میانمارفوج کا روہنگیا مسلمانوں کے گھروں پرقبضہ
جرائم کے ثبوت مٹانے کیلیے دیہات کو مسمار کرنے لگے، مظالم کیلیے نئے بیس قائم۔
میانمار کی فوج نےبچوں، بزرگوں اور معذور افراد کو جلایا اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ،رپورٹ- فوٹو: فائل
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق میانمار کی ریاست رخائن میں فوج روہنگیا مسلمانوں خلاف کیے گئے جرائم کو چھپانے کیلیے دیہات کو مسمار کر کے نئے سرے سے تعمیر کررہی ہے اور یہاں خوفناک شکل میں فوجیوں کو تعینات کررہی ہے۔
ترک خبر رساں ادارے نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رخائن کی تعمیر نو نامی رپورٹ کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ میانمارکی مسلح افواج نے تشددکے واقعات کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر جانے والے روہنگیا مسلمانوں کے رہائشی علاقے پرقبضہ کرلیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بحرانی یونٹ کی منتظم تیرانہ حسن نے کہاہے کہ علاقے میں خوفناک شکل میں فوجی تعیناتی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کے ثبوتوں کوختم کردیاہے اور اب روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی جرائم میں ملوث سیکیورٹی فورسزکی طرف سے نئے بیس قائم کیے جارہے ہیں۔
تیرانہ حسن نے کہاکہ اس صورت حال نے روہنگیا مہاجرین کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کو مزید محال کردیاہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو نسل کشی قرار دے رہی ہیں۔
ترک خبر رساں ادارے نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رخائن کی تعمیر نو نامی رپورٹ کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ میانمارکی مسلح افواج نے تشددکے واقعات کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر جانے والے روہنگیا مسلمانوں کے رہائشی علاقے پرقبضہ کرلیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بحرانی یونٹ کی منتظم تیرانہ حسن نے کہاہے کہ علاقے میں خوفناک شکل میں فوجی تعیناتی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کے ثبوتوں کوختم کردیاہے اور اب روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی جرائم میں ملوث سیکیورٹی فورسزکی طرف سے نئے بیس قائم کیے جارہے ہیں۔
تیرانہ حسن نے کہاکہ اس صورت حال نے روہنگیا مہاجرین کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کو مزید محال کردیاہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو نسل کشی قرار دے رہی ہیں۔