ہر سال4 لاکھ 20 ہزار بچے زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں
اموات کی وجہ انفیکشن،اسہال،نمونیا ہیں،پلاننگ کمیشن کی رپورٹ.
30 ہزار مائیں دوران زچگی مرجاتی ہیں، ناخواندگی وصنفی امتیاز وجوہات ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس نیوز
WASHINGTON:
پاکستان میں صحت کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بچے مختلف امراض کی زد میں رہتے ہیں، پاکستان میں ایسے موقع پرعالمی یوم صحت منایا جا رہا ہے۔
جب ملک میں ہر سال 5 سال کی عمرکے 4لاکھ 20 ہزاربچے کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوکرزندگی کی بازی ہارجاتے ہیں، ان میں22 فیصد اموات آکسیجن کی کمی، 14فیصد مختلف اقسام کے انفیکشن، 13فیصد نمونیا،11فیصد اسہال اور 9فیصد بچے قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے مرجاتے ہیں، پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور یو این چلڈرن کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوںکی شرح پیدائش کا دارومدار زیادہ تر خاندان کی معاشی صورتحال پر انحصار کرتا ہے۔
رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ بچوںکی اموات کے علاوہ ہر سال پاکستان میں 30 ہزار مائیں زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، ناخواندگی، صنفی امتیاز، بے روزگاری، غربت، صاف پانی تک عدم رسائی اور صفائی کی ناگفتہ بہ حالت بچوں اور زچگی کے دوران مائوں کی ہلاکت کی بنیادی وجوہات ہیں، رپورٹ میں اس بات پر زور دیاگیا کہ اموات میں کمی کیلیے گورننس کو مضبوط بنانے، صحت کی سہولیات میں اضافہ اور ہیلتھ ورکرز کی مناسب تربیت کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان میں صحت کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بچے مختلف امراض کی زد میں رہتے ہیں، پاکستان میں ایسے موقع پرعالمی یوم صحت منایا جا رہا ہے۔
جب ملک میں ہر سال 5 سال کی عمرکے 4لاکھ 20 ہزاربچے کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوکرزندگی کی بازی ہارجاتے ہیں، ان میں22 فیصد اموات آکسیجن کی کمی، 14فیصد مختلف اقسام کے انفیکشن، 13فیصد نمونیا،11فیصد اسہال اور 9فیصد بچے قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے مرجاتے ہیں، پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور یو این چلڈرن کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوںکی شرح پیدائش کا دارومدار زیادہ تر خاندان کی معاشی صورتحال پر انحصار کرتا ہے۔
رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ بچوںکی اموات کے علاوہ ہر سال پاکستان میں 30 ہزار مائیں زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، ناخواندگی، صنفی امتیاز، بے روزگاری، غربت، صاف پانی تک عدم رسائی اور صفائی کی ناگفتہ بہ حالت بچوں اور زچگی کے دوران مائوں کی ہلاکت کی بنیادی وجوہات ہیں، رپورٹ میں اس بات پر زور دیاگیا کہ اموات میں کمی کیلیے گورننس کو مضبوط بنانے، صحت کی سہولیات میں اضافہ اور ہیلتھ ورکرز کی مناسب تربیت کی اشد ضرورت ہے۔