عوام کا انتخابی منشور

اس ملک کی اشرافیہ نے جمہوریت کو جس ڈھٹائی کے ساتھ شاہی حکومت میں بدل دیا ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

انتخابات میں اب تین چار ماہ رہ گئے ہیں، پانچ سال سے خواب غفلت میں پڑی ہوئی جماعتیں اب بیدار ہوگئی ہیں اور نئے نئے پروگرام، نئے نئے وعدوں کے ساتھ عوام میں آنے کی تیاریاں کررہی ہیں، بعض جماعتیں تو پہلے ہی سے جلسوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کے ساتھ عوام کے درمیان موجود ہیں اور عوام سے گزارش کر رہی ہیں کہ اگر وہ انھیں اپنے ووٹوں سے سرفراز کریں تو اقتدار میں آتے ہی عوام کے لیے آسمان سے چاند ستارے توڑ لائیں گے۔

بے چارے عوام روایت کے مطابق زندہ باد کے نعرے لگا کر اپنی روایت پوری کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے انتخابات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انتخابات لڑنے والی جماعتیں عوام کے ساتھ اپنا منشور اور سابقہ خدمات پیش کرنے کے بجائے حریف جماعتوں کی برائیاں پیش کرتی ہیں، ہمارے آنے والے انتخابات میں چونکہ حکمران جماعت کی تحریک انصاف سب سے بڑی حریف کی حیثیت سے کھڑی ہوئی ہے، لہٰذا حکمران جماعت کی توپوں کا رخ تحریک انصاف اور اس کے قائد کی طرف ہے اور تحریک انصاف بھی جوابی حملوں سے اپنا حق سیاست ادا کر رہی ہے۔

چونکہ اس بار پاناما لیکس کے انکشافات کی وجہ سے حکمران جماعت مشکلات کا شکار ہے اس لیے تحریک انصاف اس کی کمزوریوں کو طشت از بام کرکے اس کے لیے سخت مشکلات پیدا کررہی ہے اور جواباً حکمران جماعت بھی تحریک انصاف اور اس کے قائد کی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ یوں یہ انتخابی مہم گالیوں اور جوابی گالیوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور پارٹیوں کے منشور پس پشت چلے گئے ہیں۔ عوام بے چارے حیران ہیں کہ الزامات اور جوابی الزامات کی اس طوفانی مہم میں وہ کس کا ساتھ دیں، کسے بہتر سمجھیں؟

ترقی یافتہ ملکوں میں بھی سرمایہ دارانہ جمہوریت ہی نافذ ہے لیکن وہاں کی جماعتیں اپنی انتخابی مہم منشور پر چلاتی ہیں نہ کہ گالیوں اور جوابی گالیوں پر، اس لیے ان ملکوں کے عوام کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مختلف جماعتوں کے منشور کا موازنہ کرکے بہتر منشور رکھنے والی جماعت کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔ ان ملکوں میں انتخابی دھاندلیوں کا کوئی کلچر موجود نہیں۔ عوام جمہوری اخلاق کے مطابق اخلاق اور انتخابی ایمانداری کی حدود میں رہتے ہوئے ایمانداری سے انتخابات میں اپنے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والی جماعت پرامن طور پر اقتدار سنبھال لیتی ہے۔

چونکہ اس بارکرپشن کے الزامات اور لوٹ مار کے مختلف الزامات اور عدالتوں میں دائر مقدمات کی وجہ سے حکمران جماعت سخت مشکل میں پھنسی ہوئی ہے اور اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزامات کو ایک سازش کا نام دے کر اداروں کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہی ہے اور اس حوالے سے عالم یہ ہے کہ وہ صبح سے شام تک شدت سے الزام تراشی کر رہی ہے ۔ پاناما لیکس اور دوسرے کئی الزامات حکمران طبقے پر عائد کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ حکمران جماعت سخت مشکل میں ہے۔ حکمران جماعت کا خیال ہے کہ عدلیہ تحریک انصاف کے ساتھ اچھا سلوک کر رہی ہے اور حکومت کے خلاف جانبدارانہ رویہ اختیارکیے ہوئے ہے اس مفروضے کو شدت سے پیش کیا جا رہا ہے ۔


