20اپریل سے کیمپ وسیم فیوز ہوتی پیس بیٹری چارج کرینگے

سوئنگ کے سلطان نے پیسرزکی بنیادی خامیاں دور کرکے ذہنی مضبوط بنانے کیلیے کمر کس لی۔

سابق کپتان چیمپئنز ٹرافی سے قبل اور دوران گرین شرٹس کی رہنمائی جاری رکھنے پر آمادہ، تھوڑی توجہ اور محنت سے بولرز کے مسائل کو دورکیا جاسکتا ہے،وسیم اکرم فوٹو: فائل

پاکستان کی فیوز ہوتی پیس بیٹری کو سابق کپتان وسیم اکرم 20اپریل سے چارج کرینگے،فاسٹ بولرز کیمپ کا ابتدائی مرحلہ29 تاریخ تک کراچی میں جاری رہے گا۔

سوئنگ کے سلطان نے پیسرز کی بنیادی خامیاں دور کرنے اور انھیں ذہنی و اعصابی طور پر مضبوط بنانے کیلیے کمر کس لی،3 نوجوان اسپیڈ اسٹار بھی قومی کھلاڑیوں کے ساتھ ٹریننگ کا موقع پائیں گے، وسیم اکرم نے چیمپئنز ٹرافی سے قبل اور دوران بھی گرین شرٹس کی رہنمائی جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت اور آسٹریلیا کے بعدآخر کار پاکستانی بولرز کو بھی وسیم اکرم کے قیمتی مشوروں سے استفادہ پانے کا موقع ہاتھ آگیا، سوئنگ ماسٹر ایک ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت پہلے10شہروں سے 140سے زائد اسپیڈ کے حامل بولرز تلاش کریں گے۔

ان میں سے3 کو قومی کیمپ کا حصہ بنایا جائے گا، پروگرام کے اختتام پر150رفتار کے حامل بولر کو10لاکھ روپے کا خصوصی انعام دیا جائے گا، اگر اس اسپیڈ کو عبور کرنے والے زیادہ بولرز ہوئے تو فاتح کا فیصلہ کرنے کیلیے باہمی مقابلہ کرایا جائے گا۔ بعد ازاں وسیم اکرم قومی ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی کیلیے ایبٹ آباد میں تربیتی کیمپ کے دوران بھی چند روز تک بولرز کو ٹپس دینگے، سابق کپتان کا کہنا ہے کہ جون میں انگلینڈ میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی میری پاکستانی پلیئرز کے ساتھ آخری اسائنمنٹ نہیں ہوگی۔

جب بھی موقع ملا رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے گذشتہ سال سری لنکا میں ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بولرز کی کارکردگی میں بہتری کیلیے کام کرنے کو کہا تھا، بعد ازاں بھی مسلسل رابطہ رہا،کبھی میری مصروفیات آڑے آجاتیں تو کبھی قومی کھلاڑیوں کا انٹرنیشنل شیڈول اجازت نہ دیتا، مگر اب کافی عرصے بعد پاکستان میں کچھ وقت گذارنے کیلیے 2 ماہ کی چھٹی لی ہے۔




انھوں نے کہا کہ نیا ٹیلنٹ تلاش کرتے ہوئے صرف اسپیڈ پر توجہ ہوگی، پہلی شرط بولر کا واقعی فاسٹ ہونا ہے، بعد ازاں اسے تکنیکی امور سکھانا مشکل نہیں ہوتا،کسی پیسر کا ایکشن تبدیل کرنے کی بھی کوشش نہیں کروں گا، ایسا کرنے سے قدرتی رفتار پر خاصا فرق پڑ جاتا ہے، تربیتی کیمپ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بولرز کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہوں، عمر گل ایک سینئر بولر ہیں مگر فارمیٹ بدلتے ہی کارکردگی مختلف ہوجاتی ہے، انھیں صرف چند باتیں سمجھانا ہی کافی ہوگا، جنید خان کو بتاؤں گا کہ انھیںگیند اندر کی طرف لانے میں دشواری کیوں پیش آتی ہے۔

ون ڈے جیسی پرفارمنس ٹیسٹ میں کیوں نہیں ہوتی، دیگربولرز کے بھی کئی انفرادی مسائل ہیں جنھیں تھوڑی توجہ اور محنت سے دورکیا جاسکتا ہے، انھوں نے کہا کہ میری رہنمائی سے محمد عرفان سمیت لیفٹ آرمرز کو خاص طور پر اپنے کھیل میں بہتری لانے کا موقع ملے گا، ون ڈے کرکٹ کے نئے قوانین نے بولرز کیلیے چیلنجز میں اضافہ کیا ہے جن کا اچھے انداز میں سامنا کرنے کیلیے مدد کروں گا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ کیمپ کے دوران بہتر نتائج حاصل کرنے کیلیے شیڈول ترتیب دیا جائے گا۔

صبح 9 سے 11بجے تک ٹریننگ میں مطلوبہ فٹنس کے حصول پر توجہ دیں گے،نصف گھنٹے تک پیسرز کے سوالات سنوں گا اور مسائل کے حل کیلیے بات چیت ہوگی، سہ پہر3بجے سے سورج غروب ہونے تک بولنگ پریکٹس میں عملی طور تکنیکی خامیاں درست کی جائیں گی، نئے ٹیلنٹ کو اپنے قومی کھلاڑیوں کے ساتھ تربیت کا موقع ملے گاتو کھیل میں نمایاں بہتری آئے گی اور وہ روشن کیریئر کی طرف سفر شروع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ابھی سے ورلڈ کپ 2015ء کی تیاری کرنا ہوگی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں شیڈول میگا ایونٹ میں گرین پچز پر2 سفید گیندوں کا استعمال ہوگا۔

بیٹنگ لائن کی ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ بولرز کو بھی سیکھنا ہوگا کہ ہر گرین ٹاپ پچ پر آپ کو زیادہ چالاکی دکھانے کے بجائے لائن اور لینتھ کنٹرول میں رکھتے ہوئے وکٹ سے مدد لینا ہوتی ہے، فاسٹ پچ دیکھ کر زیادہ ہی جوش میں آنے والے ایشیائی پیسرز اکثر ناکام ہوجاتے ہیں۔ سخت موسم میں کیمپ کے سوال پر انھوں نے کہا کہ فاسٹ بولر بننا ہے تو سختیاں برداشت کرنے اور سلو وکٹوں پر بھی جان لڑانے کا حوصلہ ہونا چاہیے،ماضی میں میرے ساتھ وقار یونس اور عاقب جاوید بھی گرمی میں لمبے اسپیلز کراتے رہے ہیں، ایک بار آپ مشکل کنڈیشنز میں کھیل جائیں تو انگلینڈ اور آسٹریلیا میں پرفارم کرتے ہوئے کوئی دشواری نہیں ہوتی۔
Load Next Story