نان فائلرپرٹیکس ریٹ بڑھانے پرغورکررہے ہیں ہارون اختر
ٹیکس نیٹ میں توسیع کیلیے پرتعیش زندگی گزارنے والوں کی فہرست بنائی جا رہی ہے
کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا،آئی کیپ کے پری بجٹ سیمینار سے خطاب فوٹو: فائل
KAULA LUMPUR:
وزیرمملکت ریونیو ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ مالی سال 2018-19 کے وفاقی بجٹ میں کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔
وزیر مملکت ہارون اختر نے کہا ایوی ایشن سے زیادہ سفر کرنے والوں کا ڈیٹا بنایا جارہا ہے، ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے پرتعیش زندگی گزارنے والوں کی فہرست مرتب کی جارہی ہے تاکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکے۔ پیر کی شب انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان کے تحت پری بجٹ سیمینار سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں مسائل کا سامنا ہے، بڑھتا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑا چیلنج ہے لیکن بہت سے جگہوں ہر پاکستان نے نمایاں بہتری حاصل کی ہے،پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ6 فیصد کے قریب ہے،ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، سود کی شرح کم سطح پر ہونے کے فوائد حاصل ہوئے ہیں، مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر آگئی ہے، درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا لیکن ملکی برآمدات اس تناسب کے ساتھ نہ بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 80 ارب روپے کے ایکسپورٹ پیکچ کے بعد برآمدات میں اضافہ ہورہاہے جو ٹیکس نیٹ میں نہیں اور پرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔
ان کی فہرست پر کام ہورہا ہے،نئے وفاقی بجٹ میں نان فائلر پر ٹیکس ریٹ مزید بڑھانے پر غورکیا جارہا ہے، ٹیکس ریٹ بڑھنے پر نان فائلر خود ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائے گا،جائیداد پر ایف بی آر کی ویلیو ایشن لانے بڑا قدم تھا، اس اقدامات سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر بھی ٹیکس نیٹ میں آگیا ہے۔ قبل ازیں چیئرمین آئی کیپ ٹیکس کمیٹی اشفاق تولہ نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو سہل بنایا جائے، فنانس ایکٹ مجریہ2017 میں کم ازکم سالانہ ٹیکس 1فیصد کی شرح سے بڑھاکر1.25فیصد کیا گیا تھالہٰذا کم سے کم ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے، کمپنیوں پر سپرٹیکس کا اضافی بوجھ ہے، آئی کیپ کی پالیسی کسی بھی ایمنسٹی اسکیم کے حق میں نہیں، منی لانڈرنگ کے خاتمے، ٹیکس ادا کیے بغیررقم سے بیرون ملک اثاثوں کے لیے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دینا ہوگی۔
اب بیرون ملک بھی اثاثے بنانے کے قوانین سخت ہوگئے ہیں۔ آئی کیپ کی جانب سے سیمینار میں تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح30 فیصد سے کم کر کے25 فیصد کی جائے، کاروباری لاگت میں کمی کے لیے گیس اورپاورٹیرف پر نظرثانی کی جائے، کاروبار آسان بنانے کے لیے سسٹم میں بہتری لائی جائے، ایف بی آر غیررجسٹرڈ افراد پر اضافی ٹیکس عائد کرے، غیررجسٹرڈ افراد پرکمرشل یا انڈسٹریل بجلی اور گیس کے ماہانہ 15 ہزار روپے کے بل پر5 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے، رجسٹرڈ افراد پر ٹیکس شرح کم کی جائے، 1300 یا اس سے زائد سی سی کی حامل گاڑیوں کی خریدو فروخت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
وزیرمملکت ریونیو ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ مالی سال 2018-19 کے وفاقی بجٹ میں کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔
وزیر مملکت ہارون اختر نے کہا ایوی ایشن سے زیادہ سفر کرنے والوں کا ڈیٹا بنایا جارہا ہے، ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے پرتعیش زندگی گزارنے والوں کی فہرست مرتب کی جارہی ہے تاکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکے۔ پیر کی شب انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان کے تحت پری بجٹ سیمینار سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں مسائل کا سامنا ہے، بڑھتا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑا چیلنج ہے لیکن بہت سے جگہوں ہر پاکستان نے نمایاں بہتری حاصل کی ہے،پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ6 فیصد کے قریب ہے،ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، سود کی شرح کم سطح پر ہونے کے فوائد حاصل ہوئے ہیں، مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر آگئی ہے، درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا لیکن ملکی برآمدات اس تناسب کے ساتھ نہ بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 80 ارب روپے کے ایکسپورٹ پیکچ کے بعد برآمدات میں اضافہ ہورہاہے جو ٹیکس نیٹ میں نہیں اور پرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔
ان کی فہرست پر کام ہورہا ہے،نئے وفاقی بجٹ میں نان فائلر پر ٹیکس ریٹ مزید بڑھانے پر غورکیا جارہا ہے، ٹیکس ریٹ بڑھنے پر نان فائلر خود ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائے گا،جائیداد پر ایف بی آر کی ویلیو ایشن لانے بڑا قدم تھا، اس اقدامات سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر بھی ٹیکس نیٹ میں آگیا ہے۔ قبل ازیں چیئرمین آئی کیپ ٹیکس کمیٹی اشفاق تولہ نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو سہل بنایا جائے، فنانس ایکٹ مجریہ2017 میں کم ازکم سالانہ ٹیکس 1فیصد کی شرح سے بڑھاکر1.25فیصد کیا گیا تھالہٰذا کم سے کم ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے، کمپنیوں پر سپرٹیکس کا اضافی بوجھ ہے، آئی کیپ کی پالیسی کسی بھی ایمنسٹی اسکیم کے حق میں نہیں، منی لانڈرنگ کے خاتمے، ٹیکس ادا کیے بغیررقم سے بیرون ملک اثاثوں کے لیے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دینا ہوگی۔
اب بیرون ملک بھی اثاثے بنانے کے قوانین سخت ہوگئے ہیں۔ آئی کیپ کی جانب سے سیمینار میں تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح30 فیصد سے کم کر کے25 فیصد کی جائے، کاروباری لاگت میں کمی کے لیے گیس اورپاورٹیرف پر نظرثانی کی جائے، کاروبار آسان بنانے کے لیے سسٹم میں بہتری لائی جائے، ایف بی آر غیررجسٹرڈ افراد پر اضافی ٹیکس عائد کرے، غیررجسٹرڈ افراد پرکمرشل یا انڈسٹریل بجلی اور گیس کے ماہانہ 15 ہزار روپے کے بل پر5 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے، رجسٹرڈ افراد پر ٹیکس شرح کم کی جائے، 1300 یا اس سے زائد سی سی کی حامل گاڑیوں کی خریدو فروخت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