سی پیک ترقی کی راہداری
جب چین نے اس منصوبے کا آغاز کیا تو بھارت کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔
جب چین نے اس منصوبے کا آغاز کیا تو بھارت کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔ فوٹو:فائل
چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کا منصوبہ ابھی زیرتکمیل ہے اور اسے مکمل ہونے میں ایک عرصہ درکار ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کی اقتصادی اور معاشی اہمیت عالمی سطح پر اجاگر ہونے لگی ہے جس کا اظہار وقتاً فوقتاً مختلف ممالک کی جانب سے ہوتا رہتا ہے۔ برطانیہ بھی تجارتی ترقی کی دوڑ میں شریک اس منصوبے سے جنم لینے والے اقتصادی فوائد سمیٹنے کے لیے اس میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔
اب جنوبی ایشیا میں نقل و حمل کے لیے راہداریوں کے قیام کے عنوان سے عالمی بینک کے اقتصادی تجزیہ کار مارٹن میلیکی اور عالمی امدادی اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ سے اس گیم چینجر منصوبے کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے جس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ یہ منصوبہ جلد ہی عالمی سطح پر عظیم اقتصادی منصوبوں میں شمار ہونے لگے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کے شعبوں میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے پاکستان کو اقتصادی ترقی کے فروغ، غربت میں کمی، وسیع تر فوائدکے حصول اور نئے تجارتی راستوںکے قیام سے متاثر ہونے والی آبادی کے لیے امداد کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
یہ رپورٹ ایشیائی ترقیاتی بینک برطانیہ، جاپان کے بین الاقوامی ترقی کے اداروں اور عالمی بینک نے مشترکہ طور پر شایع کی ہے۔ چین سی پیک منصوبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ 52 ارب ڈالر کے تخمینے سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ بڑھتے بڑھتے 62 سے 72 ارب ڈالر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
جب چین نے اس منصوبے کا آغاز کیا تو بھارت کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے لگے جس کے بعد اندرون ملک بھی بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں مختلف تحفظات سامنے آئے لیکن پاکستانی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اس منصوبے کو بہرصورت مکمل کیا جائے گا۔
اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، جہاں اس منصوبے کی تکمیل سے چین کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا وہاں پاکستان میں بھی اقتصادی اور معاشی خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔ اس منصوبے کے تحت چین بجلی کی پیداوار کے منصوبے بھی شروع کر رہا ہے جس سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ خبروں کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے فیز میں گوادر بندرگاہ، بڑی سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں، دوسرے فیز میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی اور زرعی شعبے کو ترقی دی جائے گی اور تیسرے فیز میں جنوبی ایشیا کو وسط ایشیا سے جوڑا جائے گا۔
وسط ایشیا کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان، تاجکستان، آذربائیجان اور قازقستان قدرتی وسائل اور بے پناہ اقتصادی اور معاشی مواقع سے بھرپور ممالک ہیں، روس سے آزادی کے بعد ان مسلم ریاستوں کی منڈیاں پاکستانی مصنوعات اور صنعتکاروں کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوسکتی تھیں لیکن افسوس ہمارے پالیسی سازوں کی غفلت کے باعث ابھی تک پاکستان ان منڈیوں سے وہ فوائد نہیں سمیٹ سکا جس تیزی سے چین، ایران، ترکی اور بھارت یہاں اپنے کاروباری روابط مستحکم اور تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں حتیٰ کہ ان ممالک کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر جنوبی کوریا بھی یہاں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔
اگر کوئی ملک ان تجارتی منڈیوں پر قبضہ کرنے میں غفلت اور عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ وسط ایشیا کی ان تجارتی منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لیے بھارتی پالیسی سازوں نے انتہائی بہتر اور سرعت سے کام کیا، بھارت کو وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کے لیے پاکستان افغانستان سے گزر کر جانا پڑتا تھا، پاکستان کی جانب سے رکاوٹ پیدا ہونے کے باعث وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرا نہیں بیٹھا رہا بلکہ ان ریاستوں پر تجارتی اور ثقافتی رسائی کا راستہ اس نے ایران اور افغانستان سے نکال لیا۔
