کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیر ملکی کھلاڑی واپس روانہ ہوگئے
فائنلسٹ ٹیموں کیلیے میری نیک خواہشات ہیں، اگلے سال پھر ملیں گے،رلی روسو
پشاور زلمی کے ہاتھوں ایک رن سے شکست کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیر ملکی کھلاڑی واپس روانہ ہوگئے،فوٹو: فائل
پی ایس ایل تھری کے پہلے ایلیمینیٹر میچ میں پشاور زلمی کے ہاتھوں تھرلر میچ میں ایک رن سے شکست کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیر ملکی کھلاڑی واپس روانہ ہوگئے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹیم ذرائع کے مطابق ٹیم کی شکست کے بعد غیرملکی کھلاڑی واپس روانہ ہوگئے ہیں جن میں آسٹریلیا کے کرس گرین، جنوبی افریقہ کے رلی روسو، سری لنکاکے تھسارا پریرا، انگلینڈ کے ٹام کوہلر اور بنگلہ دیشی آل راﺅنڈر محمود اللہ شامل ہیں۔ رلی روسو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ "کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فیملی کا پی ایس ایل کے دوران بھرپور سپورٹ کرنے پر شکریہ، بدقسمتی سے ہم غیرمتوقع طور پر ہار گئے، فائنلسٹ ٹیموں کیلیے میری نیک خواہشات ہیں، اگلے سال پھر ملیں گے۔"
واضح رہے کہ شین واٹسن ان فٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان نہیں آ سکے تھے جبکہ کیون پیٹرسن نے پہلے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی جبکہ بعد میں انکار کر دیا تھا جس کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے متبادل غیرملکی پلیئرز کے طور پر تھسارا پریرا اور محموداللہ کو ٹیم میں شامل کیا تھا۔
گزشتہ ایونٹ میں بھی فیورٹ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئی تھی جب غیرملکی پلیئرز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا اور نئے پلیئرز کی شمولیت کے بعد کوئٹہ کی ٹیم اپنی فتوحات کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائی تھی اور فائنل میں پشاور زلمی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹیم ذرائع کے مطابق ٹیم کی شکست کے بعد غیرملکی کھلاڑی واپس روانہ ہوگئے ہیں جن میں آسٹریلیا کے کرس گرین، جنوبی افریقہ کے رلی روسو، سری لنکاکے تھسارا پریرا، انگلینڈ کے ٹام کوہلر اور بنگلہ دیشی آل راﺅنڈر محمود اللہ شامل ہیں۔ رلی روسو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ "کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فیملی کا پی ایس ایل کے دوران بھرپور سپورٹ کرنے پر شکریہ، بدقسمتی سے ہم غیرمتوقع طور پر ہار گئے، فائنلسٹ ٹیموں کیلیے میری نیک خواہشات ہیں، اگلے سال پھر ملیں گے۔"
واضح رہے کہ شین واٹسن ان فٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان نہیں آ سکے تھے جبکہ کیون پیٹرسن نے پہلے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی جبکہ بعد میں انکار کر دیا تھا جس کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے متبادل غیرملکی پلیئرز کے طور پر تھسارا پریرا اور محموداللہ کو ٹیم میں شامل کیا تھا۔
گزشتہ ایونٹ میں بھی فیورٹ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئی تھی جب غیرملکی پلیئرز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا اور نئے پلیئرز کی شمولیت کے بعد کوئٹہ کی ٹیم اپنی فتوحات کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائی تھی اور فائنل میں پشاور زلمی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