الیکشن کا ماحول صاف اور شفاف نہیںعاصمہ ارباب عالمگیر

الیکشن کے لیے گھر گھر رابطہ عوام مہم چلانا بہت مشکل ہے،امیر حیدر ہوتی۔

حکومت صحافیوں کو بلٹ پروف جیکٹس فراہم کرے،ناصر حسین، لائیو ود طلعت میں گفتگو. فوٹو: فائل

اے این پی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ ان انتخابات کا موازنہ 2008 میں ہونے والے انتخابات سے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب سیکیورٹی کی صورتحال ویسی نہیں ہے جیسی پچھلے انتخابات میں مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا میں تھی۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت کے میزبان طلعت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گھر گھر جا کر رابطہ عوام مہم چلانا، جلسے کرنا اور وقت بے وقت گھر سے نکلنا خصوصاً شام کے وقت ان علاقوں میں جانا جو فاٹا کے ساتھ لگتے ہیں بہت مشکل ہے، امیدواروں اور سیاستدانوں کو نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہو گا، حکومت وقت اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ انتخابات کیلیے مناسب ماحول پیدا کرے اور سیکیورٹی فراہم کرے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما عاصمہ ارباب عالمگیر نے کہا کہ پورے خیبر پختونخوا صوبے میں ہی سیکیورٹی کی صورتحال مخدوش ہے۔

 




یہ درجہ بندی نہیں کی جا سکتی کہ فلاں علاقے میں سیکیورٹی خطرات کم اور فلاں میں زیادہ ہیں، انتخابات میں ایک ماہ رہ گیا ہے وفاق اور نہ ہی صوبوں میں سیکیورٹی بہتر کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی، الیکشن ضروری ہیں لیکن لوگوں کی جان کی حفاظت بھی بہت ضروری ہے، الیکشن کا ماحول شفاف نہیں ہے،کچھ ایسی سیاسی جماعیتں ہیں جن کو بالکل بھی خطرہ نہیں ہے اوریہ انتخابات سے پہلے دھاندلی یعنی پری پول رگنگ ہے۔

پشاور پریس کلب کے صدر ناصر حسین نے کہا کہ صحافیوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں، ہر کوئی اپنی خبر کو زیادہ اور دوسروں کی خبر کو کم جگہ دنیے کا مطالبہ کرتا ہے، صحافیوں کے لیے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ آئے تھے وہ کئی سال سے کسٹمز والوں نے روک رکھے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم وہ تو ہمیں دیں۔ پریس کلب میں موجود صحافیوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ملنے والی دھمکیوں کا براہ راست اثر اخبارنویسوں پر پڑتا ہے۔
Load Next Story