زمبابوین کرکٹرز نے ہوم سیریز کے بائیکاٹ کی دھمکی دیدی

نئے کھلاڑیوں نے ’ڈیلی الائونس‘ پر وارم اپ میچ کھیلنے سے انکار پر غور شروع کردیا

نئے کھلاڑیوں نے ’ڈیلی الائونس‘ پر وارم اپ میچ کھیلنے سے انکار پر غور شروع کردیا. فوٹو: وکی پیڈیا

KARACHI:
کنٹریکٹ تنازع پر زمبابوین پلیئرز نے بنگلہ دیش سے سیریز کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی، نئے کھلاڑیوں نے 'ڈیلی الائونس' پر وارم اپ میچ کھیلنے سے انکار پر غور شروع کردیا، سینئر پلیئرز بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق زمبابوے نے رواں ماہ 17 تاریخ سے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کا آغاز کرنا ہے مگر اس سے قبل ہی کنٹریکٹ تنازع نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، کھلاڑیوں نے اس معاملے پر سیریز کے بائیکاٹ پر غور شروع کردیا ہے۔ اس سیریز میں شامل زیادہ تر کھلاڑی کنٹریکٹ یافتہ ہیں مگر وہ ان نے پلیئرز کی حمایت کررہے ہیں جنھیں موسم سرما کا کنٹریکٹ دینے سے انکار کرتے ہوئے ڈیلی الائونس پر باہمی وارم اپ میچز کھیلنے کو کہا گیا ہے۔

نئے کھلاڑی اپنی فرنچائزز سے کنٹریکٹ یافتہ ہیں مگر انھیں معاوضہ زمبابوے کرکٹ کی جانب سے فراہم کی گئی گرانٹ سے ادا کیا جاتا ہے مگر یہ معاہدے صرف موسم گرما کیلیے ہوتے ہیں جوکہ 31 مارچ کو ختم ہوچکے ہیں، اب ان کھلاڑیوں کے پاس کوئی اور ذریعہ معاش ڈھونڈنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، ان میں سے کچھ کلب کرکٹ کھیلنے یو کے چلے جائیں گے جس سے وہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز اور اس کے بعد بھارت اور سری لنکا سے ہوم سیریز کے دوران پریکٹس میچز وغیرہ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔




کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں ملک میں رہیں گے جب انھیں موسم سرما کیلیے بھی کنٹریکٹ دیا جائے گا، دوسری جانب کرکٹ زمبابوے کی مالی پوزیشن ایسی نہیں کہ وہ نئے کھلاڑیوں کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ دے سکے، اس لیے وہ ڈیلی الائونس پر ہی کام چلانے کا خواہاں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ ماہ جب بنگلہ دیشی ٹیم نے سری لنکا کا دورہ کیا تھا اس وقت وہاں بھی کنٹریکٹ تنازع کھڑا ہوگیا تھاجس پرچیف سلیکٹر جے سوریا کی بروقت مداخلت کی وجہ سے قابو پایا جاسکا، اسی طرح 2011 میں بھی جب بنگلہ دیشی ٹیم زمبابوے آئی تھی اس وقت بھی معاوضوں کا تنازع سامنے آیا تھا اور یہ بنگلہ دیش ٹیم ہی تھی جس نے 2009 میں جب ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تو وہاں کے تمام سینئر کھلاڑی ہڑتال پر چلے گئے تھے جس پر نوجوان کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا گیا جس سے بنگلہ دیش کو وہاں پر فتح حاصل کرنے کا نادر موقع مل گیا تھا۔
Load Next Story