برآمدی صنعتوں نے گیس کا نیا لوڈ مینجمنٹ شیڈول مسترد کردیا
گیس کمپنی کا یہ فیصلہ بحران کی شکار صنعتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،ٹاول مینوفیکچررز
گیس کمپنی کا یہ فیصلہ بحران کی شکار صنعتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،ٹاول مینوفیکچررز فوٹو: فائل
KARACHI:
برآمدی صنعتوں نے ایس ایس جی سی کے 13 اپریل سے12 مئی2013 کے نئے لوڈمنیجمنٹ شیڈول کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کمپنی کا یہ فیصلہ پہلے سے بحران کی شکار صنعتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مہتاب الدین چائولہ نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ بنیادوں پرگیس لوڈ منیجمنٹ کے نئے شیڈول کے بعد رواں مالی سال میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں2 ارب ڈالر کی کمی کا باعث بن جائے گا کیونکہ رواں سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی مجموعی برآمدات کا حجم 12 ارب ڈالر تک پہنچنا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے موسم گرما میں صنعتوں کو قدرتی گیس کی سپلائی معمول پر لانے، ہفتہ وار بندش کے خاتمے اور صنعتوں کو کم گیس پریشرکی شکایات رفع کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن متعلقہ گیس کمپنی کی جانب سے ان یقین دہانیوں پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے جو افسوسناک امر ہے، مہتاب چائولہ نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک جانب تو صنعتوں کوکم مقدار میں گیس سپلائی کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب گیس کمپنی نے200 سی این جی اسٹیشنز کو لائسنس جاری کردیے ہیں جو تعجب خیز اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتیں نہ صرف وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع فراہم کررہی ہیں بلکہ قومی خزانے میں بڑے پیمانے پر محصولات کی ادائیگیوں کے ساتھ اپنی مدد آپ کے تحت عالمی منڈیوں میں جارحانہ مارکیٹنگ اور پیداواری سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کمارہی ہیں لیکن ان حقائق کو بالائے طاق رکھکر ایس ایس جی سی نے موسم گرما میں بھی صنعتوں کو دو دن گیس کی بندش کا نیا شیڈول جاری کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس نئے شیڈول کے نتیجے میں برآمدی صنعتوں کی غیرملکی سرمائے میں ہونے والی آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی جسکے منفی اثرات کسٹم ڈیوٹی، سیلزٹیکس سمیت دیگر محصولات کی وصولیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں طویل دورانیے سے جاری توانائی کے سنگین بحران کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان اپنے بیرونی خریداروں کو مقررہ مدت میں کنسائمنٹس کی ترسیل سے قاصر ہوگئے ہیں جسکے سبب پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے غیرملکی خریداروں کی ایک بڑی تعداد اب پاکستان کو نئے آرڈرز دینے سے کترارہے ہیں، ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے صدرمملکت اور نگراں وزیراعظم سے اس حساس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ سطحی مداخلت کے بعد ہی گیس فراہم کرنے والی کمپنی کو زمینی حقائق سے آگاہی کے ساتھ معیشت میںبرآمدات اور زرمبادلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے گا۔
برآمدی صنعتوں نے ایس ایس جی سی کے 13 اپریل سے12 مئی2013 کے نئے لوڈمنیجمنٹ شیڈول کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کمپنی کا یہ فیصلہ پہلے سے بحران کی شکار صنعتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مہتاب الدین چائولہ نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ بنیادوں پرگیس لوڈ منیجمنٹ کے نئے شیڈول کے بعد رواں مالی سال میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں2 ارب ڈالر کی کمی کا باعث بن جائے گا کیونکہ رواں سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی مجموعی برآمدات کا حجم 12 ارب ڈالر تک پہنچنا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے موسم گرما میں صنعتوں کو قدرتی گیس کی سپلائی معمول پر لانے، ہفتہ وار بندش کے خاتمے اور صنعتوں کو کم گیس پریشرکی شکایات رفع کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن متعلقہ گیس کمپنی کی جانب سے ان یقین دہانیوں پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے جو افسوسناک امر ہے، مہتاب چائولہ نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک جانب تو صنعتوں کوکم مقدار میں گیس سپلائی کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب گیس کمپنی نے200 سی این جی اسٹیشنز کو لائسنس جاری کردیے ہیں جو تعجب خیز اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتیں نہ صرف وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع فراہم کررہی ہیں بلکہ قومی خزانے میں بڑے پیمانے پر محصولات کی ادائیگیوں کے ساتھ اپنی مدد آپ کے تحت عالمی منڈیوں میں جارحانہ مارکیٹنگ اور پیداواری سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کمارہی ہیں لیکن ان حقائق کو بالائے طاق رکھکر ایس ایس جی سی نے موسم گرما میں بھی صنعتوں کو دو دن گیس کی بندش کا نیا شیڈول جاری کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس نئے شیڈول کے نتیجے میں برآمدی صنعتوں کی غیرملکی سرمائے میں ہونے والی آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی جسکے منفی اثرات کسٹم ڈیوٹی، سیلزٹیکس سمیت دیگر محصولات کی وصولیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں طویل دورانیے سے جاری توانائی کے سنگین بحران کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان اپنے بیرونی خریداروں کو مقررہ مدت میں کنسائمنٹس کی ترسیل سے قاصر ہوگئے ہیں جسکے سبب پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے غیرملکی خریداروں کی ایک بڑی تعداد اب پاکستان کو نئے آرڈرز دینے سے کترارہے ہیں، ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے صدرمملکت اور نگراں وزیراعظم سے اس حساس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ سطحی مداخلت کے بعد ہی گیس فراہم کرنے والی کمپنی کو زمینی حقائق سے آگاہی کے ساتھ معیشت میںبرآمدات اور زرمبادلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے گا۔