آسٹریلیا سے برطانیہ تک نان اسٹاپ پرواز کا آغاز
اس فضائی منصوبے کا نام ’’پراجیکٹ سن رائز‘‘ رکھا گیا ہے
اس فضائی منصوبے کا نام ’’پراجیکٹ سن رائز‘‘ رکھا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
آسٹریلیا سے یورپ جانے والی براہ راست پرواز نے 14ہزار 5سوکلو میٹر کا فاصلہ 17گھنٹے 20منٹ میں طے کر کے نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ آسٹریلوی فضائی کمپنی کی نان اسٹاپ مسافر پرواز تھی جو آسٹریلوی شہر پرتھ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی۔
آسٹریلوی ایئر لائن کا مسافر بردار طیارہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے اڑا اور بغیر کہیں اسٹاپ کیے لندن پہنچا جس کے بعد آسٹریلیا سے براہ راست یورپ جانے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ اس کامیاب پرواز سے طیارے کی خاتون پائلٹ لیزا نارمن کو طویل ترین پرواز چلانے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ آسٹریلوی فضائی کمپنی نے دو سال قبل طویل پروازیں چلانے کا آغاز کیا تھا۔ اس فضائی منصوبے کا نام ''پراجیکٹ سن رائز'' رکھا گیا ہے۔
فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ پرتھ سے لندن کی پروار عالمی ہوا بازی کا آخری افق ثابت ہوگی۔ اس ایئر لائن نے کنگرو روٹ کے عنوان سے پہلی طویل پرواز 1947ء میں سڈنی سے لندن تک چلائی تھی۔ یہ پرواز 4 دنوں میں منزل مقصود پر پہنچی اور اسے راستے میں 9 جگہ رکنا پڑاتھا۔
آسٹریلوی محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کم وقت والی ڈبل پروازوں سے آسٹریلیا کے مغربی ساحل کے ممالک کے لیے جہاں پر کہ آبادی بہت کم ہے، بین الاقوامی مسافروں کے لیے دنیا بھر کا راستہ کھل جائے گا۔اس ساری کہانی میں پاکستان کے لیے سبق بھی موجود ہے اور اپنی حالت پر شرمندگی کا پہلو بھی موجود ہے کہ اقوام عالم زندگی کے ہر شعبے میں تعمیروترقی کی نئی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں جب کہ ہم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
ہماری قومی ایئر لائن دنیا کی بہترین فضائی کمپنی تھی لیکن آج یہ پسماندہ ترین ہے' یہی نہیں انگریز جو سامراجی طاقت تھی' وہ اپنے زمانے کا جدید ریلوے سسٹم ورثے میں چھوڑ کر گیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس نظام کو مزید جدید بنانے کے بجائے تباہ کر دیا' اگر اس پر توجہ دی جاتی تو کم از کم پاکستانی ریلوے انڈین ریلوے کے ہم پلہ تو ضرور ہوتا' کس کس بات کا رونا رویا جائے' پبلک سیکٹر کے وہ تمام ادارے تباہ کر دیے گئے جو عوام کے براہ راست مسائل بھی حل کرتے تھے اور سہولتیں بھی فراہم کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 60ء کی دہائی میں ترقی یافتہ اور مہذب ملک تھا لیکن آج یہ پسماندگی کی تصویر ہی نہیں بنا ہوا بلکہ دہشت گردی کی آماجگاہ بھی بنا ہوا ہے' ایک طرف ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر رکھی ہے لیکن دوسری طرف اقتصادی تباہی کی گرد ہر طرف اڑ رہی ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس صورت حال پر غور کرتے ہوئے اپنے طرزعمل میں تبدیلی لانی چاہیے۔
آسٹریلوی ایئر لائن کا مسافر بردار طیارہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے اڑا اور بغیر کہیں اسٹاپ کیے لندن پہنچا جس کے بعد آسٹریلیا سے براہ راست یورپ جانے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ اس کامیاب پرواز سے طیارے کی خاتون پائلٹ لیزا نارمن کو طویل ترین پرواز چلانے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ آسٹریلوی فضائی کمپنی نے دو سال قبل طویل پروازیں چلانے کا آغاز کیا تھا۔ اس فضائی منصوبے کا نام ''پراجیکٹ سن رائز'' رکھا گیا ہے۔
فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ پرتھ سے لندن کی پروار عالمی ہوا بازی کا آخری افق ثابت ہوگی۔ اس ایئر لائن نے کنگرو روٹ کے عنوان سے پہلی طویل پرواز 1947ء میں سڈنی سے لندن تک چلائی تھی۔ یہ پرواز 4 دنوں میں منزل مقصود پر پہنچی اور اسے راستے میں 9 جگہ رکنا پڑاتھا۔
آسٹریلوی محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کم وقت والی ڈبل پروازوں سے آسٹریلیا کے مغربی ساحل کے ممالک کے لیے جہاں پر کہ آبادی بہت کم ہے، بین الاقوامی مسافروں کے لیے دنیا بھر کا راستہ کھل جائے گا۔اس ساری کہانی میں پاکستان کے لیے سبق بھی موجود ہے اور اپنی حالت پر شرمندگی کا پہلو بھی موجود ہے کہ اقوام عالم زندگی کے ہر شعبے میں تعمیروترقی کی نئی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں جب کہ ہم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
ہماری قومی ایئر لائن دنیا کی بہترین فضائی کمپنی تھی لیکن آج یہ پسماندہ ترین ہے' یہی نہیں انگریز جو سامراجی طاقت تھی' وہ اپنے زمانے کا جدید ریلوے سسٹم ورثے میں چھوڑ کر گیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس نظام کو مزید جدید بنانے کے بجائے تباہ کر دیا' اگر اس پر توجہ دی جاتی تو کم از کم پاکستانی ریلوے انڈین ریلوے کے ہم پلہ تو ضرور ہوتا' کس کس بات کا رونا رویا جائے' پبلک سیکٹر کے وہ تمام ادارے تباہ کر دیے گئے جو عوام کے براہ راست مسائل بھی حل کرتے تھے اور سہولتیں بھی فراہم کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 60ء کی دہائی میں ترقی یافتہ اور مہذب ملک تھا لیکن آج یہ پسماندگی کی تصویر ہی نہیں بنا ہوا بلکہ دہشت گردی کی آماجگاہ بھی بنا ہوا ہے' ایک طرف ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر رکھی ہے لیکن دوسری طرف اقتصادی تباہی کی گرد ہر طرف اڑ رہی ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس صورت حال پر غور کرتے ہوئے اپنے طرزعمل میں تبدیلی لانی چاہیے۔