پاکستان کی امداد دولت مندوں پر ٹیکس بڑھانے سے مشروط کی جائے برطانوی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش

امدادکا آڈٹ کرایا جائے، میڈیا،صحت اور تعلیم کے شعبوں میں امداد کیلیے ہم برطانوی ٹیکس گزاروں کو کیسے مجبور کریں

امدادکا آڈٹ کرایا جائے، میڈیا،صحت اور تعلیم کے شعبوں میں امداد کیلیے ہم برطانوی ٹیکس گزاروں کو کیسے مجبور کریں فوٹو : فائل

برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ پاکستان کی امداد دولتمندوں پر ٹیکس بڑھانے سے مشروط کی جائے۔

واضح رہے کہ 2014-15 میں پاکستان کو برطانوی امداد دگنی کرکے ساڑھے4 4کروڑ برطانوی پائونڈ(ساڑھے67کروڑڈالر) کرنے کے منصوبے کی منظوری کے بعد پاکستان کو سب سے زیادہ برطانوی امداد کا اجرا ہوگا۔ پارلیمنٹ کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی کی ایک رپورٹ میںبتایا گیاکہ جب تک مئی میں منتخب ہونے والی پاکستانی حکومت بے انتہا بدعنوانی اور ٹیکس چوری پر قابو نہ پالے یہ برطانیہ کیلیے نامناسب ہوگا کہ وہ پاکستان کو صحت اور تعلیم کے شعبے میں امداد فراہم کرے ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر پاکستان کے دولت مند افراد ٹیکس نہ دیں تو ہم برطانوی عوام سے یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ وہ پاکستان میں صحت اور تعلیم کی بہتری کیلیے ٹیکس ادا کریں۔ رپورٹ میں پاکستان کے بورڈ آف ریونیو کے اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں صرف0.57فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں، یہاںگذشتہ 25سال میں کسی پر ٹیکس چوری کا مقدمہ ہی نہیں بنایا گیا۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے 30فیصد سے بھی کم ارکان ٹیکس گزار ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے مذکورہ بالا رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان امداد کے بجائے تجارت چاہتاہے۔




 

ہم الیکشن کے بعد منتخب ہونے والی حکومت کو ٹیکس نظام میں اصلاحات کیلیے آئی ایم ایف کی مشاورت کے حصول میں رہنمائی کریں گے۔ ٹیکس اور اقتصادی اصلاحات ہرصورت نافذ کی جائیں گی۔آئی این پی کے مطابق برطانوی میڈیانے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مبینہ طورپرغلط استعمال پرکڑی تنقیدکرتے ہوئے کہاہے کہ برطانوی عوام کی ٹیکسوں سے ایک ایسے ملک کوامداددی جارہی ہے۔

جہاں یہ پیسہ سیاسی فوائد کے حصول میں بہایاجارہاہے ۔برطانوی پارلیمانی انکوائری کے سامنے ایک اہم اقتصادی ماہر نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام صدر آصف علی زرداری اور ان کی جماعت کیلیے حمایت خریدنے کی غرض سے استعمال کیا جارہا ہے۔آئی این پی کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے برطانوی حکومت اور عالمی اداروں کی طرف سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلیے ملنے والے فنڈ کو پیپلزپاٹی کی انتخابی مہم کیلیے استعمال کرنے اور پروگرام کی سابق چیئرپرسن فرزانہ راجا کے ذاتی دوروں پر بھاری اخراجات اور کروڑوں کے سامان کی خریداری میں مبینہ کرپشن کا نوٹس لیتے ہوئے 5 سال کے دوران کئی ارب روپے کے فنڈ کے استعمال کی تحقیقات کا فیصلہ a
Load Next Story