لاہور ہائیکورٹ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کام سے روک دیا اسمبلیوں میں غلط آدمی پہنچنے نہ پائے عدالت

پابندی کے باوجود تقرری دھاندلی کے مترادف ہے،شفاف انتخابات کیلیے عدالت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی، جسٹس منصور

یوٹیلٹی بلزنہ دینے والے امیدواروں کو الیکشن سے روکنے کی درخواست مسترد، بیلٹ پیپر میں خالی خانہ شامل کرنیکا اقدام چیلنج فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ صاف شفاف انتخابات کروانے کے لیے عدالت اپنا بھرپور کردار اداکریگی۔

الیکشن کمیشن کو رہ جانے والی خامیاں دورکرنی ہیں، عدالت بالکل نہیں چاہتی کہ اسمبلیوں میں جھوٹے اور ایسے افراد آئیں جو قانون توڑتے ہیں اور ٹیکس ادانہیں کرتے، یہ آئینی اور قانونی ذمے داری ہے۔ فاضل جج نیڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک اشرف محمود وتھراکوکام کرنے سے روکتے ہوئے مزید سماعت5 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ صاف اور شفاف الیکشن کروانے کیلیے عدالت کے روبرو تمام ڈائریکٹو آرڈرز اور دیگر دستاویزات پیش کی جائیں۔




درخواست گزارکی جانب سے عدالت کوبتایاگیا کہ ڈپٹی گورنر کی تعیناتی کا اقدام غیرقانونی اوربدنیتی پر مبنی ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ پابندی کے باوجود تقرریوں کامطلب پری پول رگنگ کے مترادف ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی میں چاہے جتنی دیر ہو جائے لیکن کوئی غلط شخص اسمبلیوں میں نہیں پہنچنا چاہیے۔ اشرف محمودوتھرا کے وکیل نے عدالت کویقین دہانی کروائی کہ وہ فوری طورپرکام کرناچھوڑ دیں گے اوراِس کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی جائے۔

دریں اثناء لاہورہائیکورٹ نے یوٹیلیٹی بلزادانہ کرنے والے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے دائردرخواست مستردکرتے ہوئے قراردیا ہے کہ سزا یافتہ امیدوار5 سال بعدانتخابات میں دوبارہ حصہ لے سکتا ہے تویوٹیلٹی بلزاداکرنے والے امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے سے کیسے روکاجاسکتاہے؟۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپر میں خالی خانہ رکھے جانیکے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کردیا گیا۔
Load Next Story