پی آئی اے کیلیے کل وقتی چیئرمین رکھا جائے سپریم کورٹ
فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، چند روز میں سنادیں گے، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ریمارکس
’’آپ ہمیں لفٹ نہیں کراتے‘‘ افتخار چوہدری کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ، سماعت آج پھر ہوگی فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے چیئرمین اور ایم ڈی کی تقرری کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی کہ چیئرمین 2 عہدے نہیں رکھ سکتا ،ادارے کو سنبھالنا ہے تو کل وقتی ایم ڈی اور چیئرمین رکھا جائے۔ پی آئی اے کے وکیل راجہ بشیر نے دلیل دی کہ چیئرمین پی آئی اے اور ایم ڈی کی تعیناتی مجازاتھارٹی نے کی ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ہماری مرضی کا چیئرمین لگادیں، ہم تو کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق چیئرمین تقرری کریں۔
وکیل نے کہا کہ موجودہ چیئرمین کی تقرری کے بعد پی آئی اے کے معاملات میں بہتری آئی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جزوقتی چیئرمین کو کل وقتی ذمے داریاں دے دیں،مزید بہتری آئے گی۔اٹارنی جنرل عرفان قادر کے تاخیر سے آنے پر چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ ہمیں لفٹ نہیں کراتے،ہم نے فیصلہ محفوظ کرلیاہے،لیکن آپ کے دلائل کی حدتک معاملہ کھلارکھاہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کے حوالے سے ہدایات لے کر عدالت کو کل آگاہ کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کل کچھ کرلیجیے گا، ہمیں زیادہ انتظارنہ کرائیے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد چند روزمیں فیصلہ سنادیں گے،سماعت آج پھر ہو گی۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کے بارے میں کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جبکہ سیکریٹری دفاع کی بیک وقت 2عہدوں پر تعیناتی کے بارے میں فیصلہ اٹارنی جنرل عرفان قادر کے دلائل کی تکمیل سے مشروط کر دیا ۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی کہ چیئرمین 2 عہدے نہیں رکھ سکتا ،ادارے کو سنبھالنا ہے تو کل وقتی ایم ڈی اور چیئرمین رکھا جائے۔ پی آئی اے کے وکیل راجہ بشیر نے دلیل دی کہ چیئرمین پی آئی اے اور ایم ڈی کی تعیناتی مجازاتھارٹی نے کی ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ہماری مرضی کا چیئرمین لگادیں، ہم تو کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق چیئرمین تقرری کریں۔
وکیل نے کہا کہ موجودہ چیئرمین کی تقرری کے بعد پی آئی اے کے معاملات میں بہتری آئی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جزوقتی چیئرمین کو کل وقتی ذمے داریاں دے دیں،مزید بہتری آئے گی۔اٹارنی جنرل عرفان قادر کے تاخیر سے آنے پر چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ ہمیں لفٹ نہیں کراتے،ہم نے فیصلہ محفوظ کرلیاہے،لیکن آپ کے دلائل کی حدتک معاملہ کھلارکھاہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کے حوالے سے ہدایات لے کر عدالت کو کل آگاہ کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کل کچھ کرلیجیے گا، ہمیں زیادہ انتظارنہ کرائیے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد چند روزمیں فیصلہ سنادیں گے،سماعت آج پھر ہو گی۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کے بارے میں کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جبکہ سیکریٹری دفاع کی بیک وقت 2عہدوں پر تعیناتی کے بارے میں فیصلہ اٹارنی جنرل عرفان قادر کے دلائل کی تکمیل سے مشروط کر دیا ۔