وزیر اعظمچیف جسٹس ملاقات خوش آیند
وزیر اعظم نے مفاد عامہ سے متعلق معاملات میں چیف جسٹس کے اقدامات میں مکمل حمایت کا یقین دلایا
وزیر اعظم نے مفاد عامہ سے متعلق معاملات میں چیف جسٹس کے اقدامات میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے ملاقات کی ہے۔ سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ اپنی آئینی ذمے داریاں آزادانہ قانون کے مطابق بغیر کسی خوف اور جانبداری کے منصفانہ اور شفاف طریقے سے ادا کرتی رہے گی۔اعلامیہ کے مطابق ملاقات کا اہتمام وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر ہوا، ملاقات کی درخواست اٹارنی جنرل اشتر علی اوصاف کے ذریعے کی گئی تھی۔
یہ ملاقات بلاشبہ اچھی پیش رفت ہے جو ایک اعصاب شکن سیاسی و عدالتی کشمکش کے نکتہ عروج پر ہوئی جب کہ ادارہ جاتی سطح پر یہ ایک خوش آیند مکالمہ کے آغازکا درست اقدام بھی ہے جس میں قوم کو درپیش مختلف النوع مسائل ، اہم ایشوز اور داخلی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس بیش قیمت جمہوری پیش قدمی کی ضرورت بھی تھی جس کے باعث ریاستی اداروں کے مابین رسہ کشی، بدگمانی اور ممکنہ تصادم کے نہ صرف خطرہ کو ٹالنے میں مدد ملے گی بلکہ آیندہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق قیاس آرائیوں کا بھی سدباب ہوسکتا ہے جب کہ میڈیا میں 2018 کے انتخابات کے تکنیکی یا حلقہ بندیوں کے زیر غور متنازع مسئلہ پر ممکنہ التوا کے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے، میڈیا کی خبر کے مطابق اگرچہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کرانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہے اور اسے حلقہ بندیوں کی موصول شکایتوں کے پیش نظر الیکشن میں تاخیر یا التوا کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جب کہ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو اوپن میدان دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر میں ہوئی۔ ترجمان سپریم کورٹ کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر چیف جسٹس کے وژن کے مطابق عدالتی نظام میں اصلاحات لانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور یقین دلایا کہ حکومت عوام کو سستے اور فوری انصاف دلانے اور انصاف تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کرے گی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے مختلف فورمز پر ایف بی آر اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے زیر التوا مقدمات میں حائل مشکلات سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا جب کہ چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ ان مقدمات کے جلد فیصلوں کو ممکن بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم نے مفاد عامہ سے متعلق معاملات میں چیف جسٹس کے اقدامات میں مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ مفت تعلیم ،صحت اور اسپتالوں کے حالات کو ٹھیک کرنے، معیاری صحت، خصوصاً نجی شعبہ میں میڈیکل کی تعلیم میں بہتری لانے ، نکاسی آب ، صاف پانی کی فراہمی اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے چیف جسٹس کے اقدامات سے بہتری آئے گی، چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ اپنی آئینی ذمے داری ، آزادانہ، غیر جانبدارانہ ، شفاف اور بلا خوف ورغبت قانون کے مطابق ادا کرے گی۔ ذرایع نے بتایا کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کے درمیان طویل ملاقات کے دوران نظام انصاف میں اصلاحات کے علاوہ پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سیر حاصل بحث ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اداروں کے مابین مکالمہ کی جس پرزور طریقہ پر وکالت کی گئی اس دو طرفہ ملاقات کو اسی خیرسگالی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، یہ اسی دردمندی کا نتیجہ ہے کہ مورچہ لگائے سیاست دانوں کو افہام و تفہیم اور روادارانہ تعلقات کار کی ضرورت کا ادراک ہونے لگا ہے، اس سیاق وسباق میں سیاسی رہنما اپنی انتخابی سرگرمیوں کو جامع رخ دے سکیں گے، الزام تراشی اور کردار کشی کی سیاست کی جگہ سنجیدہ طرز سیاست کو فروغ حاصل ہوگا، دریدہ دہنی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قوم کو یہ اطمینان بھی ملے گا کہ قومی سیاست کی قسمت میں ''عاشق کا گریباں ہونا '' نہیں لکھا ہے، سیاست میں بنیادی تبدیلیوں کی نوید ملنا نیک شگون ہے۔
پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے چیف جسٹس سے ملنے کو شکوک پیدا کرنے سے تعبیر کیا ہے جب کہ پی ٹی آئی نے نواز شریف کو باہر بجھوانے کی کوششوں پر تحٖفظات ظاہر کیے ہیں، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فوج اور سپریم کورٹ جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہیں، ادھرمسلم لیگ ن کے قریبی سیاسی ذرایع سے ملنے والی اخباری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے مابین ملاقات کے حوالے سے بھی گنجائش رکھی گئی تھی اور یہ مسلم لیگ ن کے نئے صدر شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے نواز شریف کو دو بڑوں کی ملاقات پر قائل کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ملکی سیاست میں ایک نیا باب بھی کھلا جو ماضی کی سنگین غلطیوں کے اعتراف اور تاریخ سے سبق سیکھنے کی طرف ایک صائب پیش رفت کہی جاسکتی ہے۔
ن لیگ کے قائد نواز شریف نے کہا کہ انھیں پیپلزپارٹی کی حکومت اور حسین حقانی کے خلاف میموگیٹ کیس کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا، اپنی اس غلطی کا 7 سال بعد اعتراف انھوں نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ادھر سپریم کورٹ نے میموگیٹ سکینڈل کے ملزم حسین حقانی کی واپسی کے بارے میں حکومتی اقدامات ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا عدالت اب تک کی پیشرفت سے مطمئن نہیں اور یہ محض دکھاوا ہے۔
دریں اثناوفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو چند دہائیوں سے مخصوص سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت مضبوط،حالات نارمل ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اور وزار ت داخلہ کے زیر اہتمام داخلی سیکیورٹی اور امن و استحکام کے حوالے سے نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جب کہ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا اس معاملہ پر کہنا تھاکہ ادارے ایک دوسر ے کے خلاف صف آرا ہیں ایسی صورت حال میں پالیسیوں کا تسلسل کہاں سے آئے گا، انھوں نے 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتوں پر بھی تشویش ظاہر کی، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کے مطابق مضبوط معیشت کے بغیر محفوظ ملک ناممکن ہے ۔
بہرحال ہائی پروفائل ملاقات کے دوطرفہ بریک تھرو کو حقیقت پسندانہ جمہوری سیاسی رویے کا نکتہ آغاز سمجھتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو کوشش کرنی چاہیے کہ آیندہ انتخابات سے قبل عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے، انتخابی مہم کے لیے ضابطہ اخلاق طے ہو، سیاسی کثیر جہتی ملاقاتوں میں الیکشن فیئر پلے کی یقین دہانی کرائے جائے، اور نتیجہ خیز مکالمہ کے تعمیری اور خوش آیند مضمرات اور اثرات کو آگے بڑھانے کی اجتماعی کوششیں اور آیندہ انتخابات کی تیاریاں کریں۔
یہ ملاقات بلاشبہ اچھی پیش رفت ہے جو ایک اعصاب شکن سیاسی و عدالتی کشمکش کے نکتہ عروج پر ہوئی جب کہ ادارہ جاتی سطح پر یہ ایک خوش آیند مکالمہ کے آغازکا درست اقدام بھی ہے جس میں قوم کو درپیش مختلف النوع مسائل ، اہم ایشوز اور داخلی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس بیش قیمت جمہوری پیش قدمی کی ضرورت بھی تھی جس کے باعث ریاستی اداروں کے مابین رسہ کشی، بدگمانی اور ممکنہ تصادم کے نہ صرف خطرہ کو ٹالنے میں مدد ملے گی بلکہ آیندہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق قیاس آرائیوں کا بھی سدباب ہوسکتا ہے جب کہ میڈیا میں 2018 کے انتخابات کے تکنیکی یا حلقہ بندیوں کے زیر غور متنازع مسئلہ پر ممکنہ التوا کے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے، میڈیا کی خبر کے مطابق اگرچہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کرانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہے اور اسے حلقہ بندیوں کی موصول شکایتوں کے پیش نظر الیکشن میں تاخیر یا التوا کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جب کہ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو اوپن میدان دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر میں ہوئی۔ ترجمان سپریم کورٹ کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر چیف جسٹس کے وژن کے مطابق عدالتی نظام میں اصلاحات لانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور یقین دلایا کہ حکومت عوام کو سستے اور فوری انصاف دلانے اور انصاف تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کرے گی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے مختلف فورمز پر ایف بی آر اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے زیر التوا مقدمات میں حائل مشکلات سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا جب کہ چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ ان مقدمات کے جلد فیصلوں کو ممکن بنایا جائے گا۔
