پٹرولیم کی قیمت میں معمولی کمی
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔ فوٹو؛ فائل
حکومت نے ماہ اپریل کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2 روپے 7 پیسے فی لیٹر تک کمی کا اعلان کر دیا ہے حالانکہ اس سے قبل افواہیں تھیں کہ چونکہ پچھلے کئی ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چونکہ مسلسل اضافہ کیا جا رہا تھا اس لیے اس بار قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے گی جو کم از کم پانچ روپے سے زیادہ ہو گی لیکن دو روپے اور سات پیسے کی کمی کو بصد معذرت حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کی پھبتی کسی جا سکتی ہے۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر کمی کی گئی ہے جب کہ لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
قیمتوں میں کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت86 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت96 روپے45 پیسے فی لیٹر ہو گی۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت 65 روپے30 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 76 روپے 45 پیسے فی لیٹر پر برقرار ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتے کی رات بارہ بجے سے ہو گیا ہے، یاد رہے اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 26 پیسے کمی جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 65 پیسے اضافہ کی سفارش کی تھی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور اضافہ بظاہر تو عالمی قیمتوں کے مد نظر کیا جاتا ہے لیکن قیمتوں میں اصل اضافہ اس پر عاید مختلف ٹیکسوں کے باعث ہوتا ہے جن میں جی ایس ٹی یعنی جنرل سیلز ٹیکس خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
اگر ہماری عوام دوست حکومتیں ان ٹیکسوں میں تھوڑی رعایت دے سکیں تو غریب عوام کو بڑی سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ پٹرول کی قیمتیں سال میں ایک ہی دفعہ طے کی جائیں۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر کمی کی گئی ہے جب کہ لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
قیمتوں میں کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت86 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت96 روپے45 پیسے فی لیٹر ہو گی۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت 65 روپے30 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 76 روپے 45 پیسے فی لیٹر پر برقرار ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتے کی رات بارہ بجے سے ہو گیا ہے، یاد رہے اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 26 پیسے کمی جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 65 پیسے اضافہ کی سفارش کی تھی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور اضافہ بظاہر تو عالمی قیمتوں کے مد نظر کیا جاتا ہے لیکن قیمتوں میں اصل اضافہ اس پر عاید مختلف ٹیکسوں کے باعث ہوتا ہے جن میں جی ایس ٹی یعنی جنرل سیلز ٹیکس خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
اگر ہماری عوام دوست حکومتیں ان ٹیکسوں میں تھوڑی رعایت دے سکیں تو غریب عوام کو بڑی سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ پٹرول کی قیمتیں سال میں ایک ہی دفعہ طے کی جائیں۔