریس کو دستیاب ٹیکس دہندگان کو جاری کردہ نوٹس کی کاپی کے مطابق ان نوٹسز میں ان ٹیکس دہندگان سے کہا گیا ہے کہ متعلقہ آر ٹی او اور ایل ٹی یو کے ٹیکس حکام کو بُک آف اکاونٹس سمیت دیگر متعلقہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے تاکہ آڈٹ مکمل کیا جاسکے۔