یہی آرزو ہے
غیرت کے نام پر 2012میں 913 عورتیں اور بچیاں قتل کی گئیں جن میں سے نابالغ بچیوں کی تعداد 99 تھی۔
zahedahina@gmail.com
ہماری مقتدر اور حکمران اشرافیہ کی اکثریت کے خیال میں پاکستانی بھیڑ بکریاں ہیں اور ''انسان'' کے زمرے میں نہیں آتے۔ وہ اس دو پایہ سے چوپایوں کا سلوک کرتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو شکایت مرحوم اقبال حیدر، آئی اے رحمان ، عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی سے ہونی چاہیے جنہوں نے پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کو قائم کیا۔ ان لوگوں نے صرف یہی نہیں بلکہ 90 کی دہائی سے پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف وزریوں کی سالانہ رپورٹیں بھی شایع کرنی شروع کردیں۔
شروع شروع میں یہ رپورٹیں سو، سوا سو صفحوں پر مشتمل ہوتی تھیں لیکن جیسے جیسے ہمارے جنرل ضیاء اور پھر جنرل مشرف کی سرپرستی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا،اسی حساب سے ان رپورٹوں کی ضخامت بھی بڑھتی گئی۔ اب 2012 کی سالانہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ 2013میںیہ آئینی مدت مکمل ہوگئی جو یقینا ایک دل خوش کن بات تھی لیکن حقوق انسانی کی صورتحال دل توڑ دینے والی تھی۔ تعلیم پر نگاہ ڈالیے تو 2012 میں 121، اسکول ان عناصرنے تباہ کردیے جو تعلیم اور بہ طور خاص لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔
لگ بھگ 11 فیصد سرکاری اسکول مناسب عمارت سے محروم ہیں، 38 فیصد کے گرد کوئی چار دیواری موجود نہیں۔ ان میں پڑھنے والے بچے اور پڑھانے والے دونوں ہی کسی بھی نوعیت کے دہشت گرد حملے سے قطعاً محفوظ نہیں۔ پرائمری اسکول جانیو الے پانچویں جماعت کے بچوں میں سے 25 فیصد فیل ہوجاتے ہیں یا اسکول چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اس سے ابتدائی تعلیم کی حالت زار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں نہایت کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے باوجود جنوبی ایشیا کے دوسرے ملکوں کی نسبت پاکستان اس حوالے سے پیچھے ہے۔ پولیو کی مہم پرجو افتاد آئی ہوئی ہے اس وجہ سے ہمارے یہاں 2012 میں پولیو کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 58 تک پہنچ گئی۔
یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ اگر اس رجحان پر فوری طور پر قابو نہیں پایاگیا تو پاکستانیوں پر سفری پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیو وائرس ایک سے دوسرے بچے کو لگ سکتا ہے اور اس وقت ہمارے سوا دنیا کے 2 دوسرے ملک ایسے ہیں جہاں پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ دین کے نام پر بچوں کو عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار کردینا کتنی سفاکی اور سنگدلی ہے۔ 2012 کی پہلی شمشاہی میں 1573 بچیوں اور بچوں پر مجرمانہ حملہ کیا گیا اور ایک کروڑ بچے جبری مشقت کا شکار تھے۔ یونیسکو کے مطابق پاکستان میں 51 لاکھ بچوں نے اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا اور ان میں سے 63 فی فیصد لڑکیاں تھیں۔
غیرت کے نام پر 2012میں 913 عورتیں اور بچیاں قتل کی گئیں جن میں سے نابالغ بچیوں کی تعداد 99 تھی۔ 16 برس سے کم عمر بچیاں خیبرپختونخوا کے اضلاع چار سدہ اور مردان میں شادی کے بندھن میں جکڑی گئیں۔ ہم جب عام شہری کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تو پھر قیدیوں کے حقوق کی بات کرنا ہی 'جہالت' ہے۔ اور یہ 'جہل' ایچ آر سی پی اور اسی قسم کے وہ ادارے یا افراد کرسکتے ہیں جو تمام انسانوں کو برابر سمجھتے ہیں اور ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
