ریٹرننگ افسران امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ کریں لاہور ہائیکورٹ
امیدواروں سے بیویوں کی تعداد اور دعائے قنوت سننے کا اسکروٹنی سے کوئی تعلق نہیں، عدالتی معاونین
نجی زندگی سے متعلق سوال نہیں ہوسکیں گے، جسٹس منصور، میڈیا کوریج پر بھی پابندی۔ فوٹو: فائل
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھرکے ریٹرننگ افسروں کو انتخابی امیدواروں سے غیرضروری سوالات کرنے سے روک دیا جبکہ سکروٹنی کے عمل کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق کاغذات نامزدگی کی پڑتال کے دوران نجی زندگی سے متعلق سوالات کیخلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس سید منصور علی شاہ نے کی ۔ دوران سماعت عدالتی معاون نے دلائل دئے کہ ریٹرننگ افسر کاغذات نامزدگی میں درج تفصیلات سے ہٹ کر امیدواروں سے غیر متعلقہ اور غیر ضروری سوالات نہیں کر سکتے ، ریٹرننگ افسر امیدواروں سے بیویوں کی تعداد اور دعائے قنوت سن رہے ہیں جن کا سکروٹنی سے کوئی تعلق نہیں۔ عدالتی معاون نے عدالت کو بتایا کہ سکروٹنی کے عمل کی میڈیا کوریج سے بھی عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے ۔
عدالت نے معاونین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب بھرکے ریٹرننگ افسروں کے امیدواروں سے غیرضروری سوالات کرنے پر پابندی لگا دی ہے ۔ریٹرننگ افسر امیدواروں سے اسلامی شعائر اور نجی زندگی سے متعلق سوال نہیں کر سکیں گے ۔ سکروٹنی کے عمل کے دوران ریٹرننگ افسروں کے کمروں میں کیمرے لے جانے اور میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔
ہائیکورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ افسر امیدوارکی طرف سے کاغذات نامزدگی میں دی گئی معلومات ، نیب ، ایف بی آر ، سٹیٹ بینک اور نادرا کی فراہم کی گئی گئی معلومات کے مطابق سوالات کر سکتے ہیں ۔ آئی این پی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں سے مذہبی سوالات اور بیویوں کی تعداد پوچھنے کو عدلیہ کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا ۔ فاضل جج نے کمرہ عدالت میں ٹی وی کیمرے لے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح عدالت کا تقدس پامال ہوا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق کاغذات نامزدگی کی پڑتال کے دوران نجی زندگی سے متعلق سوالات کیخلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس سید منصور علی شاہ نے کی ۔ دوران سماعت عدالتی معاون نے دلائل دئے کہ ریٹرننگ افسر کاغذات نامزدگی میں درج تفصیلات سے ہٹ کر امیدواروں سے غیر متعلقہ اور غیر ضروری سوالات نہیں کر سکتے ، ریٹرننگ افسر امیدواروں سے بیویوں کی تعداد اور دعائے قنوت سن رہے ہیں جن کا سکروٹنی سے کوئی تعلق نہیں۔ عدالتی معاون نے عدالت کو بتایا کہ سکروٹنی کے عمل کی میڈیا کوریج سے بھی عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے ۔
عدالت نے معاونین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب بھرکے ریٹرننگ افسروں کے امیدواروں سے غیرضروری سوالات کرنے پر پابندی لگا دی ہے ۔ریٹرننگ افسر امیدواروں سے اسلامی شعائر اور نجی زندگی سے متعلق سوال نہیں کر سکیں گے ۔ سکروٹنی کے عمل کے دوران ریٹرننگ افسروں کے کمروں میں کیمرے لے جانے اور میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔
ہائیکورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ افسر امیدوارکی طرف سے کاغذات نامزدگی میں دی گئی معلومات ، نیب ، ایف بی آر ، سٹیٹ بینک اور نادرا کی فراہم کی گئی گئی معلومات کے مطابق سوالات کر سکتے ہیں ۔ آئی این پی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں سے مذہبی سوالات اور بیویوں کی تعداد پوچھنے کو عدلیہ کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا ۔ فاضل جج نے کمرہ عدالت میں ٹی وی کیمرے لے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح عدالت کا تقدس پامال ہوا ہے ۔