جعلی ڈگری 5ارکان نے ضمانت کرالی عاقل شاہ کی رہائی پر بھنگڑے

آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کروں گا، سابق وزیر کھیل خیبر پختون خوا عاقل شاہ

علی مدد جتک نے سزا کے خلاف پٹیشن دائر کر دی، آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کروں گا، سابق وزیر کھیل خیبر پختون خوا عاقل شاہ. فوٹو: فائل

عدالتوں نے جعلی ڈگری کے حامل صوبائی وزیر سمیت5ارکان اسمبلی کی ضمانت منظور کرلی۔آن لائن کے مطابق جعلی ڈگری کیس میں قید سابق وزیر کھیل خیبر پختون خوا سید عاقل شاہ کو سینٹرل جیل پشاور سے رہا کردیا گیا۔

ان کی رہائی پر پارٹی کارکنوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا اور بھنگڑے ڈالے پشاور ہائی کورٹ نے سابق وزیر کھیل خیبر پختون خوا سید عاقل شاہ کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔اس موقع پرعاقل شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کروں گا۔ آن لائن کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال مشتاق احمد تارڑ نے سابق صوبائی وزیر ملک اقبال احمد لنگڑیال کے بی اے کی جعلی ڈگری کیس میں ضامن نصرت خان کی عبوری ضمانت قبل ازگرفتاری 22 اپریل تک منظور کرلی۔

جس میں نصرت خان نے عدالت میں سابق صوبائی وزیر کا ضمانت نامہ دیا تھا لیکن سابق صوبائی وزیر ملک اقبال احمد لنگڑیال مفرورہوکر اشتہاری ہوگئے تھے اور اب عدالت نے اقبال احمد لنگڑیال کی گرفتاری کا اشتہار جاری کردیا ہے اور پانچ مئی کو گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ آئی این پی کے مطابق پیر کو لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے جعلی ڈگری کیس میں ملوث سردار میر بادشا خان قیصرانی کی عبوری ضمانت 10اپریل تک منظور کرلی ہے اور مقدمے کی باقاعدہ سماعت(آج)منگل تک ملتوی کردی۔آئی این پی اور ثنا نیوز کے مطابق پشاورہائی کورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں سابق وزیر کھیل خیبرپختونخوا عاقل شاہ سمیت 3 سابق اراکین کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان کی عدالت نے سابق صوبائی وزیر سید عاقل شاہ، سردار علی اور جاوید ترکئی کی جعلی ڈگری کیسز میں سزائوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ عدالت عالیہ نے ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے سنائی گئی سزائیں بھی عارضی طور پر معطل کردیں۔ چیف جسٹس نے سردار علی اور جاوید ترکئی کو 6، 6 لاکھ روپے اور3 شخصی ضمانتوں جبکہ عاقل شاہ کو 5 لاکھ روپے اور 3 شخصی ضمانتوں کے مچلکے داخل کرنے کا حکم دیا۔آن لائن کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھکر چوہدری ظفر اقبال کی عدالت میں نوانی برادران جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی جس میں تصدیق کنندہ ڈاکٹر عیاض احمد گلزار کو پیش کردیا گیا۔




جس کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کی گئی جبکہ رشید اکبر نوانی پیش ہوئے اور سعید اکبر نوانی کی حاضری کی درخواست ان کے وکیل فیاض خان خٹک نے پیش کی عدالت نے کیس کی سماعت آج صبح 8 بجے تک ملتوی کردی۔آن لائن کے مطابق جعلی ڈگری کیس میں نا اہل ہونے والے مسلم لیگ نواز کے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید حسنین شاہ کے خلاف آج منگل کو فیصلہ سنایا جانے کا امکان ہے ۔

سابق رکن قومی اسمبلی جاوید حسنین شاہ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2008 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر NA68سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی مگر 2010 میں لاہور ہائیکورٹ نے BAکی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر انھیں نااہل قرار دیدیا اورعدالت کے حکم پر الیکشن کمیشن آف پنجاب نے ان کیخلاف سرگودھا کی عدالت میں استغاثہ دائر کردیا تھا گزشتہ تاریخ پیشی فاضل جج عبدالستار نے مقدمہ کے گواہان سابق ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا محسن رضا خان اور ریجنل الیکشن کمیشن سمیت تمام گواہوں کو فوری طور پر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

جس پر عدالت نے گزشتہ روز ہائیر ایجوکیشن اسلام آباد کے نمائندہ اور ریٹرننگ آفیسر حلقہ این اے 68محسن رضا خان کو گواہی کے لیے طلب کیا تھا تمام گواہوں کے بیانات قلمبند ہوگئے ہیں اور آج 9اپریل کو الیکشن کمیشن دستاویزی ثبوت عدالت کو پیش کرے گا قوی امکان ہے کہ آج اس کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔آئی این پی کے مطابق سابق رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک نے جعلی ڈگری کیس میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کے فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی۔ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے جعلی ڈگری کیس میں سابق رکن اسمبلی علی مدد جتک کو 2 سال قید اور 10 ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے درخواست 15پریل کو سماعت کے لیے منظور کرلی اور الیکشن کمیشن حکام اور پراسیکیوٹر جنرل کوبھی طلب کرلیاگیاہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں سابق صوبائی وزیر مسز شمع پروین مگسی کی جعلی ڈگری کیس کی سماعت 10پریل تک موخر کردی گئی۔اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے چوہدری نثار علی خان کی جانب سے ڈگری کی تصدیق میں تاخیرکرنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے خلاف دائر درخواست غیر موثر ہونے کی وجہ سے نمٹا دی جبکہ مائزہ حمید کی جانب سے ڈگریوں کے گم ہونے کی درخواست پرایچ ای سی سے10 اپریل کو جواب طلب کرلیا۔پشاور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سید عاقل شاہ،جاویدترکئی اورسردارعلی کی اپیلیںجزوی طورپرمنظورکیے جانے سے عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میںانکے کاغذات نامزدگی کی بحالی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story