افغان امن مشترکہ کوششیں واحد حل
حقیقت کا اندوہ ناک پہلو افغانستان کے داخلی عدم استحکام اور دفاعی اداروں کی کم مائیگی ہے۔
حقیقت کا اندوہ ناک پہلو افغانستان کے داخلی عدم استحکام اور دفاعی اداروں کی کم مائیگی ہے۔ فوٹو : فائل
امریکا اور پاکستان نے افغان صدر کے امن عمل کو آگے بڑھانے ، بارڈر مینجمنٹ اور دہشتگرد گروپس کے خلاف کارروائی پر اتفاق کیا ہے۔
جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستان کا دورہ کیا، امریکی نائب معاون وزیرخارجہ نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی، جس میں افغان مہاجرین کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں باہمی تعلقات، خطے خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
امریکی معاون وزیر خارجہ کی پاکستان آمد بلاشبہ تاشقند امن کانفرنس کے حالیہ تناظر میں ہے ،کانفرنس میں شریک ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا جو اس امر کا واضح عندیہ تھا کہ افغانستان میں امن کی خواہش ہی نہیں بلکہ عملی کوششوں میں بھی پاکستان نے اپنے کلیدی کردار کو ہر قسم کی الزام تراشی کے باوجود ہمیشہ مثبت انداز میں پیش نظر رکھا ہے۔
پاکستان کی نیت درست ہے مگر جب تک امریکا ، بھارت اور افغانستان کی تکونی اسٹرٹیجیکل بد نیتی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا افغان امن ایک واہمہ ہی رہے گا، جب کہ اس مسئلہ کا حل معروضی حقائق کے درست ادراک اور مشترکہ کوششوں میں مضمر ہے۔
اس موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے ایلس ویلز کو آگاہ کیا کہ بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں، مہذب قوموں کے لیے مسائل کو سلجھانے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں چنانچہ پاکستانی دفتر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت پاکستان کی طاقت کا غلط اندازہ نہ لگائے، ہم بھارت کواپنے طے شدہ وقت اور مقام پر سبق سکھائیں گے، پاک افغان سرحد پرافغانستان میں کالعدم دہشتگردگروپوں نے محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور ان گروپوں کی جانب سے پاکستانی سرحدی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے مواقع پر پاکستان کی جانب سے بھرپورجواب دیا جاتا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاںکی جارہی ہیں ، عالمی برادری کو اس تمام صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ واقعی بھارت خطے میں ایک ہولناک جنگی صورتحال پیدا کرنے کی دیوانگی میں مبتلا ہے۔
بہرحال ایلس ویلز کی اس خواہش کا نتیجہ نکلنا چاہیے کہ افغانستان اور خطے کے امن کے لیے امریکا پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے جب کہ قومی سلامتی کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ناصر جنجوعہ سے امریکی معاون نائب وزیر خارجہ سفیر ایلس ویلز نے ملاقات کی جس کے دوران دوطرفہ تعلقات ،علاقائی سلامتی اور افغانستان کی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا، مشیر قومی سلامتی نے اس بات پر زوردیا کہ افغانستان میں عشروں سے جاری لڑائی کا جلد خاتمہ دونوں ممالک کی مشترکہ نیک خواہش ہے۔
حقیقت کا اندوہ ناک پہلو افغانستان کے داخلی عدم استحکام اور دفاعی اداروں کی کم مائیگی ہے ، ادھر طالبان کے بارے میں افغان حکومت اس خوف میں بھی مبتلا ہے کہ کابل کو چھوڑ کر افغانستان کے نصف سے زاید علاقے پر طالبان اپنا قبضہ مضبوط کرچکے ہیں،علاوہ ازیں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے افغانستان پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مثبت سمت میں اقدامات اور تعمیری پیش رفت کے باوجود طویل عرصے سے جاری تنازعوں میں گھرے ہوئے افغان عوام بدستور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ادھر افغان امن کے لیے صرف فوجی طاقت کے استعمال پر ٹرمپ انتظامیہ خود بھی جنگی حکمت عملی کے مخمصہ میں گرفتار ہے جب کہ ایران کے اعلیٰ سفارتکار سید عباس عراقچی نے تاشقند کانفرنس میں کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا امن کی جانب ایک قدم ہے جب کہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے مسلح گروہوں کو امن مذاکرات کی دعوت دینے کا ایران نے خیر مقدم کیا،اس لیے لازم ہے طالبان قیادت اور اس کے دھڑوں کو بھی مذاکرات کی جانب پیش قدمی کرنا چاہیے، افغان سرزمین پر بہت لہو بہہ چکا، کسی فریق کو ہتھیاروں اور انسانی ہلاکتوں سے افغانستان میں امن کی منزل نہیں مل سکتی، پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ بات چیت سے ہی افغان مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ افغان مہاجرین کی واپسی کا ہے، کیونکہ یکم مارچ سے شروع ہونے والا واپسی کا عمل نامعلوم وجوہ پر سست روی کا شکار ہے، تین ماہ کے بعد شروع ہونے والی واپسی میں29 روز میں اب تک1589 افغان وطن واپس لوٹ چکے ہیں ، خبر کے مطابق افغان سٹیزنز کارڈز کے حصول کے لیے8 لاکھ64 ہزار افغان باشندوں نے رجسٹریشن کرائی ہے ، اس رجسٹریشن میں ایک لاکھ 74 ہزار پانچ سال سے کم عمر بچے بھی ہیں جواپنے والدین کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔
بلاشبہ دہشتگردی کے تلخ حقائق سے افغان حکومت خود کو الگ نہ سمجھے، اسے دہشتگردوں کی سرپرستی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال میں ملوث عناصر کو پاکستان کے حوالہ کرنا ہوگا، تب امن کی طرف پیش رفت نتیجہ خیز ہوگی۔
جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستان کا دورہ کیا، امریکی نائب معاون وزیرخارجہ نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی، جس میں افغان مہاجرین کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں باہمی تعلقات، خطے خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
امریکی معاون وزیر خارجہ کی پاکستان آمد بلاشبہ تاشقند امن کانفرنس کے حالیہ تناظر میں ہے ،کانفرنس میں شریک ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا جو اس امر کا واضح عندیہ تھا کہ افغانستان میں امن کی خواہش ہی نہیں بلکہ عملی کوششوں میں بھی پاکستان نے اپنے کلیدی کردار کو ہر قسم کی الزام تراشی کے باوجود ہمیشہ مثبت انداز میں پیش نظر رکھا ہے۔
پاکستان کی نیت درست ہے مگر جب تک امریکا ، بھارت اور افغانستان کی تکونی اسٹرٹیجیکل بد نیتی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا افغان امن ایک واہمہ ہی رہے گا، جب کہ اس مسئلہ کا حل معروضی حقائق کے درست ادراک اور مشترکہ کوششوں میں مضمر ہے۔
اس موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے ایلس ویلز کو آگاہ کیا کہ بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں، مہذب قوموں کے لیے مسائل کو سلجھانے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں چنانچہ پاکستانی دفتر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت پاکستان کی طاقت کا غلط اندازہ نہ لگائے، ہم بھارت کواپنے طے شدہ وقت اور مقام پر سبق سکھائیں گے، پاک افغان سرحد پرافغانستان میں کالعدم دہشتگردگروپوں نے محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور ان گروپوں کی جانب سے پاکستانی سرحدی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے مواقع پر پاکستان کی جانب سے بھرپورجواب دیا جاتا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاںکی جارہی ہیں ، عالمی برادری کو اس تمام صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ واقعی بھارت خطے میں ایک ہولناک جنگی صورتحال پیدا کرنے کی دیوانگی میں مبتلا ہے۔
بہرحال ایلس ویلز کی اس خواہش کا نتیجہ نکلنا چاہیے کہ افغانستان اور خطے کے امن کے لیے امریکا پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے جب کہ قومی سلامتی کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ناصر جنجوعہ سے امریکی معاون نائب وزیر خارجہ سفیر ایلس ویلز نے ملاقات کی جس کے دوران دوطرفہ تعلقات ،علاقائی سلامتی اور افغانستان کی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا، مشیر قومی سلامتی نے اس بات پر زوردیا کہ افغانستان میں عشروں سے جاری لڑائی کا جلد خاتمہ دونوں ممالک کی مشترکہ نیک خواہش ہے۔
حقیقت کا اندوہ ناک پہلو افغانستان کے داخلی عدم استحکام اور دفاعی اداروں کی کم مائیگی ہے ، ادھر طالبان کے بارے میں افغان حکومت اس خوف میں بھی مبتلا ہے کہ کابل کو چھوڑ کر افغانستان کے نصف سے زاید علاقے پر طالبان اپنا قبضہ مضبوط کرچکے ہیں،علاوہ ازیں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے افغانستان پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مثبت سمت میں اقدامات اور تعمیری پیش رفت کے باوجود طویل عرصے سے جاری تنازعوں میں گھرے ہوئے افغان عوام بدستور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ادھر افغان امن کے لیے صرف فوجی طاقت کے استعمال پر ٹرمپ انتظامیہ خود بھی جنگی حکمت عملی کے مخمصہ میں گرفتار ہے جب کہ ایران کے اعلیٰ سفارتکار سید عباس عراقچی نے تاشقند کانفرنس میں کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا امن کی جانب ایک قدم ہے جب کہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے مسلح گروہوں کو امن مذاکرات کی دعوت دینے کا ایران نے خیر مقدم کیا،اس لیے لازم ہے طالبان قیادت اور اس کے دھڑوں کو بھی مذاکرات کی جانب پیش قدمی کرنا چاہیے، افغان سرزمین پر بہت لہو بہہ چکا، کسی فریق کو ہتھیاروں اور انسانی ہلاکتوں سے افغانستان میں امن کی منزل نہیں مل سکتی، پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ بات چیت سے ہی افغان مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ افغان مہاجرین کی واپسی کا ہے، کیونکہ یکم مارچ سے شروع ہونے والا واپسی کا عمل نامعلوم وجوہ پر سست روی کا شکار ہے، تین ماہ کے بعد شروع ہونے والی واپسی میں29 روز میں اب تک1589 افغان وطن واپس لوٹ چکے ہیں ، خبر کے مطابق افغان سٹیزنز کارڈز کے حصول کے لیے8 لاکھ64 ہزار افغان باشندوں نے رجسٹریشن کرائی ہے ، اس رجسٹریشن میں ایک لاکھ 74 ہزار پانچ سال سے کم عمر بچے بھی ہیں جواپنے والدین کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔
بلاشبہ دہشتگردی کے تلخ حقائق سے افغان حکومت خود کو الگ نہ سمجھے، اسے دہشتگردوں کی سرپرستی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال میں ملوث عناصر کو پاکستان کے حوالہ کرنا ہوگا، تب امن کی طرف پیش رفت نتیجہ خیز ہوگی۔