مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل
کہا جاتا ہے کہ امریکا اور ترقی یافتہ مغربی ملک جب کوئی بڑا کام کرتے ہیں خاص طور پر کوئی بڑی فوجی مہم لانچ کرتے ہیں۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
اخبارات میں ہر روز دنیا کے مختلف ملکوں میں دھماکوں اور دھماکوں سے مرنے والوں کی خبریں چھپتی رہتی ہیں، ان دھماکے زدہ ملکوں میں شام ہے، عراق ہے، یمن ہے، افغانستان ہے، پاکستان ہے اور افریقی ملکوں میں صومالیہ، نائیجیریا وغیرہ شامل ہیں ۔ ان دھماکوں میں جن میں خودکش دھماکے بھی شامل ہوتے ہیں سیکڑوں بے گناہ افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں بے گناہ مارے جاتے ہیں۔
ایک خبر کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے یہ خودکش دھماکا ہلمند کے شہر لشکرگاہ میں اس وقت ہوا جب لشکر گاہ کے شہری اسٹیڈیم میں میچ دیکھ کر باہر آرہے تھے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جس دن دنیا کے مختلف ملکوں میں دھماکے نہ ہوتے ہوں اور ان میں بے شمار بے گناہ شہری جان سے نہ جاتے ہوں۔
میڈیا میں یہ خبریں شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز میں آتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھرکے قانون میں قتل ایک خوفناک اور بدترین جرم ہے جس کا ارتکاب کرنے والے کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو آئے دن سیکڑوں بے گناہ انسان قتل ہو رہے ہیں کیا ان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے مقدمہ چلا کر سزائے موت دی جاتی ہے؟ اس میں شک نہیں کہ خودکش حملہ آور اپنی سزا کو خود پہنچ جاتا ہے لیکن سارے حملے خودکش نہیں ہوتے۔
ان حملوں میں حملہ آور موجود ہوتے ہیں جو عموماً فرار ہوجاتے ہیں جو دہشتگرد پکڑے جاتے ہیں عدالتوں میں ان کے خلاف طویل مقدمات چلتے ہیں پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہیں، اس کے علاوہ فوجی عدالتیں بھی ہیں جہاں مقدمات کے فیصلوں میں دیری نہیں ہوتی۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستانی فوج نے بڑی جانفشانی سے مسلسل کارروائیاں کرکے بڑی حد تک دہشتگردی پر قابو پا لیا ہے لیکن افغانستان میں دہشتگردی کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔
افغانستان میں افغان طالبان دہشتگردی کی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ افغانستان میں 10 سال تک امریکا اس کی اتحادی افواج دہشتگردوں سے لڑتی رہیں اور بھاری جانی نقصان کے علاوہ کھربوں ڈالر کے نقصان کے بعد ذلت و رسوائی کے ساتھ واپس ہوئیں اس دوران امریکا نے افغانوں پر مشتمل ایک بڑی فوج کھڑی کی انھیں چھاپہ مار جنگ کی ٹریننگ دی اور جدید ترین اسلحے سے لیس کیا اور ان کی مدد اور مشاورت کے لیے اپنی تھوڑی سی فوج رکھی۔
طالبان کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ان کی تشکیل کا مقصد کیا تھا؟ کہا جاتا ہے کہ امریکا اور ترقی یافتہ مغربی ملک جب کوئی بڑا کام کرتے ہیں خاص طور پر کوئی بڑی فوجی مہم لانچ کرتے ہیں تو اس کے نتائج اور دوررس اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں اور ان کی نظر آنے والے سو سال تک جاتی ہے۔ افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد امریکی حکمرانوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ بڑی طاقتوں کے علاقائی مفادات ہوتے ہیں جن کے تحفظ کے لیے بڑی طاقتیں کمزور اور پسماندہ ملکوں کو اپنے حلقہ اثر میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس خطے میں امریکی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ افغانستان اس کے حلقہ اثر میں رہے لیکن جب روس نے اپنے دور رس مفادات کے حصول کے لیے افغانستان پر قبضہ کیا تو امریکی حکمرانوں کو احساس ہوا کہ روس ان کی جاگیر میں یعنی ان کے دور رس مفادات کے حامل ملک پر قبضہ کر کے ان کے مفادات کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے تو امریکا نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے اپنی فوجیں افغانستان نہیں بھیجیں کیونکہ امریکا کے منصوبہ سازوں کو پتہ تھا کہ اگر امریکی فوجیں افغانستان بھیجی گئیں تو ملک سے ہزاروں میل دور انھیں بے شمار مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور بھاری جانی نقصان بھی بھگتنا پڑے گا، سو ان کے تھنک ٹینکوں اور منصوبہ سازوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں ایسے جنگجو پیدا کیے جائیں جو روسی فوجوں کا مقابلہ کر سکیں۔
امریکی منصوبہ سازوں کو علم تھا کہ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر جس طرح چاہے استعمال کیا جا سکتا ہے سو انھوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ مذہب دشمن ملک نے افغانستان پر قبضہ کر کے اسلام کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کا کام ایسے عقل سے پیدل لوگ ہی کر سکتے تھے جو مذہب کے نام پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں۔ سو انھوں نے پاکستان کے عقل سے پیدل حکمران ضیا الحق سے اس مجاہدانہ کام میں مدد لی اور ضیا الحق نے پاکستان کے دینی مدرسوں کو مجاہدوں کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ان پاگلوں کو روسی فوج کے سامنے مذہبی جنون کے ساتھ کھڑا کر دیا۔
روسی فوج جو افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں جنگ لڑنے کے تجربات نہیں رکھتی تھی مجاہدوں کے چھاپہ مار حملوں سے پسپا ہونے لگی اور آخرکار اسے افغانستان سے نکلنا پڑا۔ یوں یہ جنگ امریکا نے پاکستانی اور دوسرے مسلم ملکوں کے مجاہدین کے ذریعے جیت لی اور خطے میں اپنی برتری کو قائم رکھا انھی پاکستانی مجاہدین کو طالبان کا نام دیا گیا۔
امریکا کے منصوبہ سازوں نے طالبان کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکالنے میں تو کامیابی حاصل کر لی لیکن ان کے مستقبل پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی۔ افغانستان میں اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد جب طالبان کو بے یار و مددگار چھوڑا گیا تو وہ دہشتگردی کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور اپنے آپ کو نہ صرف منظم کر لیا بلکہ دنیا بھر پر اپنا اقتدار قائم کرنے کا احمقانہ سودا ان کے سر میں سما گیا اور وہ اس حوالے سے اس قدر بے لگام ہو گئے کہ انھوں نے پاکستان کو ہی اپنی دہشتگردی کا نشانہ بنا لیا اور 70 ہزار پاکستانی طالبان کی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے اور امریکا کے دشمن ہو گئے۔
افغانستان سے امریکا کو نکالنے کی جنگ میں وہ بڑی حد تک کامیاب تو ہو گئے لیکن امریکا کی تیار کردہ اور ٹرینڈ کردہ افغانی فوج اب ان کے سامنے ہے اور مفت مشورے دینے کے لیے امریکا کی مختصر فوج بھی ان کی مدد کے لیے حاضر ہے۔
اس حد تک تو بات درست ہے لیکن طالبان افغانستان میں جو حملے اور خودکش حملے کر رہے ہیں کیا وہ امریکی فوج کے خلاف کر رہے ہیں۔ بے شک وہ امریکی فوج پر بھی حملے کر رہے ہیں لیکن شرم کی بات یہ ہے کہ ان کے حملوں اور خودکش حملوں کا شکار بے گناہ معصوم افغان مرد عورتیں اور بچے ہو رہے ہیں۔
