ڈائو یونیورسٹی کا معذور افراد میں مصنوعی اعضا مفت تقسیم کرنیکا اعلان
انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں18000سے زیادہ معذورین کا علاج کیا گیا،وائس چانسلر پروفیسر مسعودحمید
یونیورسٹی کا کٹوتی پر اظہار لاعلمی تاہم سیکریٹری صحت نے کٹوتی کی تصدیق کی ہے،ذرائع. فائل فوٹو
ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سا ئنسز نے جشن آزادی کے موقع پر معذور افراد کی بحالی کیلیے مفت مصنوعی اعضا فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ ڈاؤیونیورسٹی نے یوم آزادی کے موقع پر ہاتھ اور پاؤں سے معذورافراد کو بلامعاوضہ مصنوعی اعضا فراہم کریگی تاکہ معذور افرادکویادگاردن کے حوالے سے یاد رکھا جاسکے اورمعذور افرادکوجشن آزادی کے موقع پر ڈاؤیونیورسٹی کا تحفہ یاد رہے۔
ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر ڈائویونیورسٹی کے ادارے انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں ایک تقریب منعقدکی جائیگی جس میں غریب اور مستحق افرادکو مفت مصنوعی اعضا تقسیم کیے جائیںگے،پروفیسر مسعود حمید خاں نے کہاکہ ڈائویونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن ( معذور افرادکی بحالی کا سینٹر ) ملک میںاپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جہاں تشدد، بم بلاسٹ، ٹریفک حادثات یا قدرتی آفات میں معذور ہوجانے والوں اورپولیوسے معذور بچوںکوکارآمد بنانے کیلیے مختلف جدید آلات کے ذریعے خصوصی مصنوعی اعضا بنائے جارہے ہیں تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ ہوں۔
انھوں نے کہاکہ ڈائو یونیورسٹی کا متعلقہ ادارہ انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن ملک میں اپنی نوعیت کا پہلاسینٹر ہے جو اب تک ہزاروں معذورین کومصنوعی اعضا بنا کر فراہم کرچکا ہے،انھوں نے کہاکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد معذور افراد کی بحالی ہے ،ان کا کہناتھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں مختلف طرح کی معذوری کا شکار افراد کا علاج کیا جاتا ہے، ایسے معذورافرادکی بھی اس انسٹی ٹیوٹ نے بھرپور مدد کی جو معذری سے دل شکستہ تھے اور اب ری ہیبلیٹیشن کے بعد ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس انسٹی ٹیوٹ میں اب تک 18000سے زیادہ معذورین کو علاج فراہم کیا گیا ہے جواب نارمل زندگی گزارے رہے ہیں، اس انسٹیٹیوٹ میں پولیوکے باعث پائوں ٹیڑھے پن کے شکار بچوںکوبھی مصنوعی ٹانگیں فراہم کی جارہی ہیں،انھوں نے بتایا کہ اگر کسی نجی ادارے سے یہ اعضا لگوائے جائیں تو اخراجات چالیس ہزار تک ہوتے ہیں تاہم آئی پی ایم آر میں مصنوعی اعضا بلا قیمت لگائے جاتے ہیں، ان اعضا پر اخراجات ڈائو یونیورسٹی اپنے وسائل اور زکوٰۃ سے حاصل شدہ رقم کے ذریعے پورے کرتی ہے،اس انسٹیٹیوٹ میں فزیوتھراپی کی پوسٹ گریجویٹ اور آکو پیشنل تھرا پی اور مصنوعی اعضا کی تیاری کے شعبوں میں گریجویٹ لیول کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر ڈائویونیورسٹی کے ادارے انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں ایک تقریب منعقدکی جائیگی جس میں غریب اور مستحق افرادکو مفت مصنوعی اعضا تقسیم کیے جائیںگے،پروفیسر مسعود حمید خاں نے کہاکہ ڈائویونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن ( معذور افرادکی بحالی کا سینٹر ) ملک میںاپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جہاں تشدد، بم بلاسٹ، ٹریفک حادثات یا قدرتی آفات میں معذور ہوجانے والوں اورپولیوسے معذور بچوںکوکارآمد بنانے کیلیے مختلف جدید آلات کے ذریعے خصوصی مصنوعی اعضا بنائے جارہے ہیں تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ ہوں۔
انھوں نے کہاکہ ڈائو یونیورسٹی کا متعلقہ ادارہ انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن ملک میں اپنی نوعیت کا پہلاسینٹر ہے جو اب تک ہزاروں معذورین کومصنوعی اعضا بنا کر فراہم کرچکا ہے،انھوں نے کہاکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد معذور افراد کی بحالی ہے ،ان کا کہناتھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں مختلف طرح کی معذوری کا شکار افراد کا علاج کیا جاتا ہے، ایسے معذورافرادکی بھی اس انسٹی ٹیوٹ نے بھرپور مدد کی جو معذری سے دل شکستہ تھے اور اب ری ہیبلیٹیشن کے بعد ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس انسٹی ٹیوٹ میں اب تک 18000سے زیادہ معذورین کو علاج فراہم کیا گیا ہے جواب نارمل زندگی گزارے رہے ہیں، اس انسٹیٹیوٹ میں پولیوکے باعث پائوں ٹیڑھے پن کے شکار بچوںکوبھی مصنوعی ٹانگیں فراہم کی جارہی ہیں،انھوں نے بتایا کہ اگر کسی نجی ادارے سے یہ اعضا لگوائے جائیں تو اخراجات چالیس ہزار تک ہوتے ہیں تاہم آئی پی ایم آر میں مصنوعی اعضا بلا قیمت لگائے جاتے ہیں، ان اعضا پر اخراجات ڈائو یونیورسٹی اپنے وسائل اور زکوٰۃ سے حاصل شدہ رقم کے ذریعے پورے کرتی ہے،اس انسٹیٹیوٹ میں فزیوتھراپی کی پوسٹ گریجویٹ اور آکو پیشنل تھرا پی اور مصنوعی اعضا کی تیاری کے شعبوں میں گریجویٹ لیول کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