آزادی اظہار یعنی تحریر اور تقریر کی آزادی کو پچھلے برس کس قدر اہمیت دی گئی، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ 2012 میں 14 صحافی قتل کردیے گئے۔ یہ تسلسل کے ساتھ دوسرا سال تھا کہ ''پریس فریڈم انڈیکس'' نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا اور دنیا کے 179 ملکوں میں ہم 151 نمبر پر 'فائز' ہوئے۔ مذہبی رواداری کا یہ عالم کہ گزشتہ برس مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر 583 لوگ قتل ہوئے اور 853 زخمی۔ کم سے کم 20 احمدی اپنے عقائد کے بنیاد پر قتل کیے گئے۔
کراچی میں 6 گرجا گھروں پر حملہ ہوا اور ان میں سے دو ایسے تھے جن پر صرف 10 دنوں کے اندر حملے کیا گیا۔ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر 356 سیاسی کارکن قتل ہوئے۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد صرف بلوچستان میں مارے گئے۔ بلوچستان سے ''غائب'' کردیے جانے والوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی اور حالانکہ سپریم کورٹ نے غائب ہوجانے والوں کا معاملہ بہت سختی سے اٹھایا ہوا ہے، اس کے باوجود 72 غائب ہوجانے والوں کو مار کر پھینک دیا گیا اور ان کے خون کی نہ داد ہے نہ فریاد۔
یہ رپورٹ ان لوگوں کو لازماً پڑھنی چاہیے جو ایچ آر سی پی پر ''غیر محب وطن'' ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور اگروہ ان اعدادو شمار کو غلط سمجھتے ہیں تو انھیں اس بارے میں تحقیق کرکے نئے شواہد سامنے لانے چاہیے۔
2011 کی رپورٹ کا ابتدائیہ کہتا ہے کہ بدقسمتی سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے لیے عملدرآمد کا طریقہ کار متعارف کروانے میں ناکامی... ایسے معاہدے جن کی پاکستان نے توثیق کی تھی... کا سلسلہ بدستورجاری رہا۔ ایسی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اور لوگوں کو غائب کرنے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر کوئی پابندی عائد نہ ہوسکی، سزائے موت پر عائد عارضی پابندی جاری رہی... چاہے یہ غیر رسمی طور پر ہی تھی۔ ملک میں جیلوں اور قید خانوں کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا تھا جہاں ان کی قوت مدافعت تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ تعلیمی اداروں میں طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔
ملک میں اسلحہ کی جو دوڑ لگی ہوئی تھی یا اسلحے کے جو انبار لگے تھے انھیں ختم کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پبلک ایجوکیشن سسٹم نے ایک اسکینڈل کی شکل اختیار کرلی۔ پبلک ہیلتھ کئیر (سرکاری اسپتالوں وغیرہ) کے بجٹ میں مزید کمی کردی گئی۔ حکومت نے انتہا پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور ابتدائی سطح پر وہ اس بات کے لیے بالکل تیار نہیں تھی کہ اندرون ملک شہریوں کی بے دخلیوں پر قابو پاسکے اور نہ ہی وہ اس قابل تھی کہ مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹ سکے۔ بلوچستان میں ایک سنجیدہ سیاسی مسئلے کو بدستور بھونڈے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یعنی اسے سنبھالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ غیر مراعات یافتہ طبقات کی مشکلات میں بدستور اضافہ ہوتا رہا اور محنت کشوں کو جس صورتحال کا سامنا تھا اس میں مزید خرابی پیدا ہوئی۔
