محمد آصف کو اعلان کردہ انعامی رقوم نہ مل سکیں

جب کوئی خواب دکھائے اور پورا نہ کرے تو بہت تکلیف ہوتی ہے،اسنوکر چیمپئن

جب کوئی خواب دکھائے اور پورا نہ کرے تو بہت تکلیف ہوتی ہے،اسنوکر چیمپئن۔ فوٹو: فائل

عالمی اسنوکر چیمپئن محمد آصف کو تین سابق وزرائے اعلیٰ کی جانب سے اعلان کردہ انعامی رقوم نہ مل سکیں۔

انھیں وہ ایک کروڑ روپے بھی نہیں ملے جس کا اعلان سابق وفاقی وزیر میر ہزار بجارانی نے کیا تھا، یہ رقم قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت ہر اولمپک گولڈ میڈلسٹ یا ورلڈ چیمپئن کے لیے مختص کی گئی ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے محمد آصف نے کہا کہ جب کوئی آپ کو خواب دکھائے اور اسے پورا نہ کرے تو بہت تکلیف ہوتی ہے، مجھے امید تھی کہ عالمی اعزاز میری قسمت بدل دے گا۔




اگر وعدے کے مطابق اعلان کردہ انعامی رقم وقت پر مل جاتی تو میں پروفیشنل اسنوکر سرکٹ میں قسمت آزمائی کا خواب پورا کر سکتا تھا لیکن اب میرے پاس اس کے لیے رقم موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہاکہ انگلینڈ میں پروفیشنل اسنوکر سیزن شروع ہونے والا ہے اور اگر مجھے اسپانسر مل گیا تو ضرور اس میں حصہ لوں گا، میں اس سال عالمی امیچر اسنوکر چیمپئن شپ میں اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کرنا چاہتا تاہم اگر پروفیشنل سرکٹ میں جانے کا موقع نہ مل سکا تو پھر عالمی ایونٹ کی تیاری کروں گا۔ عالمی چیمپئن نے مزید کہا کہمیں اپنے آبائی شہر فیصل آباد میں اسنوکر اکیڈمی قائم کرنا چاہتا تھا۔

لیکن یہ خواب بھی اسی وقت حقیقت کا روپ دھارے گا جب میرے ہاتھ میں پیسہ آئے گا۔محمد آصف نے کہاکہ ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم ملنے میں تاخیر کی وجہ سرکاری طریقہ کار بنا جو مختلف مراحل سے گزر کر مکمل ہوتا ہے، مجھے بار بار یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ رقم جلد مل جائے گی۔محمد آصف کے خیال میں اسنوکر کی حالت بدلنے کی ضرورت ہے، اس کھیل میں پاکستان دو بار عالمی چیمپئن بنا لیکن اسپانسرشپ نہ ہونے کے سبب کھلاڑی مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں، میں خود ورلڈ چیمپئن ہوں لیکن میرے پاس بھی کوئی ملازمت نہیں ہے۔
Load Next Story