ریشماں کی گائیکی سے متاثر ہوکر میوزک کواپنایارچاشرما
دنیا میں جہاں بھی پرفارم کرنے جاؤں مداح ریشماں جی کے گائے گیت ضرورسنتے ہیں
دنیا میں جہاں بھی پرفارم کرنے جاؤں مداح ریشماں جی کے گائے گیت ضرورسنتے ہیں۔ فوٹو : فائل
بالی ووڈ فلموں کی معروف پلے بیک سنگررچاشرما نے کہا ہے کہ گلوکارہ ریشماں اس دورکی لیجنڈ ہیں۔
ان کی گائیکی سے متاثر ہوکرہی میں نے میوزک کے شعبے کواپنایا۔ وہ پاکستان کی ہی نہیں بلکہ ہندوستان اورپوری دنیاکی پسندیدہ گلوکارہ ہیں۔ انھوں نے جس طرح سے اپنے گیتوں سے اپنی ایک منفرد پہنچان بنائی اس کی مثال دنیا میں بہت کم ہی ملتی ہے۔ میں دنیا میں جہاں بھی پرفارم کرنے کے لیے جاؤں میرے چاہنے والے ریشماں جی کے گائے گیت ضرورسنتے ہیں۔ آج ان کی طبعیت ناساز ہے مگردنیا بھر میں ان کے چاہنے والے ان کی صحتیابی کے لیے دعائیں مانگنے کے ساتھ منتیں مان رہیں ہیں۔
ان خیالات کا اظہار رچا شرما نے گزشتہ روز امریکہ سے فون پر ''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں گزشتہ دوہفتوںسے امریکہ میں منعقدہ میوزک پروگراموں میں پرفارمنس کے لیے آئی ہوں لیکن جیسے ہی مجھے یہ خبر ملی کہ ریشماں جی کی طبعیت ناساز ہوگئی ہے اوروہ اسپتال داخل ہیں تومیں نے فوراً ان سے رابطے کی کوشش کی مگرنیٹ ورک کی خرابی کے باعث ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ میں ان کی بہت بڑی پرستارہوں۔ ان کی آواز میں جومٹھاس ہے اور وہ جس طرح سے سُرکو دیکھتی ہیں وہ کسی دوسرے کے بس کی بات نہیں۔
وہ جتنی بڑی گلوکارہ ہیں اس سے کہیں بڑی انسان ہیں۔ اتنی بڑی گلوکارہ ہونے کے باوجود وہ بہت سادہ طبیعت ہیں۔ ان سے ممبئی میں ایک مرتبہ ملاقات ہوئی جس کوکبھی نہیں بھلاسکتی۔ انھوں نے مجھے موسیقی کے اتار چڑھاؤ بارے بہت سی باریکیاں سمجھائیں اورمیری ترقی کے لیے دعائیں دیں۔ میری دعا ہے کہ وہ جلد ازجلد صحتیاب ہوں اوراپنی میٹھی آوازکے ذریعے لوگوںکو انٹرٹین کریں۔
انھوں نے کہا کہ میرے ایک قریبی دوست نے مجھے بتایا ہے کہ ریشماں جی کا علاج پاکستان میں جاری ہے اور حکومت کی طرف سے بھی ان کو علاج ومعالجہ کی سہولت دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ چاہیں توان کا بھارت میں بھی علاج کروایا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رچاشرمانے کہا کہ کچھ لوگوںکا کہنا ہے کہ میری آوازاوراندازریشماں جی سے ملتاہے تومیںفخر سے پھولے نہیں سماتی۔ کیونکہ ریشماں جی جیسا اگرمیں گانے لگ جاؤں تواس سے بڑی خوش نصیبی اورکیا ہو گی۔
یہی وجہ ہے کہ میں دنیا میں جہاں کہیں بھی جاؤں تومجھے ریشماں جی کے گائے گیت سنانے کی فرمائش ضرورہوتی ہے۔ ان کے گائے سارے گیت مجھے پسند ہیں لیکن 'چاردناں دا پیارای ربّا ، بڑی لمبی جدائی ' میرا پسندیدہ گیت ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہوجائیں۔
ان کی گائیکی سے متاثر ہوکرہی میں نے میوزک کے شعبے کواپنایا۔ وہ پاکستان کی ہی نہیں بلکہ ہندوستان اورپوری دنیاکی پسندیدہ گلوکارہ ہیں۔ انھوں نے جس طرح سے اپنے گیتوں سے اپنی ایک منفرد پہنچان بنائی اس کی مثال دنیا میں بہت کم ہی ملتی ہے۔ میں دنیا میں جہاں بھی پرفارم کرنے کے لیے جاؤں میرے چاہنے والے ریشماں جی کے گائے گیت ضرورسنتے ہیں۔ آج ان کی طبعیت ناساز ہے مگردنیا بھر میں ان کے چاہنے والے ان کی صحتیابی کے لیے دعائیں مانگنے کے ساتھ منتیں مان رہیں ہیں۔
ان خیالات کا اظہار رچا شرما نے گزشتہ روز امریکہ سے فون پر ''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں گزشتہ دوہفتوںسے امریکہ میں منعقدہ میوزک پروگراموں میں پرفارمنس کے لیے آئی ہوں لیکن جیسے ہی مجھے یہ خبر ملی کہ ریشماں جی کی طبعیت ناساز ہوگئی ہے اوروہ اسپتال داخل ہیں تومیں نے فوراً ان سے رابطے کی کوشش کی مگرنیٹ ورک کی خرابی کے باعث ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ میں ان کی بہت بڑی پرستارہوں۔ ان کی آواز میں جومٹھاس ہے اور وہ جس طرح سے سُرکو دیکھتی ہیں وہ کسی دوسرے کے بس کی بات نہیں۔
وہ جتنی بڑی گلوکارہ ہیں اس سے کہیں بڑی انسان ہیں۔ اتنی بڑی گلوکارہ ہونے کے باوجود وہ بہت سادہ طبیعت ہیں۔ ان سے ممبئی میں ایک مرتبہ ملاقات ہوئی جس کوکبھی نہیں بھلاسکتی۔ انھوں نے مجھے موسیقی کے اتار چڑھاؤ بارے بہت سی باریکیاں سمجھائیں اورمیری ترقی کے لیے دعائیں دیں۔ میری دعا ہے کہ وہ جلد ازجلد صحتیاب ہوں اوراپنی میٹھی آوازکے ذریعے لوگوںکو انٹرٹین کریں۔
انھوں نے کہا کہ میرے ایک قریبی دوست نے مجھے بتایا ہے کہ ریشماں جی کا علاج پاکستان میں جاری ہے اور حکومت کی طرف سے بھی ان کو علاج ومعالجہ کی سہولت دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ چاہیں توان کا بھارت میں بھی علاج کروایا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رچاشرمانے کہا کہ کچھ لوگوںکا کہنا ہے کہ میری آوازاوراندازریشماں جی سے ملتاہے تومیںفخر سے پھولے نہیں سماتی۔ کیونکہ ریشماں جی جیسا اگرمیں گانے لگ جاؤں تواس سے بڑی خوش نصیبی اورکیا ہو گی۔
یہی وجہ ہے کہ میں دنیا میں جہاں کہیں بھی جاؤں تومجھے ریشماں جی کے گائے گیت سنانے کی فرمائش ضرورہوتی ہے۔ ان کے گائے سارے گیت مجھے پسند ہیں لیکن 'چاردناں دا پیارای ربّا ، بڑی لمبی جدائی ' میرا پسندیدہ گیت ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہوجائیں۔