نجکاری کے بعدکے ای ایس سی منافع بخش ادارہ بن گیا
ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ صارفین کے بھی شکرگزار ہیں،تابش گوہر
ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ صارفین کے بھی شکرگزار ہیں،تابش گوہر۔ فائل فوٹو
کے ای ایس سی نجکاری کے سات برس بعد منافع بخش ادارہ بننے کا سنگ میل عبور کرلیا ، نجکاری کے بعد کارکردگی اورصلاحیت میں بہتری کے حوالے سے کے ای ایس سی میں وسیع پیمانے پر ادارہ جاتی تبدیلیاں کی گئیں جنہوں نے کے ای ایس سی کو دوبارہ ترقی کے راستے پرگامزن کردیا۔
کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تابش گوہر نے اس موقع پر کہا '' ہم اس اہم سنگ میل کے عبور کرنے پر اپنے ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروںسمیت اپنے صارفین کے بھی شکرگزار ہیں جنھوں نے ہم پر ہمیشہ اعتماد کیا'' ،انھوں نے مزید کہا ''ہم اپنے ملازمین کے بھی شکرگزار ہیں جن کی محنت،خلوص اورلگن کی وجہ سے کمپنی ایک منافع بخش ادارے میںتبدیل ہوگئی '' مذکورہ مدت میں کے ای ایس سی میںکی جانیوالی سرمایہ کاری کے مقابلے میں اس کا2ارب 62کروڑ روپے کا منافع نسبتاً کم ضرور ہے لیکن یہ ادارے کی ترقی کی سمت میں ایک مثبت قدم ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروںکی توجہ حاصل کرے گا اور کمپنی کو مستقبل کے بڑے پروجیکٹس کیلیے سرمایہ کاری کے حصول میں مدد فراہم کرے گا۔
یہ پروجیکٹس کمپنی کی موثرپیداواری صلاحیت کو مزید بڑھائیں گے اور ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری میں معاون ثابت ہوں گے،کمپنی پہلے ہی حصص یافتگان کی جانب سے کی جانے والی1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیتوں میں1000 میگاواٹ کا اضافہ کرنے کے علاوہ اپنی تقسیم کاری اور ترسیلی صلاحیتوں کو بہت بہترکرچکی ہے۔
تابش گوہر نے اس موقع پر مزید کہا ''ہماری ترقی مالیات فراہم کرنے والے اداروں،سرمایہ کاروں اور تجارتی شراکت داروں کیلیے بھی اہم ہے ،کیونکہ ہمارا منافع بخش ادارے میں تبدیل ہوجانا ان کے لیے کے ای ایس سی پر اعتماد میں خاطرخواہ اضافے کا باعث بنے گا، ہم بجلی کی پیداوار کے لیے موجودہ پیداواری صلاحیت کی کوئلے پر تبدیلی اور کوئلے سے چلنے والے نئے پلانٹس پر کام کا آغاز کریں گے ،ہمارے یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان کے نفاذ سے ہی آنے والے برسوں میںکم قیمت پر بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔
کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تابش گوہر نے اس موقع پر کہا '' ہم اس اہم سنگ میل کے عبور کرنے پر اپنے ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروںسمیت اپنے صارفین کے بھی شکرگزار ہیں جنھوں نے ہم پر ہمیشہ اعتماد کیا'' ،انھوں نے مزید کہا ''ہم اپنے ملازمین کے بھی شکرگزار ہیں جن کی محنت،خلوص اورلگن کی وجہ سے کمپنی ایک منافع بخش ادارے میںتبدیل ہوگئی '' مذکورہ مدت میں کے ای ایس سی میںکی جانیوالی سرمایہ کاری کے مقابلے میں اس کا2ارب 62کروڑ روپے کا منافع نسبتاً کم ضرور ہے لیکن یہ ادارے کی ترقی کی سمت میں ایک مثبت قدم ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروںکی توجہ حاصل کرے گا اور کمپنی کو مستقبل کے بڑے پروجیکٹس کیلیے سرمایہ کاری کے حصول میں مدد فراہم کرے گا۔
یہ پروجیکٹس کمپنی کی موثرپیداواری صلاحیت کو مزید بڑھائیں گے اور ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری میں معاون ثابت ہوں گے،کمپنی پہلے ہی حصص یافتگان کی جانب سے کی جانے والی1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیتوں میں1000 میگاواٹ کا اضافہ کرنے کے علاوہ اپنی تقسیم کاری اور ترسیلی صلاحیتوں کو بہت بہترکرچکی ہے۔
تابش گوہر نے اس موقع پر مزید کہا ''ہماری ترقی مالیات فراہم کرنے والے اداروں،سرمایہ کاروں اور تجارتی شراکت داروں کیلیے بھی اہم ہے ،کیونکہ ہمارا منافع بخش ادارے میں تبدیل ہوجانا ان کے لیے کے ای ایس سی پر اعتماد میں خاطرخواہ اضافے کا باعث بنے گا، ہم بجلی کی پیداوار کے لیے موجودہ پیداواری صلاحیت کی کوئلے پر تبدیلی اور کوئلے سے چلنے والے نئے پلانٹس پر کام کا آغاز کریں گے ،ہمارے یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان کے نفاذ سے ہی آنے والے برسوں میںکم قیمت پر بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