نوجوانوں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی پالیسی نہیں تھی۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظین کو جن دھمکیوں اور مشکلات کا سامنا تھا ان میں اضافہ ہوا۔ بلوچستان طرز کی جبراً گمشدگیوں اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں نے سندھ میں بھی سر اٹھانا شروع کردیا تھا۔ توہین رسالت کے تناظر میں واحد آواز اب انتہاپسندوں کی تھی۔ مذہبی اقلیتوں کو دی جانے والی دھمکیوں میں شدت پیدا ہوئی اور ایسی جگہوں پر بھی اقلیتوں پر حملے کیے گئے جو نسبتاً زیادہ روادار تصور کی جاتی تھیں پاکستان میں جو کوئی لبرل (بے تعصب) اسلام پر یقین رکھتا تھا اسے چپ رہنا پڑتا تھا یا خاموشی اختیار کرنا پڑتی تھی۔ یا پھر اسے کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرنا پڑتی تھی۔
لاقانونیت اور سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ کشیدگی معاشرے کی جڑیں کاٹ رہی تھیں اور معاشرے میں یک جہتی اور یکسانیت کو فروغ دینے کے لیے کی جانیو الی کوششیں مدھم پڑتی نظر آئیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے فوائد عوام کو کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ حکومت جتنی ہی غیر محفوظ ہورہی تھی اس کے لیے نظم و نسق میں بہتری پیدا کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جارہا تھا ور اتنا ہی مشکل معاشی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ معاشی چیلنج جو جمہوریت کے لیے حمایت میں بھی کمی لانے کا سبب بن رہے تھے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم کی طرف تمام سیاسی جماعتوں کا رویہ انتہائی غیر صحت مندانہ تھا... اور یہ بات بھی کوئی مدد نہیں کررہی تھی۔
زندگی یقینا زیادہ آسان اور آرام دہ ہوتی اگر انسانی حقوق کو درپیش خطرات اور دھمکیاں صرف غیر ریاستی عناصر کی طرف سے ہی وارد ہوتیں اور ان تمام چیلنجو ں کے باوجود جمہوری تجربہ پٹری سے نہیں اترا۔ کیونکہ حکومت میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ گرنے سے قبل سنبھل جائے۔ یہ بذات خود ایک مستحسن بات ہے ۔کسی دوسرے دور یا وقت میں ہم شاید کسی فوجی آمر کی تقاریر یا باتیں سن رہے ہوتے یا کوئی فوجی جرنیل ہم پر حکمرانی کررہا ہوتا۔2012 کی رپورٹ کا ابتدائیہ بھی افسوسناک ہے۔ کاش 2013 کی رپورٹ حالات کی بہتری کی طرف اشارہ کرے اور ہم دنیاکے سامنے کچھ کم شرمندہ ہوں کہ اب یہ ہماری آرزو ہے۔
شروع شروع میں یہ رپورٹیں سو، سوا سو صفحوں پر مشتمل ہوتی تھیں لیکن جیسے جیسے ہمارے جنرل ضیاء اور پھر جنرل مشرف کی سرپرستی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا،اسی حساب سے ان رپورٹوں کی ضخامت بھی بڑھتی گئی۔ اب 2012 کی سالانہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ 2013میںیہ آئینی مدت مکمل ہوگئی جو یقینا ایک دل خوش کن بات تھی لیکن حقوق انسانی کی صورتحال دل توڑ دینے والی تھی۔ تعلیم پر نگاہ ڈالیے تو 2012 میں 121، اسکول ان عناصرنے تباہ کردیے جو تعلیم اور بہ طور خاص لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔
لگ بھگ 11 فیصد سرکاری اسکول مناسب عمارت سے محروم ہیں، 38 فیصد کے گرد کوئی چار دیواری موجود نہیں۔ ان میں پڑھنے والے بچے اور پڑھانے والے دونوں ہی کسی بھی نوعیت کے دہشت گرد حملے سے قطعاً محفوظ نہیں۔ پرائمری اسکول جانیو الے پانچویں جماعت کے بچوں میں سے 25 فیصد فیل ہوجاتے ہیں یا اسکول چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اس سے ابتدائی تعلیم کی حالت زار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں نہایت کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے باوجود جنوبی ایشیا کے دوسرے ملکوں کی نسبت پاکستان اس حوالے سے پیچھے ہے۔ پولیو کی مہم پرجو افتاد آئی ہوئی ہے اس وجہ سے ہمارے یہاں 2012 میں پولیو کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 58 تک پہنچ گئی۔
یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ اگر اس رجحان پر فوری طور پر قابو نہیں پایاگیا تو پاکستانیوں پر سفری پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیو وائرس ایک سے دوسرے بچے کو لگ سکتا ہے اور اس وقت ہمارے سوا دنیا کے 2 دوسرے ملک ایسے ہیں جہاں پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ دین کے نام پر بچوں کو عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار کردینا کتنی سفاکی اور سنگدلی ہے۔ 2012 کی پہلی شمشاہی میں 1573 بچیوں اور بچوں پر مجرمانہ حملہ کیا گیا اور ایک کروڑ بچے جبری مشقت کا شکار تھے۔ یونیسکو کے مطابق پاکستان میں 51 لاکھ بچوں نے اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا اور ان میں سے 63 فی فیصد لڑکیاں تھیں۔
غیرت کے نام پر 2012میں 913 عورتیں اور بچیاں قتل کی گئیں جن میں سے نابالغ بچیوں کی تعداد 99 تھی۔ 16 برس سے کم عمر بچیاں خیبرپختونخوا کے اضلاع چار سدہ اور مردان میں شادی کے بندھن میں جکڑی گئیں۔ ہم جب عام شہری کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تو پھر قیدیوں کے حقوق کی بات کرنا ہی 'جہالت' ہے۔ اور یہ 'جہل' ایچ آر سی پی اور اسی قسم کے وہ ادارے یا افراد کرسکتے ہیں جو تمام انسانوں کو برابر سمجھتے ہیں اور ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
آزادی اظہار یعنی تحریر اور تقریر کی آزادی کو پچھلے برس کس قدر اہمیت دی گئی، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ 2012 میں 14 صحافی قتل کردیے گئے۔ یہ تسلسل کے ساتھ دوسرا سال تھا کہ ''پریس فریڈم انڈیکس'' نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا اور دنیا کے 179 ملکوں میں ہم 151 نمبر پر 'فائز' ہوئے۔ مذہبی رواداری کا یہ عالم کہ گزشتہ برس مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر 583 لوگ قتل ہوئے اور 853 زخمی۔ کم سے کم 20 احمدی اپنے عقائد کے بنیاد پر قتل کیے گئے۔
کراچی میں 6 گرجا گھروں پر حملہ ہوا اور ان میں سے دو ایسے تھے جن پر صرف 10 دنوں کے اندر حملے کیا گیا۔ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر 356 سیاسی کارکن قتل ہوئے۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد صرف بلوچستان میں مارے گئے۔ بلوچستان سے ''غائب'' کردیے جانے والوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی اور حالانکہ سپریم کورٹ نے غائب ہوجانے والوں کا معاملہ بہت سختی سے اٹھایا ہوا ہے، اس کے باوجود 72 غائب ہوجانے والوں کو مار کر پھینک دیا گیا اور ان کے خون کی نہ داد ہے نہ فریاد۔
یہ رپورٹ ان لوگوں کو لازماً پڑھنی چاہیے جو ایچ آر سی پی پر ''غیر محب وطن'' ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور اگروہ ان اعدادو شمار کو غلط سمجھتے ہیں تو انھیں اس بارے میں تحقیق کرکے نئے شواہد سامنے لانے چاہیے۔
2011 کی رپورٹ کا ابتدائیہ کہتا ہے کہ بدقسمتی سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے لیے عملدرآمد کا طریقہ کار متعارف کروانے میں ناکامی... ایسے معاہدے جن کی پاکستان نے توثیق کی تھی... کا سلسلہ بدستورجاری رہا۔ ایسی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اور لوگوں کو غائب کرنے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر کوئی پابندی عائد نہ ہوسکی، سزائے موت پر عائد عارضی پابندی جاری رہی... چاہے یہ غیر رسمی طور پر ہی تھی۔ ملک میں جیلوں اور قید خانوں کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا تھا جہاں ان کی قوت مدافعت تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ تعلیمی اداروں میں طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔
ملک میں اسلحہ کی جو دوڑ لگی ہوئی تھی یا اسلحے کے جو انبار لگے تھے انھیں ختم کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پبلک ایجوکیشن سسٹم نے ایک اسکینڈل کی شکل اختیار کرلی۔ پبلک ہیلتھ کئیر (سرکاری اسپتالوں وغیرہ) کے بجٹ میں مزید کمی کردی گئی۔ حکومت نے انتہا پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور ابتدائی سطح پر وہ اس بات کے لیے بالکل تیار نہیں تھی کہ اندرون ملک شہریوں کی بے دخلیوں پر قابو پاسکے اور نہ ہی وہ اس قابل تھی کہ مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹ سکے۔ بلوچستان میں ایک سنجیدہ سیاسی مسئلے کو بدستور بھونڈے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یعنی اسے سنبھالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ غیر مراعات یافتہ طبقات کی مشکلات میں بدستور اضافہ ہوتا رہا اور محنت کشوں کو جس صورتحال کا سامنا تھا اس میں مزید خرابی پیدا ہوئی۔
نوجوانوں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی پالیسی نہیں تھی۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظین کو جن دھمکیوں اور مشکلات کا سامنا تھا ان میں اضافہ ہوا۔ بلوچستان طرز کی جبراً گمشدگیوں اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکتوں نے سندھ میں بھی سر اٹھانا شروع کردیا تھا۔ توہین رسالت کے تناظر میں واحد آواز اب انتہاپسندوں کی تھی۔ مذہبی اقلیتوں کو دی جانے والی دھمکیوں میں شدت پیدا ہوئی اور ایسی جگہوں پر بھی اقلیتوں پر حملے کیے گئے جو نسبتاً زیادہ روادار تصور کی جاتی تھیں پاکستان میں جو کوئی لبرل (بے تعصب) اسلام پر یقین رکھتا تھا اسے چپ رہنا پڑتا تھا یا خاموشی اختیار کرنا پڑتی تھی۔ یا پھر اسے کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرنا پڑتی تھی۔
لاقانونیت اور سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ کشیدگی معاشرے کی جڑیں کاٹ رہی تھیں اور معاشرے میں یک جہتی اور یکسانیت کو فروغ دینے کے لیے کی جانیو الی کوششیں مدھم پڑتی نظر آئیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے فوائد عوام کو کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ حکومت جتنی ہی غیر محفوظ ہورہی تھی اس کے لیے نظم و نسق میں بہتری پیدا کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جارہا تھا ور اتنا ہی مشکل معاشی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ معاشی چیلنج جو جمہوریت کے لیے حمایت میں بھی کمی لانے کا سبب بن رہے تھے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم کی طرف تمام سیاسی جماعتوں کا رویہ انتہائی غیر صحت مندانہ تھا... اور یہ بات بھی کوئی مدد نہیں کررہی تھی۔
زندگی یقینا زیادہ آسان اور آرام دہ ہوتی اگر انسانی حقوق کو درپیش خطرات اور دھمکیاں صرف غیر ریاستی عناصر کی طرف سے ہی وارد ہوتیں اور ان تمام چیلنجو ں کے باوجود جمہوری تجربہ پٹری سے نہیں اترا۔ کیونکہ حکومت میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ گرنے سے قبل سنبھل جائے۔ یہ بذات خود ایک مستحسن بات ہے ۔کسی دوسرے دور یا وقت میں ہم شاید کسی فوجی آمر کی تقاریر یا باتیں سن رہے ہوتے یا کوئی فوجی جرنیل ہم پر حکمرانی کررہا ہوتا۔2012 کی رپورٹ کا ابتدائیہ بھی افسوسناک ہے۔ کاش 2013 کی رپورٹ حالات کی بہتری کی طرف اشارہ کرے اور ہم دنیاکے سامنے کچھ کم شرمندہ ہوں کہ اب یہ ہماری آرزو ہے۔