امریکا کو اپنا دشمن سمجھنے والے یہ دہشتگرد ہر روز افغان مردوں عورتوں اور بچوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر رہے ہیں کیا ان کی قیادت کو یہ احساس بھی نہیں کہ امریکی فوجوں کو تو ان کے حملوں سے برائے نام نقصان ہو رہا ہے اور ہر روز بے گناہ افغان مرد خواتین اور بچے مارے جا رہے ہیں؟
ایک خبر کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے یہ خودکش دھماکا ہلمند کے شہر لشکرگاہ میں اس وقت ہوا جب لشکر گاہ کے شہری اسٹیڈیم میں میچ دیکھ کر باہر آرہے تھے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جس دن دنیا کے مختلف ملکوں میں دھماکے نہ ہوتے ہوں اور ان میں بے شمار بے گناہ شہری جان سے نہ جاتے ہوں۔
میڈیا میں یہ خبریں شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز میں آتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھرکے قانون میں قتل ایک خوفناک اور بدترین جرم ہے جس کا ارتکاب کرنے والے کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو آئے دن سیکڑوں بے گناہ انسان قتل ہو رہے ہیں کیا ان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے مقدمہ چلا کر سزائے موت دی جاتی ہے؟ اس میں شک نہیں کہ خودکش حملہ آور اپنی سزا کو خود پہنچ جاتا ہے لیکن سارے حملے خودکش نہیں ہوتے۔
ان حملوں میں حملہ آور موجود ہوتے ہیں جو عموماً فرار ہوجاتے ہیں جو دہشتگرد پکڑے جاتے ہیں عدالتوں میں ان کے خلاف طویل مقدمات چلتے ہیں پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہیں، اس کے علاوہ فوجی عدالتیں بھی ہیں جہاں مقدمات کے فیصلوں میں دیری نہیں ہوتی۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستانی فوج نے بڑی جانفشانی سے مسلسل کارروائیاں کرکے بڑی حد تک دہشتگردی پر قابو پا لیا ہے لیکن افغانستان میں دہشتگردی کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔
افغانستان میں افغان طالبان دہشتگردی کی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ افغانستان میں 10 سال تک امریکا اس کی اتحادی افواج دہشتگردوں سے لڑتی رہیں اور بھاری جانی نقصان کے علاوہ کھربوں ڈالر کے نقصان کے بعد ذلت و رسوائی کے ساتھ واپس ہوئیں اس دوران امریکا نے افغانوں پر مشتمل ایک بڑی فوج کھڑی کی انھیں چھاپہ مار جنگ کی ٹریننگ دی اور جدید ترین اسلحے سے لیس کیا اور ان کی مدد اور مشاورت کے لیے اپنی تھوڑی سی فوج رکھی۔
طالبان کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ان کی تشکیل کا مقصد کیا تھا؟ کہا جاتا ہے کہ امریکا اور ترقی یافتہ مغربی ملک جب کوئی بڑا کام کرتے ہیں خاص طور پر کوئی بڑی فوجی مہم لانچ کرتے ہیں تو اس کے نتائج اور دوررس اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں اور ان کی نظر آنے والے سو سال تک جاتی ہے۔ افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد امریکی حکمرانوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ بڑی طاقتوں کے علاقائی مفادات ہوتے ہیں جن کے تحفظ کے لیے بڑی طاقتیں کمزور اور پسماندہ ملکوں کو اپنے حلقہ اثر میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس خطے میں امریکی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ افغانستان اس کے حلقہ اثر میں رہے لیکن جب روس نے اپنے دور رس مفادات کے حصول کے لیے افغانستان پر قبضہ کیا تو امریکی حکمرانوں کو احساس ہوا کہ روس ان کی جاگیر میں یعنی ان کے دور رس مفادات کے حامل ملک پر قبضہ کر کے ان کے مفادات کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے