گلبرگکار میں ہونیوالادھماکا پراسراریت اختیارکرگیا
ایک زخمی اسپتال سے غائب،رحیم اسپتال کے مالک سے ڈیڑھ کروڑ بھتہ طلب کیاگیاتھا
ایک زخمی اسپتال سے غائب،رحیم اسپتال کے مالک سے ڈیڑھ کروڑ بھتہ طلب کیا گیا تھا
گلبرگ میں رحیم اسپتال کے سامنے کار میں ہونے والا پراسرار دھماکا پولیس کے اعلیٰ افسران کی مبینہ جانبداری کے باعث مزید پراسراریت اختیار کرگیا ، دھماکے میں زخمی شخص اسپتال سے غائب ہوگیا، بھتہ خوروں کی جانب سے رحیم اسپتال کے مالک سے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد بھتہ طلب کیا گیا تھا جس پر اسپتال انتظامیہ نے سی پی ایل سی سے رابطہ کیا تھا ۔
تفصیلات کے مطابق گلبرگ کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 13 میں واقع رحیم اسپتال کی انتظامیہ سے بھتہ خوروں نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد بھتہ طلب کیا تھا جس پر اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر سی پی ایل سی اور پولیس سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا تھا ، ایس ایچ او گلبرگ امجد کیانی نے بتایا کہ 3 اگست کو لفافے میں بھتے کی پرچی اور ایک گولی اسپتال کو ارسال کی گئی اور بعدازاں بھتہ خوروں نے کی جانب سے 4 اگست کو بھتے کی رقم طلب کرنے کے حوالے سے فون کیا تھا اور بندوبست نہ ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
ملزمان نے 8 اگست کی صبح بھی فون کر کے بھتے کی رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور نہ دینے پر اسی شام کو دستی بم پھینکنے آئے تھے کہ وہ غلطی سے ان کی گاڑی میں ہی پھٹ گیا،دھماکے میں زخمی ہونے والا سلمان بلوچ عباسی شہید اسپتال سے پراسرار طور پر غائب ہوگیا جبکہ شدید زخمی ہونے والے رضوان بلوچ کو نارتھ ناظم آباد میں واقع نجی اسپتال منتقل کر کے پولیس گارڈز کو تعینات کردیاگیا،گلبرگ پولیس نے بھتہ طلب کرنیکا مقدمہ نمبر 253/12 بجرم دفعات 385 ، 386 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 7-ATA کے تحت درج کرلیا ہے جبکہ بم دھماکے کا مقدمہ نمبر 254/12 درج کیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سر جوڑ کربیٹھے ہوئے ہیں کہ مقدمے میں کیادفعات لگائی جائیں اور کس کس کو نامزد کیا جائے جبکہ پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیاہے ، ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ویسٹ زون پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانبداری کے باعث پراسرار دھماکا مزید پراسراریت اختیار کر گیا۔
تفصیلات کے مطابق گلبرگ کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 13 میں واقع رحیم اسپتال کی انتظامیہ سے بھتہ خوروں نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد بھتہ طلب کیا تھا جس پر اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر سی پی ایل سی اور پولیس سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا تھا ، ایس ایچ او گلبرگ امجد کیانی نے بتایا کہ 3 اگست کو لفافے میں بھتے کی پرچی اور ایک گولی اسپتال کو ارسال کی گئی اور بعدازاں بھتہ خوروں نے کی جانب سے 4 اگست کو بھتے کی رقم طلب کرنے کے حوالے سے فون کیا تھا اور بندوبست نہ ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
ملزمان نے 8 اگست کی صبح بھی فون کر کے بھتے کی رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور نہ دینے پر اسی شام کو دستی بم پھینکنے آئے تھے کہ وہ غلطی سے ان کی گاڑی میں ہی پھٹ گیا،دھماکے میں زخمی ہونے والا سلمان بلوچ عباسی شہید اسپتال سے پراسرار طور پر غائب ہوگیا جبکہ شدید زخمی ہونے والے رضوان بلوچ کو نارتھ ناظم آباد میں واقع نجی اسپتال منتقل کر کے پولیس گارڈز کو تعینات کردیاگیا،گلبرگ پولیس نے بھتہ طلب کرنیکا مقدمہ نمبر 253/12 بجرم دفعات 385 ، 386 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 7-ATA کے تحت درج کرلیا ہے جبکہ بم دھماکے کا مقدمہ نمبر 254/12 درج کیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سر جوڑ کربیٹھے ہوئے ہیں کہ مقدمے میں کیادفعات لگائی جائیں اور کس کس کو نامزد کیا جائے جبکہ پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیاہے ، ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ویسٹ زون پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانبداری کے باعث پراسرار دھماکا مزید پراسراریت اختیار کر گیا۔