اسرائیل کی فلسطینیوں پر فائرنگ شہداء کی تعداد 17 ہو گئی
فلسطین میں ان کے یوم الارض پر ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے نتیجے میں ہوا۔
فلسطین میں ان کے یوم الارض پر ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے نتیجے میں ہوا۔ فوٹو: اے ایف پی
لاہور:
مارچ کے مہینے کے اختتام پر جب فلسطینی حسب معمول یوم الارض یا ارتھ ڈے منا رہے تھے، غاصب اسرائیلی فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے متعدد فلسطینیوں کو زخمی کر دیا جن میں سے 17 سے زائد فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، جن کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ ارض فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کو سات عشروں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور فلسطینی مزاحمت میں وقفے وقفے سے شدت بھی پیدا ہوتی رہی ہے جس کے جواب میں اسرائیل فلسطینیوں کی لاشیں گرا دیتا ہے۔
واضح رہے دی ارتھ ڈے 30 مارچ 1976ء کی مناسبت سے منایا جاتا ہے جب اسرائیل نے جبر و طاقت کے زور پر فلسطینیوں کو بے دخل کر کے ان کے گھروں اور ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا علاقہ بھی اس دور کی سپرپاور سلطنت انگلشیہ کے وزیر خارجہ باسفور نے نئی ریاست اسرائیل کو تفویض کیا جو ستر سال سے ایک ناسور کی طرح ارض فلسطین پر طاری ہے۔
دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھی تقریباً اسی زمانے میں برطانوی حکومت کے ایک سرکاری نمایندے ریڈکلف نے پیدا کیا جس نے برصغیر کو دو ملکوں میں تقسیم کرنے کی لائن کھینچی جس کے بعد لاکھوں خاندانوں کو اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا اور اس تبادلہ آبادی میں کم از کم دس لاکھ افراد قتل و غارت کا شکار ہوئے۔
فلسطین میں ان کے یوم الارض پر ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے نتیجے میں ہوا جس میں ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب کے بجائے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے پورے عالم اسلام میں غیظ و غضب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس اعلان کے ردعمل کے طور پر غزہ کی پٹی پر ایک طویل خیمہ بستی قائم کی گئی جہاں فلسطینیوں نے جمع ہو کر احتجاج کرنا تھا مگر صیہونی فورسز نے احتجاج کرنے والوں پر پہلے ہی براہ راست فائرنگ کر کے بے شمار فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
حالیہ برسوں کے دوران فلسطین کی تاریخ کا یہ سب سے زیادہ خونریز دن تھا جس کی پوری دنیا سے مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیریس نے بھی اس کھلی بربریت کی مذمت کر تے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جب کہ اس اہم مسئلہ پر سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے مگر اسرائیل نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان دیا کہ فلسطینیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں تاہم آیندہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت پیدا ہوگی کیونکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل آیندہ غزہ کے اندر داخل ہو کر بھی کارروائی کرے گا۔ عالم اسلام اس حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے اس کا تاحال کوئی پتہ نہیں ہے۔
مارچ کے مہینے کے اختتام پر جب فلسطینی حسب معمول یوم الارض یا ارتھ ڈے منا رہے تھے، غاصب اسرائیلی فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے متعدد فلسطینیوں کو زخمی کر دیا جن میں سے 17 سے زائد فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، جن کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ ارض فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کو سات عشروں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور فلسطینی مزاحمت میں وقفے وقفے سے شدت بھی پیدا ہوتی رہی ہے جس کے جواب میں اسرائیل فلسطینیوں کی لاشیں گرا دیتا ہے۔
واضح رہے دی ارتھ ڈے 30 مارچ 1976ء کی مناسبت سے منایا جاتا ہے جب اسرائیل نے جبر و طاقت کے زور پر فلسطینیوں کو بے دخل کر کے ان کے گھروں اور ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا علاقہ بھی اس دور کی سپرپاور سلطنت انگلشیہ کے وزیر خارجہ باسفور نے نئی ریاست اسرائیل کو تفویض کیا جو ستر سال سے ایک ناسور کی طرح ارض فلسطین پر طاری ہے۔
دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھی تقریباً اسی زمانے میں برطانوی حکومت کے ایک سرکاری نمایندے ریڈکلف نے پیدا کیا جس نے برصغیر کو دو ملکوں میں تقسیم کرنے کی لائن کھینچی جس کے بعد لاکھوں خاندانوں کو اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا اور اس تبادلہ آبادی میں کم از کم دس لاکھ افراد قتل و غارت کا شکار ہوئے۔
فلسطین میں ان کے یوم الارض پر ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے نتیجے میں ہوا جس میں ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب کے بجائے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے پورے عالم اسلام میں غیظ و غضب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس اعلان کے ردعمل کے طور پر غزہ کی پٹی پر ایک طویل خیمہ بستی قائم کی گئی جہاں فلسطینیوں نے جمع ہو کر احتجاج کرنا تھا مگر صیہونی فورسز نے احتجاج کرنے والوں پر پہلے ہی براہ راست فائرنگ کر کے بے شمار فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
حالیہ برسوں کے دوران فلسطین کی تاریخ کا یہ سب سے زیادہ خونریز دن تھا جس کی پوری دنیا سے مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیریس نے بھی اس کھلی بربریت کی مذمت کر تے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جب کہ اس اہم مسئلہ پر سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے مگر اسرائیل نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان دیا کہ فلسطینیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی گئی اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں تاہم آیندہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت پیدا ہوگی کیونکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل آیندہ غزہ کے اندر داخل ہو کر بھی کارروائی کرے گا۔ عالم اسلام اس حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے اس کا تاحال کوئی پتہ نہیں ہے۔