موبائل فون کی درآمد پر سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہینڈ سیٹس مہنگے اور اسمگلنگ بڑھنے کا خدشہ

اسمارٹ وسٹیلائٹ فون1000اوردیگراقسام کے موبائل ہینڈ سیٹ کی درآمد و سپلائی پر500روپے فی یونٹ سیلزٹیکس عائد،ایس آراوجاری.

موبائل فون کی درآمد میں60سے 70فیصدتک کمی،اسمگلنگ میں اضافہ، ریونیو شارٹ فال بڑھے گا،درآمدکنندگان اور ڈیلرزنے فیصلے کو تاجردشمن قراردے دیا فوٹو: فائل

وزارت خزانہ نے ایف بی آر کے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کی غرض سے مختلف اقسام کے موبائل فونز کی درآمدوسپلائی پر500 اور 1000 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس عائد کردیا ہے۔

جس کے نتیجے میں موبائل فون مہنگے ہونے کے علاوہ ہینڈسیٹ کی اسمگلنگ پروان چڑھنے اور قانونی درآمدات60 تا70 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے۔ جمعہ کو وفاقی خزانہ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے ایس آراو280 نے موبائل فون مارکیٹ میں زبردست ہلچل پیدا کردی کیونکہ جاری کردہ ایس آر او میں کہا گیا ہے کہ 4 جی بی یا اس سے زائد بیسک میموری، آئی او ایس یا Android v2.5 ، بلیک بیری، ٹچ اسکرین، 5 میگاپکسل یا اس زائد استعداد کے کیمرے کے حامل ڈوئل کور یا اس سے زائد کے پروسیسرزکے حامل اسمارٹ فون اور سیٹلائٹ فونز کی درآمد پر فی یونٹ1000 روپے جبکہ دیگر عام نوعیت کے موبائل فونز پر500 روپے سیلزٹیکس عائد کردیا ہے۔

تاہم موبائل فونز کے درآمدکنندگان، کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اے ایف یو کے چیئرمین مرزاحنان بیگ اور کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ادریس میمن نے وزارت خزانہ کے اس فیصلے کو تاجردشمن فیصلہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ نگراں حکومت بیوروکریسی کی تاجردشمن پالیسیوں کا نوٹس لے کیونکہ وزارت خزانہ اپنے اس نئے اقدام کے ذریعے پاکستان میں موبائل فونز کی اسمگلنگ کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ہی ایف بی آر کی جانب سے موبائل فون کی درآمد پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد تک بڑھائی گئی ہے اور ایف بی آر کی جانب سے یکطرفہ بنیادوں پر غیردانشمندانہ اقدامات کے باوجود ریونیو شارٹ فال پورا نہ ہونے پر مزید غیرمنصفانہ فیصلے کیے جارہے ہیں جسے موجودہ نگراں حکومت کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔




کیونکہ حالیہ اقدام کے نتیجے میں ایمانداری کے ساتھ موبائل فون کی درآمد پر ریونیو دینے والوں میں مایوسی پھیل گئی ہے اور یہ مایوسی اسمگلنگ کے فروغ کا باعث بنے گی۔ موبائل مارکیٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ایس آراونمبر542 مجریہ 2008 کو منسوخ کرکے غیردانشمندانہ فیصلہ کیا ہے، ماضی میں بھی موبائل فونز کی درآمد پراسی نوعیت کا ٹیکس عائدکیا گیا تھا جسکے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان میں موبائل فونز کی قانونی درآمدات60 ہزار یونٹس سے بڑھ کر20 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی تھی لیکن وزارت خزانہ کے تازہ ترین فیصلے سے ملک میں قانونی طور پر درآمد ہونے والے 10 لاکھ برانڈڈ موبائل فونز اور12 لاکھ غیربرانڈڈفونز کی درآمدات خطرے میں پڑگئی ہے اور اس عام ضرورت کے آئٹم کے اسمگلنگ ریجیم میں آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

جو نہ صرف قانونی درآمدکنندگان کی حوصلہ شکنی بلکہ ایف بی آر کے ریونیو شارٹ فال کو مزید بڑھانے کابھی باعث بنے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کو ہی کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ادریس میمن نے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم ودیگر ممبرایف بی آر سے رابطے کیے لیکن ایف بی آر حکام کی جانب سے رابطہ رکھنے سے گریز کیا گیا۔ انہوں نے نگراں وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف بی آر یکطرفہ اور جارحانہ فیصلوں کی مانیٹرنگ کرکے انکے غیرمنصفانہ فیصلوں کو واپس لینے کا پابند بنائیں تاکہ ملک میں تجارتی وصنعتی سرگرمیاں بلارکاوٹ بحال رہ سکیں کیونکہ مذکورہ اقدام کے بعد موبائل فون کے درآمدکنندگان تاجروں اور مارکیٹ ریٹیلرز میں زبردست اشتعال پایا جارہا ہے۔
Load Next Story