سی پیک منصوبے میں اگر بھارت، افغانستان اور ایران بھی شریک ہوگئے تو ہمارے پالیسی ساز جس نااہلی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں اس سے اس خدشے کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ممالک پاکستان کے مقابل کہیں زیادہ سی پیک منصوبے سے تجارتی اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری سے معاشی ترقی کے وسیع تر مواقع پیدا ہوں گے جس سے معاشرے کے تمام طبقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو تمام تجارتی اور صنعتی حلقوں کو اس سے منسلک کرنا ہوگا ورنہ اقتصادی ماہرین کے بعض حلقے اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس منصوبے سے اقتصادی فوائد سمیٹنے میں چین کے مقابل پاکستان کے حصے میں صرف تلچھٹ ہی آئے گی۔
اب جنوبی ایشیا میں نقل و حمل کے لیے راہداریوں کے قیام کے عنوان سے عالمی بینک کے اقتصادی تجزیہ کار مارٹن میلیکی اور عالمی امدادی اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ سے اس گیم چینجر منصوبے کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے جس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ یہ منصوبہ جلد ہی عالمی سطح پر عظیم اقتصادی منصوبوں میں شمار ہونے لگے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کے شعبوں میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے پاکستان کو اقتصادی ترقی کے فروغ، غربت میں کمی، وسیع تر فوائدکے حصول اور نئے تجارتی راستوںکے قیام سے متاثر ہونے والی آبادی کے لیے امداد کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
یہ رپورٹ ایشیائی ترقیاتی بینک برطانیہ، جاپان کے بین الاقوامی ترقی کے اداروں اور عالمی بینک نے مشترکہ طور پر شایع کی ہے۔ چین سی پیک منصوبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ 52 ارب ڈالر کے تخمینے سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ بڑھتے بڑھتے 62 سے 72 ارب ڈالر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
جب چین نے اس منصوبے کا آغاز کیا تو بھارت کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے لگے جس کے بعد اندرون ملک بھی بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں مختلف تحفظات سامنے آئے لیکن پاکستانی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اس منصوبے کو بہرصورت مکمل کیا جائے گا۔
اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، جہاں اس منصوبے کی تکمیل سے چین کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا وہاں پاکستان میں بھی اقتصادی اور معاشی خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔ اس منصوبے کے تحت چین بجلی کی پیداوار کے منصوبے بھی شروع کر رہا ہے جس سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ خبروں کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے فیز میں گوادر بندرگاہ، بڑی سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں، دوسرے فیز میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی اور زرعی شعبے کو ترقی دی جائے گی اور تیسرے فیز میں جنوبی ایشیا کو وسط ایشیا سے جوڑا جائے گا۔
وسط ایشیا کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان، تاجکستان، آذربائیجان اور قازقستان قدرتی وسائل اور بے پناہ اقتصادی اور معاشی مواقع سے بھرپور ممالک ہیں، روس سے آزادی کے بعد ان مسلم ریاستوں کی منڈیاں پاکستانی مصنوعات اور صنعتکاروں کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوسکتی تھیں لیکن افسوس ہمارے پالیسی سازوں کی غفلت کے باعث ابھی تک پاکستان ان منڈیوں سے وہ فوائد نہیں سمیٹ سکا جس تیزی سے چین، ایران، ترکی اور بھارت یہاں اپنے کاروباری روابط مستحکم اور تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں حتیٰ کہ ان ممالک کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر جنوبی کوریا بھی یہاں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔
اگر کوئی ملک ان تجارتی منڈیوں پر قبضہ کرنے میں غفلت اور عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ وسط ایشیا کی ان تجارتی منڈیوں پر قبضہ کرنے کے لیے بھارتی پالیسی سازوں نے انتہائی بہتر اور سرعت سے کام کیا، بھارت کو وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کے لیے پاکستان افغانستان سے گزر کر جانا پڑتا تھا، پاکستان کی جانب سے رکاوٹ پیدا ہونے کے باعث وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرا نہیں بیٹھا رہا بلکہ ان ریاستوں پر تجارتی اور ثقافتی رسائی کا راستہ اس نے ایران اور افغانستان سے نکال لیا۔
سی پیک منصوبے میں اگر بھارت، افغانستان اور ایران بھی شریک ہوگئے تو ہمارے پالیسی ساز جس نااہلی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں اس سے اس خدشے کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ممالک پاکستان کے مقابل کہیں زیادہ سی پیک منصوبے سے تجارتی اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری سے معاشی ترقی کے وسیع تر مواقع پیدا ہوں گے جس سے معاشرے کے تمام طبقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو تمام تجارتی اور صنعتی حلقوں کو اس سے منسلک کرنا ہوگا ورنہ اقتصادی ماہرین کے بعض حلقے اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس منصوبے سے اقتصادی فوائد سمیٹنے میں چین کے مقابل پاکستان کے حصے میں صرف تلچھٹ ہی آئے گی۔