بھارت کا جنگی جنون اور ہماری خارجہ پالیسی

عالمی قوتیں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری مخاصمت کے خاتمے کے لیے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہیں

موناباؤ،کھوکھراپارریلوے لنک میں3سال توسیع کاپاک بھارت معاہدہ فوٹو: فائل

پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم برصغیر کے وقت ہی سے مخاصمت کی بنیاد پڑ گئی تھی۔ بھارت نے اثاثوں کی تقسیم سے لے کر دریائی پانی کی تقسیم تک ہر معاملے میں ڈنڈی ماری اور پاکستان کے مسائل میں اضافہ کرنے کا سامان پیدا کیا۔

جموں وکشمیر اصولی طور پر پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا کیونکہ وہاں کے عوام کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی لیکن پنڈت نہرو نے مہاراجہ کشمیر سے ساز باز کرکے کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کرنے کا اعلان کرا دیا ، یہ دن اور آج کا دن دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر ایسا تنازعہ بن گیا جو آج تک حل نہیں ہوسکا۔ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان جنگوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ پاکستان کا دولخت ہونا بھی دراصل تنازعہ کشمیر کا ہی نتیجہ کہا جاسکتا ہے۔

اس تنازعہ کی وجہ سے دونوں ملک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں، اس مخاصمت کے خاتمے اور دوستی کی راہیں تلاش کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کے دور بھی ہوئے مگر دونوں ممالک کشمیر کے قضیہ کو نمٹانے کے لیے کسی ایک نقطے پر متفق نہ ہو سکے۔ مذاکرات کے ہر دور کے بعد یہ کہہ کر اس امید کو قائم رکھا گیا کہ بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جلد کوئی نہ کوئی قابل قبول حل تلاش کر لیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کی نئی راہوں کا سنگ میل ثابت ہو گا۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کے خلاف جو معاندانہ اور جذباتی رویہ اختیار کیا اس سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہشات پر ناامیدی کے سائے منڈلانے لگے، مذاکرات کی باتیں تو ہوئیں مگر بھارت کے جارحانہ اور غیر سفارتی رویے کے باعث بات چیت کا سلسلہ ایسا منقطع ہوا کہ ابھی تک اس کے بحال ہونے کے قریبی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

مودی نے بھارت کے جنگی جنون کو مزید ہوا دی اور خطے کی بالادست قوت بننے اور اپنے جنگی عزائم کو پروان چڑھانے کے لیے جدید ترین اسلحے کے ڈھیر لگانے کے لیے امریکا سمیت دیگر قوتوں سے رابطے بڑھانا شروع کر دیے۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق اب بھارت نے پاکستانی سرحد پر تعینات فوجیوں کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کے لیے غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کردیے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی سرحد پر تعینات ہندوستانی فوجیوں کو جلد ہی نئی جدید رائفلیں ، ہلکی مشین گنیں اور دیگر اسلحہ فراہم کیا جائے گا۔ وزارت دفاع کے ذرایع نے کہا کہ غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کردیے گئے ہیں۔ جلد ہی 72400 اسالٹ رائفلیں،93895کاربائنز اور 16479ہلکی مشین گنیں مل جائیں گی جن کی قیمت 5366کروڑ روپے ہے۔ ذرایع نے بتایا کہ اسلحہ کی ڈلیوری 3تا 12ماہ میں ہوگی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بھارت نے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع کر رکھی ہے' آئے دن وہ کسی نہ کسی میزائل کا تجربہ کرکے اپنی جنگی قوت میں اضافے کا اظہار کرتا رہتا ہے' بھارت کے اس جنگی جنون کو دیکھتے ہوئے اور اپنی ملکی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے ردعمل کے طور پر پاکستان کو نا چاہتے ہوئے بھی اس دوڑ میں شامل ہونا پڑتا ہے اور پاکستان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ بھارت کا یہ جنگی جنون کہاں جا کر رکے گا اور اس کا انجام کیا ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

دفاعی تجزیہ نگار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارت جس تیزی سے جدید ترین ہتھیاروں کے انبار لگا اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اس کے پس پردہ اس کے کیا عزائم ہیں، کیا وہ پاکستان پر حملہ کر دے گا اور خطے کو ایک بار پھر جنگ کی بھٹی میں جھونک دے گا۔


دوسری جانب یہ بھی قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ جس طرح امریکا اور روس ایٹمی قوت ہونے کے ناتے براہ راست ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے سے گریز کرتے ہیں اسی طرح بھارت اور پاکستان بھی ایٹمی ہتھیاروں کے چل جانے کے خوف سے ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوںگے۔

بالآخر یہ معاملہ کہاں منتج ہو گا، دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوں گے یا نہیں، اس کے بارے میں فی الحال کوئی رائے اخذ کرنا مشکل امر ہے۔ ادھر بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر اور کشمیریوں کے قتل عام کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ رکنے میں نہیں آ رہا' ہفتے کو بھی مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوج نے تلاشی کے بہانے دو کشمیری نوجوانوں کو شہیدکر دیا۔

عالمی قوتیں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری مخاصمت کے خاتمے کے لیے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہیں۔پاکستان کے ایک جانب بھارت سرحدوں پر شرپسندی کر رہا ہے تو دوسری جانب افغانستان شرانگیز کارروائیوں سے باز نہیں آ رہا۔ پاکستان بارہا اس عزم کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ خطے میں قیام امن کے لیے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے آمادہ ہے لیکن ابھی تک پاکستان کو اپنی ان کوششوں کا مثبت جواب نہیں مل رہا۔

خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی گواہی امریکا سمیت دیگر عالمی قوتیں بھی دے رہی ہیں۔ پاکستان میں ترکی کے سفیر احسان مصطفی نے بھی اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کردار کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس خطے کے ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت 'افغانستان اور ایران ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ بھارت میں چابہار بندر گاہ کے راستے افغانستان اور وسط ایشیا تک تجارتی راستہ حاصل کر لیا ہے۔

افغانستان میں بھارت کے مفادات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔افغانستان بھی مسلسل پاکستان کے مخالف پالیسی اپنائے ہوئے ہے 'فاٹا کو پاکستان میں ضم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بھی افغانستان ہے' پاکستان کے اندر موجود کچھ گروہ بھی درپردہ افغانستان کی زبان بولتے ہیں 'امریکا جو کبھی پاکستان کا مضبوط دوست ہوا کرتا تھا 'وہ اب بھارت کا اسٹرٹیجک اتحادی بن چکا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک بھی بھارت کے ساتھ مفادات کے مضبوط رشتے میں بندھ چکے ہیں۔ ان حالات میں بھارت کا دفاعی اعتبار سے مسلسل طاقتور ہونا پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر بھی ازسرنو غور کرنا چاہیے۔ پاکستان کو دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں اپنے لیے مقام تلاش کرنے کے لیے سخت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔

دنیا میں نئے اتحاد بن رہے ہیں جب کہ پرانے اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور چین آزمودہ اتحادی ہیں لیکن پاکستان کو دوسرے ممالک کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات خراب ہیں تو اسے آسٹریلیا ' کینیڈا 'فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔

 
Load Next Story