تحریک انصاف کی قیادت بھی اخلاقی حدود سے نکل کر حکمران جماعت اور اس کی قیادت پر تنقید کر رہی ہے، یوں یہ انتخابی مہم منشور کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بدکلامی اور قابل اعتراض زبان کے استعمال کا شاہکار بن گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا ہے اور اب وہ نہ وزیراعظم رہے ہیں نہ پارٹی کے صدر، اس لیے حکمران جماعت سخت مشکلات کا شکار ہے۔

جنگوں میں کوئی فریق کمزور پڑتا ہے تو اس کی ایک حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے دفاع کے بجائے حملے کی حکمت عملی اختیارکرلیتا ہے، ہماری موجودہ حکومت بھی دفاع کے بجائے حملوں کی حکمت عملی پر کاربند ہے اور اگر اعتدال اور سمجھ بوجھ کے ساتھ اس حکمت عملی پر کاربند رہا جاتا تو شاید اس کا کچھ فائدہ ہوتا، لیکن اس حوالے سے ساری اخلاقی اور قانونی حدود اس حد تک پارکر لی گئی ہیں کہ غیر جانبدار لوگ بھی اب جانبدار ہو رہے ہیں۔

اس عجیب وغریب صورتحال کی وجہ سے عوام سخت شش و پنج میں مبتلا ہوگئے ہیں کیونکہ پروپیگنڈے کی دھول اس شدت سے اڑائی جا رہی ہے کہ متحارب طاقتوں کے چہرے پہچاننا مشکل ہو رہا ہے، اسی لیے بے چارے عوام ''چہ کنم'' کی تصویر بن گئے ہیں۔ سیاسی صورتحال یہ ہے کہ حکومت یعنی حکمران پارٹی اور تحریک انصاف سیاست پر اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ دوسری تمام جماعتیں عملاً انتخابی میدان سے باہر نظر آرہی ہیں اور ''ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم''کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

یہ انتخابی معرکہ موت و زیست کا معرکہ اس لیے بن گیا ہے کہ سیاسی میدان میں دبنگ خان یعنی عمران خان کی طوفانی انٹری نے جو سب سے بڑا مسئلہ کھڑا کردیا ہے وہ اسٹیٹس کو کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔ 70 سال سے سیاست کے نام پر اشرافیہ اقتدار پر جس طرح قابض چلی آرہی ہے اسے پہلی بار یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ شاید اب اشرافیائی راج پاٹ کا سلسلہ آگے نہ چل سکے۔

اس ملک کی اشرافیہ نے جمہوریت کو جس ڈھٹائی کے ساتھ شاہی حکومت میں بدل دیا ہے یہ کلچر اس قدر مضبوط ہوگیا ہے کہ جمہوریت نامی چیز ہماری سیاست سے خارج ہوچکی ہے اشرافیائی جماعتیں دھڑلے سے جمہوریت کو خاندانی حکمرانی میں بدل چکی ہیں۔ اقتدار اور سیاست پر ہی اس مافیا کا قبضہ نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں پر بھی دیدہ دلیر اشرافیہ نے قبضہ کرلیا ہے اور دھڑلے سے جمہوریت کی جگہ خاندانی حکمرانی کو ملک اور عوام پر مسلط کر رہے ہیں۔

ایسی بدترین صورتحال میں عوام کس کا ساتھ دیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب انتہائی سنجیدگی، متانت اور بردباری سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ خاندانی حکمرانی کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، خاندانی حکمرانی آمریت سے بدتر ہوتی ہے اگر عوام اس ملک میں جمہوریت وہ بھی عوامی جمہوریت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انھیں خاندانی حکمرانی سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور ان طاقتوں کا ساتھ دینا ہوگا جو خاندانی حکمرانی کے کلچرکا خاتمہ چاہتے ہیں یہی منشور ان انتخابات کا عوامی منشور ہوسکتا ہے۔
Load Next Story