ون ڈے کرکٹ چھوڑو کوچنگ کرو راشد کا یونس کو مشورہ
بیٹسمین کو ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنا بہتر فیصلہ ہوگا،سابق قائد
بیٹسمین کو ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنا بہتر فیصلہ ہوگا،سابق قائد۔ فوٹو: فائل
راشد لطیف نے یونس خان کو ون ڈے کرکٹ چھوڑ کر کوچنگ شروع کرنے کا مشورہ دے دیا۔
سابق کپتان کا کہنا ہے کہ تجربہ کار بیٹسمین کو قومی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنا بہتر فیصلہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کیلیے ممکنہ 30کھلاڑیوں کی فہرست میں ہی شامل نہ کیے جانے کے بعد یونس خان کا مستقبل خدشات میں گھرا ہوا ہے، جنوبی افریقہ میں توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہنے والے تجربہ کار بیٹسمین کو راشد لطیف نے بھی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہو کر کوچنگ میں کیریئر بنانے کا مشورہ دیدیا۔
ایک انٹرویو میں سابق وکٹ کیپر نے کہا ہے کہ یونس نے ایک شاندار کھلاڑی کی حیثیت سے پاکستان کیلیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں مگر اب وہ اپنا عروج کا وقت گزار چکے، بہترین موقع ہے کہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں، انھیں قومی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنا اچھا فیصلہ ہوگا، واٹمور کے جانے کے بعد کوچنگ شعبے کے سربراہ کی مکمل ذمہ داریاں بھی سپرد کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ 35 سالہ یونس نے چند سال قبل لیول ٹو کوچنگ کورس بھی مکمل کیا تھا، پی سی بی نے بیٹنگ کوچ کی تقرری کا فیصلہ کرکے موزوں ملکی اور غیر ملکی امیدواروں سے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں، اس حوالے سے قائم کی جانے والی کمیٹی تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی، البتہ چیئرمین بورڈ ذکا اشرف آئندہ انٹرنیشنل ٹور سے قبل حتمی انتخاب کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ جون میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی سے قبل یونس خان کی خدمات بطور اسسٹنٹ کوچ حاصل کرلی جائیں تو ان کا تجربہ ٹیم کی رہنمائی میں خاصا سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ یاد رہے راشد خود کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہو گئے تھے اور ان دنوں پورٹ قاسم اتھارٹی کے پلیئرز کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
سابق کپتان کا کہنا ہے کہ تجربہ کار بیٹسمین کو قومی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنا بہتر فیصلہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کیلیے ممکنہ 30کھلاڑیوں کی فہرست میں ہی شامل نہ کیے جانے کے بعد یونس خان کا مستقبل خدشات میں گھرا ہوا ہے، جنوبی افریقہ میں توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہنے والے تجربہ کار بیٹسمین کو راشد لطیف نے بھی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہو کر کوچنگ میں کیریئر بنانے کا مشورہ دیدیا۔
ایک انٹرویو میں سابق وکٹ کیپر نے کہا ہے کہ یونس نے ایک شاندار کھلاڑی کی حیثیت سے پاکستان کیلیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں مگر اب وہ اپنا عروج کا وقت گزار چکے، بہترین موقع ہے کہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں، انھیں قومی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنا اچھا فیصلہ ہوگا، واٹمور کے جانے کے بعد کوچنگ شعبے کے سربراہ کی مکمل ذمہ داریاں بھی سپرد کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ 35 سالہ یونس نے چند سال قبل لیول ٹو کوچنگ کورس بھی مکمل کیا تھا، پی سی بی نے بیٹنگ کوچ کی تقرری کا فیصلہ کرکے موزوں ملکی اور غیر ملکی امیدواروں سے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں، اس حوالے سے قائم کی جانے والی کمیٹی تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی، البتہ چیئرمین بورڈ ذکا اشرف آئندہ انٹرنیشنل ٹور سے قبل حتمی انتخاب کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ جون میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی سے قبل یونس خان کی خدمات بطور اسسٹنٹ کوچ حاصل کرلی جائیں تو ان کا تجربہ ٹیم کی رہنمائی میں خاصا سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ یاد رہے راشد خود کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہو گئے تھے اور ان دنوں پورٹ قاسم اتھارٹی کے پلیئرز کی رہنمائی کر رہے ہیں۔