ادارے میرے آئینی اختیارات کو نہ بھولیں صدر زرداری
الیکشن ڈیوٹی پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کا پلان بنایاجائیگا، نگراں وزیر اطلاعات
8 ہزار پولیس اہلکار بھرتی کیے جائیں گے، گورنرسندھ اور نگراں وزیر اعلیٰ کی بریفنگ،کراچی میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن تیز کرنے کی ہدایت،الیکشن ڈیوٹی پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کا پلان بنایاجائیگا، نگراں وزیر اطلاعات۔ فوٹو: فائل
صدر آصف زرداری نے ریٹرننگ افسروں اور الیکشن کمیشن کے رویے کوغیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اختیارات حاصل ہیں، لیکن غلط تاثر پیدا ہونے کی وجہ سے مداخلت نہیں کی۔
اتوار کو ایک ٹی وی کے مطابق کراچی میں گورنر اور نگراں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کے دوران صدرکاکہنا تھا کہ آئینی طور پر مجھے اختیارات حاصل ہیں، اداروں کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ صدر زرداری نے کہاکہ نگراں حکومت کے پاس وقت کم ہے۔ اسٹاف رپورٹرکے مطابق صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی سمیت نگراں سندھ کابینہ کے ارکان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ملک میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
11 مئی کوملک میں پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقادکیلیے نگراں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں سیکیورٹی اور دیگرمتعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرمربوط سیکیورٹی پلان تشکیل دیں اور انتخابات کے موقع پرامن وامان کیلیے تمام اقدامات کیے جائیں، کراچی سمیت سندھ بھر میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلیے نگراں سندھ حکومت پالیسی اور قواعد وضوابط کے مطابق پولیس میں بھرتیاں کرے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سندھ میں انتخابات کے پرامن انعقاد، کراچی میں امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ اور نگراں وزیراعلیٰ نے صدرکو سندھ میں عام انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات اور کراچی میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ نے صدر مملکت کو نگراں سندھ کابینہ کے اجلاس میں8ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے حوالے سے ہونیوالے فیصلے سے بھی آگاہ کیا۔ صدر نے کہا کہ کراچی میں امن اور عوام کے جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صدر مملکت نے نگراں وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ پولیس کو مزید وسائل اور آلات مہیا کیے جائیں۔ سندھ پولیس میں بھرتیوں سے امن وامان کی صورتحال مزید بہترہوگی۔
صدر نے ہدایت کی کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو مزید تیز کیا جائے اوردہشتگردوں کیخلاف بلا امتیازکارروائی عمل میں لائی جائے۔ صدر نے نگراں حکومت کو ہدایت کی کہ11مئی کوعام انتخابات کے حوالے سے سیکیورٹی کے جامع اقدامات کیے جائیں۔ قبل ازیں صدرمملکت سے گورنر سندھ نے ون ٹو ون ملاقات کی۔ ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات سندھ نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ الیکشن کے دوران ڈیوٹی پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کیلیے بھی پلان تشکیل دیا جائیگا۔انھوںنے کہا کہ صدر نے ہدایت کی ہے پولیس کودرکار فنڈ فوری مہیا کیا جائیں۔
اتوار کو ایک ٹی وی کے مطابق کراچی میں گورنر اور نگراں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کے دوران صدرکاکہنا تھا کہ آئینی طور پر مجھے اختیارات حاصل ہیں، اداروں کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ صدر زرداری نے کہاکہ نگراں حکومت کے پاس وقت کم ہے۔ اسٹاف رپورٹرکے مطابق صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی سمیت نگراں سندھ کابینہ کے ارکان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ملک میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
11 مئی کوملک میں پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقادکیلیے نگراں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں سیکیورٹی اور دیگرمتعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرمربوط سیکیورٹی پلان تشکیل دیں اور انتخابات کے موقع پرامن وامان کیلیے تمام اقدامات کیے جائیں، کراچی سمیت سندھ بھر میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلیے نگراں سندھ حکومت پالیسی اور قواعد وضوابط کے مطابق پولیس میں بھرتیاں کرے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سندھ میں انتخابات کے پرامن انعقاد، کراچی میں امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ اور نگراں وزیراعلیٰ نے صدرکو سندھ میں عام انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات اور کراچی میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ نے صدر مملکت کو نگراں سندھ کابینہ کے اجلاس میں8ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتی کے حوالے سے ہونیوالے فیصلے سے بھی آگاہ کیا۔ صدر نے کہا کہ کراچی میں امن اور عوام کے جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صدر مملکت نے نگراں وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ پولیس کو مزید وسائل اور آلات مہیا کیے جائیں۔ سندھ پولیس میں بھرتیوں سے امن وامان کی صورتحال مزید بہترہوگی۔
صدر نے ہدایت کی کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو مزید تیز کیا جائے اوردہشتگردوں کیخلاف بلا امتیازکارروائی عمل میں لائی جائے۔ صدر نے نگراں حکومت کو ہدایت کی کہ11مئی کوعام انتخابات کے حوالے سے سیکیورٹی کے جامع اقدامات کیے جائیں۔ قبل ازیں صدرمملکت سے گورنر سندھ نے ون ٹو ون ملاقات کی۔ ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات سندھ نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ الیکشن کے دوران ڈیوٹی پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کیلیے بھی پلان تشکیل دیا جائیگا۔انھوںنے کہا کہ صدر نے ہدایت کی ہے پولیس کودرکار فنڈ فوری مہیا کیا جائیں۔