حوالگی ملزمان کا معاہدہ طے رینجرز گرفتار ملزمان کا ریکارڈ بھی پولیس کو دیگی
کارروائی میں گرفتارملزمان کاباقاعدہ ہینڈ اورٹیک اوورہوگا،ملزمان کی گرفتاری کامقام برآمد اسلحہ پروفارما میں لکھاجائیگا۔
معاہدے کے بعد آپریشنز میں گرفتار ملزمان کی جے آئی ٹی میں جرم ثابت نہ ہوسکا،گرفتاری ظاہر کرنے میں مشکلات،ملزم ضمانت کرانے لگے،ذرائع. فوٹو: فائل
سندھ رینجرز اور سندھ پولیس کے درمیان ملزمان کی حوالگی سے متعلق معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت پولیس رینجرز سے ملزمان لیتے وقت ملزمان کے خلاف درج مقدمات کا تمام ریکارڈ بھی ساتھ لے گی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ اور سندھ پولیس کے درمیان ملزمان کی حوالگی سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایک پر فروفارما تیار کیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں گرفتار ملزمان کا باقاعدہ ہینڈ اوور اور ٹیک اوور لیا جائے گا جبکہ ملزمان کی حوالگی سے متعلق تیار کیے جانے والے پرفارمے پر وہ مقام بھی لکھا جائے گا جہاں سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور کارروائی کے نتیجے میں ملزمان کے قبضے سے برآمد اسلحہ اور دیگر سامان بھی لکھا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کے حوالگی کے موقع پر افسران کے دستخط اور گرفتار ملزمان کے خلاف درج مقدمات کا تمام ریکارڈ بھی ساتھ لیا جائے گا،ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ زون نوید خواجہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس اقدام کے بعد ٹارگٹڈ آپریشن اور دیگر کارروائیوں میں گرفتار ملزمان کی باقاعدہ گرفتاری کی فرد بھی حاصل کی جائے گی اور انٹروگیشن رپورٹ بھی منسلک ہوگی جس پر گرفتار ملزم کی جوائنٹ انویسٹی گیشن کے لیے محکمہ داخلہ سندھ سے درخواست کی جائیگی اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی منظوری کے بعد تحقیقات میں جو چیزیں سامنے آئیں انھیں کیس کا حصہ اور عدالت میں چالان جمع کرایا جائے گا۔
واضح رہے کہ سندھ رینجرز اور سندھ پولیس کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ تشکیل پائے جانے کی وجہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن اور دیگر کارروائیوں کے نتیجے میں گرفتار کئی ملزمان کو ٹارگٹ کلنگ اور دیگر وارداتوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا اور جب ان ملزمان سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کی تو ملزمان کے خلاف کسی بھی نوعیت کا جرم ثابت ہوا اور نہ ہی کسی تھانے میں ان کیخلاف کوئی مقدمہ درج تھا جس پر ملزمان کی گرفتاری ظاہر کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور کیس عدالت جاتے ہی ملزمان ضمانت پر رہا ہوجاتے تھے ،اس اقدام کے بعد یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ملزمان سے پولیس صحیح تفتیش نہیں کرتی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ اور سندھ پولیس کے درمیان ملزمان کی حوالگی سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایک پر فروفارما تیار کیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں گرفتار ملزمان کا باقاعدہ ہینڈ اوور اور ٹیک اوور لیا جائے گا جبکہ ملزمان کی حوالگی سے متعلق تیار کیے جانے والے پرفارمے پر وہ مقام بھی لکھا جائے گا جہاں سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور کارروائی کے نتیجے میں ملزمان کے قبضے سے برآمد اسلحہ اور دیگر سامان بھی لکھا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کے حوالگی کے موقع پر افسران کے دستخط اور گرفتار ملزمان کے خلاف درج مقدمات کا تمام ریکارڈ بھی ساتھ لیا جائے گا،ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ زون نوید خواجہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس اقدام کے بعد ٹارگٹڈ آپریشن اور دیگر کارروائیوں میں گرفتار ملزمان کی باقاعدہ گرفتاری کی فرد بھی حاصل کی جائے گی اور انٹروگیشن رپورٹ بھی منسلک ہوگی جس پر گرفتار ملزم کی جوائنٹ انویسٹی گیشن کے لیے محکمہ داخلہ سندھ سے درخواست کی جائیگی اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی منظوری کے بعد تحقیقات میں جو چیزیں سامنے آئیں انھیں کیس کا حصہ اور عدالت میں چالان جمع کرایا جائے گا۔
واضح رہے کہ سندھ رینجرز اور سندھ پولیس کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ تشکیل پائے جانے کی وجہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن اور دیگر کارروائیوں کے نتیجے میں گرفتار کئی ملزمان کو ٹارگٹ کلنگ اور دیگر وارداتوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا اور جب ان ملزمان سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کی تو ملزمان کے خلاف کسی بھی نوعیت کا جرم ثابت ہوا اور نہ ہی کسی تھانے میں ان کیخلاف کوئی مقدمہ درج تھا جس پر ملزمان کی گرفتاری ظاہر کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور کیس عدالت جاتے ہی ملزمان ضمانت پر رہا ہوجاتے تھے ،اس اقدام کے بعد یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ملزمان سے پولیس صحیح تفتیش نہیں کرتی۔