وزیر اعظم نے مفاد عامہ سے متعلق معاملات میں چیف جسٹس کے اقدامات میں مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ مفت تعلیم ،صحت اور اسپتالوں کے حالات کو ٹھیک کرنے، معیاری صحت، خصوصاً نجی شعبہ میں میڈیکل کی تعلیم میں بہتری لانے ، نکاسی آب ، صاف پانی کی فراہمی اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے چیف جسٹس کے اقدامات سے بہتری آئے گی، چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ اپنی آئینی ذمے داری ، آزادانہ، غیر جانبدارانہ ، شفاف اور بلا خوف ورغبت قانون کے مطابق ادا کرے گی۔ ذرایع نے بتایا کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کے درمیان طویل ملاقات کے دوران نظام انصاف میں اصلاحات کے علاوہ پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سیر حاصل بحث ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اداروں کے مابین مکالمہ کی جس پرزور طریقہ پر وکالت کی گئی اس دو طرفہ ملاقات کو اسی خیرسگالی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، یہ اسی دردمندی کا نتیجہ ہے کہ مورچہ لگائے سیاست دانوں کو افہام و تفہیم اور روادارانہ تعلقات کار کی ضرورت کا ادراک ہونے لگا ہے، اس سیاق وسباق میں سیاسی رہنما اپنی انتخابی سرگرمیوں کو جامع رخ دے سکیں گے، الزام تراشی اور کردار کشی کی سیاست کی جگہ سنجیدہ طرز سیاست کو فروغ حاصل ہوگا، دریدہ دہنی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قوم کو یہ اطمینان بھی ملے گا کہ قومی سیاست کی قسمت میں ''عاشق کا گریباں ہونا '' نہیں لکھا ہے، سیاست میں بنیادی تبدیلیوں کی نوید ملنا نیک شگون ہے۔
پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے چیف جسٹس سے ملنے کو شکوک پیدا کرنے سے تعبیر کیا ہے جب کہ پی ٹی آئی نے نواز شریف کو باہر بجھوانے کی کوششوں پر تحٖفظات ظاہر کیے ہیں، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فوج اور سپریم کورٹ جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہیں، ادھرمسلم لیگ ن کے قریبی سیاسی ذرایع سے ملنے والی اخباری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے مابین ملاقات کے حوالے سے بھی گنجائش رکھی گئی تھی اور یہ مسلم لیگ ن کے نئے صدر شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے نواز شریف کو دو بڑوں کی ملاقات پر قائل کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ملکی سیاست میں ایک نیا باب بھی کھلا جو ماضی کی سنگین غلطیوں کے اعتراف اور تاریخ سے سبق سیکھنے کی طرف ایک صائب پیش رفت کہی جاسکتی ہے۔
ن لیگ کے قائد نواز شریف نے کہا کہ انھیں پیپلزپارٹی کی حکومت اور حسین حقانی کے خلاف میموگیٹ کیس کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا، اپنی اس غلطی کا 7 سال بعد اعتراف انھوں نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ادھر سپریم کورٹ نے میموگیٹ سکینڈل کے ملزم حسین حقانی کی واپسی کے بارے میں حکومتی اقدامات ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا عدالت اب تک کی پیشرفت سے مطمئن نہیں اور یہ محض دکھاوا ہے۔
دریں اثناوفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو چند دہائیوں سے مخصوص سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت مضبوط،حالات نارمل ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اور وزار ت داخلہ کے زیر اہتمام داخلی سیکیورٹی اور امن و استحکام کے حوالے سے نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جب کہ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا اس معاملہ پر کہنا تھاکہ ادارے ایک دوسر ے کے خلاف صف آرا ہیں ایسی صورت حال میں پالیسیوں کا تسلسل کہاں سے آئے گا، انھوں نے 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتوں پر بھی تشویش ظاہر کی، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کے مطابق مضبوط معیشت کے بغیر محفوظ ملک ناممکن ہے ۔
بہرحال ہائی پروفائل ملاقات کے دوطرفہ بریک تھرو کو حقیقت پسندانہ جمہوری سیاسی رویے کا نکتہ آغاز سمجھتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو کوشش کرنی چاہیے کہ آیندہ انتخابات سے قبل عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے، انتخابی مہم کے لیے ضابطہ اخلاق طے ہو، سیاسی کثیر جہتی ملاقاتوں میں الیکشن فیئر پلے کی یقین دہانی کرائے جائے، اور نتیجہ خیز مکالمہ کے تعمیری اور خوش آیند مضمرات اور اثرات کو آگے بڑھانے کی اجتماعی کوششیں اور آیندہ انتخابات کی تیاریاں کریں۔