روس شاپنگ مال میں آتشزدگی کا افسوس ناک سانحہ

پاکستان میں بھی آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، مذکورہ سانحے سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں بھی آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، مذکورہ سانحے سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے، فوٹو: انٹرنیٹ

صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی آتشزدگی کے افسوسناک سانحات وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں، تمام تر حفاظتی تدابیر اور احتیاط کے باوجود ذرا سی انسانی غفلت ایک بڑے سانحہ کو جنم دے کر درجنوں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں کا باعث بن جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک افسوس ناک واقعہ پیر کو روس پیش آیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق روس کے شہر کیموروو کے ایک شاپنگ میں ''ونٹرچیری'' میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں بچوں سمیت 64 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 41 بچے بھی شامل ہیں جب کہ 10 بچے لاپتہ ہیں۔ آگ مال میں واقع کمپلیکس کی بالائی منزل پر اس وقت لگی جب وہاں متعدد افراد موجود تھے، آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے مال کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 17گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔


سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس میں آتشزدگی کا یہ بدترین واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔صدر پوتن نے ہلاکتوں پر غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی آتشزدگی کے سانحے پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی حتمی وجوہ کا علم نہیں ہوسکا، تاہم خطے کے ڈپٹی گورنر ولادی میر چرنوو نے بتایا کہ آگ بچوں کے کھیل کے مقام پر لگی۔

شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کسی بچے کے پاس لائٹر موجود تھا جس سے بھڑکنے والی آگ نے اس جگہ پر موجود ربڑ اور فوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق 4 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، وقوعے کے وقت شاپنگ سینٹر میں قائم سینما ہالز میں بہت سے افراد فلم دیکھ رہے تھے۔

ایک ترقی یافتہ ملک میں آتشزدگی کا بڑا سانحہ قابل افسوس ہے۔ پاکستان میں بھی آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، مذکورہ سانحے سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ صائب ہوگا کہ شاپنگ مالز،تفریح گاہوں اور سینما گھروں میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے فوری احتیاطی تدابیر سے آگاہی اور آگ بجھانے کے آلات بروقت تیار رکھے جائیں جب کہ کسی بھی قسم کی بے احتیاطی سے بچنے کی بھی ضرورت ہے۔ صرف پیش بندی اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہی کسی بھی حادثہ کو سانحہ بننے سے روکا جاسکتا ہے۔
Load Next Story