تو امریکا نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے اپنی فوجیں افغانستان نہیں بھیجیں کیونکہ امریکا کے منصوبہ سازوں کو پتہ تھا کہ اگر امریکی فوجیں افغانستان بھیجی گئیں تو ملک سے ہزاروں میل دور انھیں بے شمار مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور بھاری جانی نقصان بھی بھگتنا پڑے گا، سو ان کے تھنک ٹینکوں اور منصوبہ سازوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں ایسے جنگجو پیدا کیے جائیں جو روسی فوجوں کا مقابلہ کر سکیں۔
امریکی منصوبہ سازوں کو علم تھا کہ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر جس طرح چاہے استعمال کیا جا سکتا ہے سو انھوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ مذہب دشمن ملک نے افغانستان پر قبضہ کر کے اسلام کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کا کام ایسے عقل سے پیدل لوگ ہی کر سکتے تھے جو مذہب کے نام پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں۔ سو انھوں نے پاکستان کے عقل سے پیدل حکمران ضیا الحق سے اس مجاہدانہ کام میں مدد لی اور ضیا الحق نے پاکستان کے دینی مدرسوں کو مجاہدوں کی تربیت کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ان پاگلوں کو روسی فوج کے سامنے مذہبی جنون کے ساتھ کھڑا کر دیا۔
روسی فوج جو افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں جنگ لڑنے کے تجربات نہیں رکھتی تھی مجاہدوں کے چھاپہ مار حملوں سے پسپا ہونے لگی اور آخرکار اسے افغانستان سے نکلنا پڑا۔ یوں یہ جنگ امریکا نے پاکستانی اور دوسرے مسلم ملکوں کے مجاہدین کے ذریعے جیت لی اور خطے میں اپنی برتری کو قائم رکھا انھی پاکستانی مجاہدین کو طالبان کا نام دیا گیا۔
امریکا کے منصوبہ سازوں نے طالبان کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکالنے میں تو کامیابی حاصل کر لی لیکن ان کے مستقبل پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی۔ افغانستان میں اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد جب طالبان کو بے یار و مددگار چھوڑا گیا تو وہ دہشتگردی کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور اپنے آپ کو نہ صرف منظم کر لیا بلکہ دنیا بھر پر اپنا اقتدار قائم کرنے کا احمقانہ سودا ان کے سر میں سما گیا اور وہ اس حوالے سے اس قدر بے لگام ہو گئے کہ انھوں نے پاکستان کو ہی اپنی دہشتگردی کا نشانہ بنا لیا اور 70 ہزار پاکستانی طالبان کی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے اور امریکا کے دشمن ہو گئے۔
افغانستان سے امریکا کو نکالنے کی جنگ میں وہ بڑی حد تک کامیاب تو ہو گئے لیکن امریکا کی تیار کردہ اور ٹرینڈ کردہ افغانی فوج اب ان کے سامنے ہے اور مفت مشورے دینے کے لیے امریکا کی مختصر فوج بھی ان کی مدد کے لیے حاضر ہے۔
اس حد تک تو بات درست ہے لیکن طالبان افغانستان میں جو حملے اور خودکش حملے کر رہے ہیں کیا وہ امریکی فوج کے خلاف کر رہے ہیں۔ بے شک وہ امریکی فوج پر بھی حملے کر رہے ہیں لیکن شرم کی بات یہ ہے کہ ان کے حملوں اور خودکش حملوں کا شکار بے گناہ معصوم افغان مرد عورتیں اور بچے ہو رہے ہیں۔
امریکا کو اپنا دشمن سمجھنے والے یہ دہشتگرد ہر روز افغان مردوں عورتوں اور بچوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر رہے ہیں کیا ان کی قیادت کو یہ احساس بھی نہیں کہ امریکی فوجوں کو تو ان کے حملوں سے برائے نام نقصان ہو رہا ہے اور ہر روز بے گناہ افغان مرد خواتین اور بچے مارے جا رہے ہیں؟