آرمی چیف کی برونائی کے سلطان سے ملاقات

آرمی چیف کا دورہ اس لحاظ سے خوش آیند ہے کہ پاکستان کو برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے

آرمی چیف کا دورہ اس لیے خوش آیند ہے کہ پاکستان کو اس وقت برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے، فوٹو: فائل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو برونائی دارالسلام کا سرکاری دورہ کیا جہاں انھوں نے برونائی کے سلطان حاجی حسن الب لقیاہ معیز الدین سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں جس میں دفاع شعبے میں باہمی تعاون، تربیت اور سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے برونائی کے نائب وزیر دفاع داتو پدوکا سری یوسف اور بری و فضائی افواج کے سربراہوں سے ملاقاتیں بھی کیں جس میں تربیت اور سیکیورٹی تعاون پر گفتگو کی۔ برونائی دارالسلام کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔

اسلامی بھائی چارے پر قائم تعلقات میں برونائی دارالسلام نے ہمیشہ پاکستان کو سپورٹ کیا ہے جب کہ پاکستان بھی ہمیشہ برونائی کے ساتھ تعلقات میں پیش پیش رہا ہے۔ بلاشبہ برونائی رقبہ کے لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے لیکن اپنے وسائل اور ذرایع کے حساب سے متمول ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔


برونائی یکم جنوری 1984 کو برطانیہ سے آزاد ہوا، 1999 سے 2008 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 56 فیصد رہی جس کی وجہ سے برونائی اب صنعتی ریاست بن گئی ہے۔ اس کی دولت کا بڑا حصہ تیل اور قدرتی گیس کے ذخیروں سے آتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ریاستوں میں سنگاپور کے بعد برونائی انسانی ترقی کے اعشاریئے میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اسے ترقی یافتہ ملک مانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق برونائی میں فی کس قوت خرید دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے جب کہ لیبیا کے علاوہ برونائی دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں قرضے قومی آمدنی کا صفر فیصد ہیں۔

فوربس کے مطابق برونائی 182 ممالک میں 5 واں امیر ترین ملک ہے۔ برونائی کی سیاسی و عسکری قیادت نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کو سراہا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی شعبہ میں تعاون پر تبادلہ خیال خوش آیند ہے، برنائی کے سربراہ نے ہمیشہ پاکستان کے لیجنڈری شکسیات کی قدر افزائی کی ہے ہمارے کئی سپر اسٹارز وہاں کے یوتھ ٹیلنٹ سے ملاقاتیں کرچکے ہیں ، جاوید میانداد نے وہاں کرکٹ کے شائقین کو کرکٹ کے ہنر سے آگاہ کیا تھا۔ پاکستان کی عسکری قوت کی ایک دنیا معترف ہے، برونائی دارالسلام پاکستان کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب کہ برونائی کو عسکری تربیت اور سیکیورٹی تعاون کے ذریعے بھی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

آرمی چیف آف پاکستان کا دورۂ برونائی اس لحاظ سے خوش آیند ہے کہ پاکستان کو اس وقت برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ان دنوں مختلف ممالک کے خیر سگالی دوروں کے ذریعے تجدید تعلقات اور نئے معاہدوں کے ذریعے پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ آرمی چیف کی کوششیں مثبت نتائج سامنے لائیں گی۔
Load Next Story