برآمدات رواں مالی سال 231 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی سیکریٹری تجارت

چین کے ساتھ ایف ٹی اے پرنظرثانی ہو رہی ہے،مذاکرات کا دوسرا دورآئندہ ماہ ہوگا

مارکیٹ رسائی، پیداواری لاگت اور زرمبادلہ کی شرح تبادلہ جیسے مسائل ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے میں رکاوٹ ہیں، فوٹو: فائل

وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا نے کہاہے کہ رواں مالی سال کا23.1 ارب ڈالر مالیت کا برآمدی ہدف حاصل کرلیا جائے گا رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں ملکی برآمدات میں13 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

چین کے ساتھ ایف ٹی اے ہوتے ہی اگرچہ پاکستان کوتجارتی بنیادوں پر فائدہ پہنچا لیکن بعد ازاں چین کی آسیان ممالک کی جانب سے توجہ بڑھنے سے پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے ہیں، تاہم وزارت تجارت چین کے ساتھ ایف ٹی اے کا ازسرنوجائزہ لے رہی ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات کا دوسرا دوراپریل میں ہوگا۔ منگل کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 19 ویں بین الاقوامی ٹیکسٹائل ایشیا نمائش کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ چین سے درآمدہونے والی مصنوعات کی انڈرانوائسنگ پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے۔


مارکیٹ رسائی، پیداواری لاگت اورزرمبادلہ کی شرح تبادلہ جیسے مسائل ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں مطلوبہ اضافے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خطے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے اور جب تک صنعتی شعبے میں اپ گریڈیشن اور تازہ سرمایہ کاری نہیں ہوگی اس وقت تک صنعت کاری اور برآمدات متاثر رہیں گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی روپے کی قدر کا تعین اگر درست رہے گا تو پاکستانی مصنوعات کا بیرونی خریدار اورمقامی فروخت کنندگان دونوں کو فائدہ ہوگا، حکومت سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے لیے متحرک ہے جبکہ ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی مدت میں توسیع خوش آئند امر ہے جس سے سب سے زیادہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹرکو فائدہ پہنچا ہے۔

نمائش کے منتظم ڈاکٹرخورشید نظام نے بتایا کہ تین روزہ ٹیکسٹائل ایشیا نمائش میں چین ، اٹلی، جاپان، متحدہ عرب امارات، اوریورب سمیت دنیا کے 27 ممالک سے1200 سے زائد غیرملکی شرکت کررہے ہیں جبکہ چین کے صوبہ زی جیانگ کی 150 کمپنیاں پہلی بار پاکستان آئی ہیں اور ان کمپنیوں کا علیحدہ پولین قائم کیا گیا ہے،نمائش میں 70 فیصد شمولیت چین کی ہے جوپاکستانی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچر کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ یورپین معیارکی جدید ٹیکنالوجی کی حامل ٹیکسٹائل مشینری بھی پاکستان کو فراہم کرنے کی پیشکش کررہے ہیں۔

اس موقع پر چین کے صوبے زی جیانگ کے کامرس اینڈ ٹریڈ ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹرلی یانگ نے کہا کہ سی پیک دونوں ملکوں کی لازوال دوستی کا مظہر ہے، پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات میں جدت کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے، کراچی آکر ابھرتے ہوئے پاکستان کی سچائی جان لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان کے شعبہ ٹیکسٹائل کے ساتھ چینی کمپنیوں کے متعدد معاہدے متوقع ہیں۔
Load Next Story