مجھے قومی سیاست سے دور رکھنے کی سازش کی جارہی ہے پرویز مشرف
میرے دور میں ہمارے خاندان کے کسی فرد نے کرپشن نہیں کی، سابقہ حکومت نے کرپشن کا بازار گرم کیا
تمام عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا، سابق صدر کا ساہیوال میں ٹیلیفونک خطاب، 16اپریل کو ایک جلسہ عام کرنیکا اعلان فوٹو فائل
آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق صدرجنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انھیں پاکستان کی سیاست سے دور رکھنے کی سازش کی جارہی ہے لیکن وہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلیے اپنا کردار ادا کرنے کیلیے میدان سیاست میں کود پڑے ہیں ۔
ملک میں اس وقت تیسری سیاسی قوت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے ملک کی معیشت تباہ کردی ہے، میں ملک چھوڑ کر نہیں جائوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو پی پی 222کے امیدوار کی حمایت میں انتخابی مہم کے آغاز پر ٹیلیفونک خطاب کے موقع پر کیا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میرے دور اقتدار میں میرے بیٹے، بیٹی یا خاندان کے کسی فرد نے کو ئی کرپشن نہیں کی لیکن سابقہ حکومتوں کے خاندان کے خاندان نہ صرف سیاست میں سرگرم ہیں بلکہ انھوں نے کرپشن کا بازار گرم رکھا تھا۔
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے مزید کہا کہ وہ ملک کی تمام عدالتوں میں اپنے خلاف ہونے والے مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے کرسچیئن کمیونٹی کو ووٹ کا حق دیا، انہوں نے اقلیتوں سے کہا کہ وہ انکی پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں ۔ سابق صدر نے اعلان کیا کہ وہ جنوبی پنجاب میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز ساہیوال میں 16اپریل کو ایک جلسہ عام سے کریں گے۔
اس موقع پر پی پی 222سے آل پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار ملک محمد اسلم بھی موجود تھے، مختلف شخصیات نے اے پی ایم ایل میں شمولیت کا بھی اعلان کیا۔دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ نے قصورکے حلقہ این ا ے 139سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کو اعلی عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ۔ مرکزی ترجمان و سیکریٹری اطلاعات آسیہ اسحق نے کہا ہے کہ جب تک عدالت کسی شخص کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63کے تحت سزا نہیں دیتی، اس وقت تک اس شخص پر ا ن آرٹیکلز کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، اگر اس کا اطلاق پرویز مشرف پر کیا جائے گا تو پھر کسی بھی سیاسی جماعت کا رہنما اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا ۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اورعمران خان پر بھی ان آرٹیکلز کا اطلاق ہونا چاہیے ۔
ملک میں اس وقت تیسری سیاسی قوت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے ملک کی معیشت تباہ کردی ہے، میں ملک چھوڑ کر نہیں جائوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو پی پی 222کے امیدوار کی حمایت میں انتخابی مہم کے آغاز پر ٹیلیفونک خطاب کے موقع پر کیا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میرے دور اقتدار میں میرے بیٹے، بیٹی یا خاندان کے کسی فرد نے کو ئی کرپشن نہیں کی لیکن سابقہ حکومتوں کے خاندان کے خاندان نہ صرف سیاست میں سرگرم ہیں بلکہ انھوں نے کرپشن کا بازار گرم رکھا تھا۔
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے مزید کہا کہ وہ ملک کی تمام عدالتوں میں اپنے خلاف ہونے والے مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے کرسچیئن کمیونٹی کو ووٹ کا حق دیا، انہوں نے اقلیتوں سے کہا کہ وہ انکی پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں ۔ سابق صدر نے اعلان کیا کہ وہ جنوبی پنجاب میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز ساہیوال میں 16اپریل کو ایک جلسہ عام سے کریں گے۔
اس موقع پر پی پی 222سے آل پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار ملک محمد اسلم بھی موجود تھے، مختلف شخصیات نے اے پی ایم ایل میں شمولیت کا بھی اعلان کیا۔دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ نے قصورکے حلقہ این ا ے 139سے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کو اعلی عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ۔ مرکزی ترجمان و سیکریٹری اطلاعات آسیہ اسحق نے کہا ہے کہ جب تک عدالت کسی شخص کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63کے تحت سزا نہیں دیتی، اس وقت تک اس شخص پر ا ن آرٹیکلز کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، اگر اس کا اطلاق پرویز مشرف پر کیا جائے گا تو پھر کسی بھی سیاسی جماعت کا رہنما اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا ۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اورعمران خان پر بھی ان آرٹیکلز کا اطلاق ہونا چاہیے ۔