واٹر بورڈ افسر کے غیر ملکی دوروں کے بارے میں جواب دیدیاگیا

اعلیٰ افسران کامشکور الحسنین کیخلاف جاری تحقیقات میں فریق بنانے...

اعلیٰ افسران کامشکور الحسنین کیخلاف جاری تحقیقات میں فریق بنانے کا مطالبہ

KALAT:
کراچی واٹراینڈسیوریج بورڈ کی انتظامیہ نے اینٹی کرپشن کی طرف سے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مشکورالحسنین کے غیر ملکی دوروں کے بارے میں طلب کردہ رپورٹ کا جواب دیدیا جس میں حیرت انگیز طور پر اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے اجتناب کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف واٹربورڈ کے اعلیٰ افسران نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے مشکورالحسنین کے غیر ملکی دوروں کے حوالے سے جاری تحقیقات میں ان کو بھی فریق بنایا جائے بصورت دیگر اس حوالے سے ہونے والی کوئی بھی تحقیقات کو غیر جانبدارانہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مشکورالحسنین کے غیر ملکی دوروں کے حوالے سے چھان بین شرو ع کررکھی ہے، اس سلسلے میں واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک خط لکھ کر مختلف اس حوالے سے مختلف معاملات پر استفسار کیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے واٹربورڈ کی انتظامیہ نے ایک محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ان سوالات کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے نہ یہ بتایا کہ مشکورالحسنین نے کتنے دورے کیے، ان دوروں کی این او سی کس نے اور کیسے دی ، برطانیہ میں کیے جانے والے دورہ جس سامان کا معائنہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا وہ سامان ان کے دورے سے قبل ہی کراچی پہنچ گیا تھا۔


ان دوروں میں جاپان کا ایک ایسا دورہ بھی شامل تھا جو کہ انتہائی جونیئر سطح کے افسران کے لیے تھا، ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے واٹربورڈ نے ایک مبہم جواب لکھ کر بھیج دیا تھاجس میں بنیادی نکات کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے مشکورالحسنین واٹربورڈ کے سب سے زیادہ ذہین اور قابل آفیسر ہیں اور انھوں نے تمام دورے میرٹ پر کیے، ذرائع نے بتایا کہ لکھے جانے والے جواب میں اینٹی کرپشن افسران یہ لکھ کر ڈرانے کی بھی کوشش کی گئی کہ ان کے غیر ملکی دروں سے بعض کی اجازت اس وقت تعینات تین حاضر اور ایک ریٹائرڈ آرمی افسران نے دی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کے اعلیٰ افسران خصوصاً پروجیکٹ ونگ میں تعنیات افسران نے اینٹی کرپشن کی طرف سے مشکور الحسنین کے ریکارڈ توڑ غیر ملکی دوروں کی تحقیقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے، اس تحقیقات میں واٹربورڈ کے سینئر افسران کو بھی فریق بنایا جائے کیونکہ ان دوروں سے ان افسران کی حق تلفی ہوئی ہے، انھوں نے کہا کہ ان کو فریق بنایا گیا تو مزید انکشافات بھی کریں گے۔
Load Next Story