صحت وصفائی کے مسائل
اگر ادارے قانون کے مطابق کام کررہے ہوتے تو معزز عدلیہ کو آگے بڑھ کر معاملات درست کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔
اگر ادارے قانون کے مطابق کام کررہے ہوتے تو معزز عدلیہ کو آگے بڑھ کر معاملات درست کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ فوٹو: فائل
MULTAN:
ملک بھر میں موجودہ تعلیم، صحت، صفائی اور دیگر بنیادی نوعیت کے مسائل کے حل نہ ہونے پر جس طرح صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی، انتظامیہ کی نااہلی اور اپنے فرائض سے صرف نظر کرنے کی روش پر تنقید کی جا رہی ہے، وہ قابل غور اور لمحہ فکریہ ہے۔
یہ صورتحال دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان عوام کے بنیادی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں فراہمی اور نکاسی آب کیس کی سماعت کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ کراچی میں معاملات بہتر ہو رہے اور وہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں کراچی میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہر میں گندگی اور صفائی کی ناقص صورت حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ہفتے میں صاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب انھوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ کراچی میں صفائی پر توجہ دی جا رہی اور شہر میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر میں جو مسائل موجود ہیں ان کے حل کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے ایک عرصے سے آواز اٹھائی جا رہی ہے لیکن عوام کی یہ کمزور آواز مضبوط حکمران طبقے اور ذمے دار اداروں کی سماعت سے ٹکرا کر واپس آ جاتی رہی ہے، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ملک میں جنم لینے والے بنیادی مسائل بڑھتے بڑھتے اس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کے حل کے لیے خطیر رقم اور ایک عرصہ درکار ہے لیکن اگر خلوص نیت سے کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسائل حل نہ ہوں اور صورتحال میں بہتری نہ آ جائے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں صورت حال اس قدر گھمبیر ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد چکن گونیا میں مبتلا ہیں اور اسپتالوں میں طبی سہولتوں کے فقدان کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔صفائی کی صورتحال کے حوالے سے گزشتہ دنوں چیف سیکریٹری سندھ نے سپریم کورٹ کے روبرو اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ کراچی میں روزانہ پانچ ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھایا جا رہا اور ایسی سڑکیں بھی ہیں جن پر چھ ماہ سے جھاڑو تک نہیں لگی۔
سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے دوردراز کے علاقوں کی حالت یہ ہے کہ وہاں صفائی کا نظام تو ایک طرف رہا، پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے شہریوں کو کئی کئی میل پیدل سفر کرنا پڑتا ہے اور جو پانی انھیں ملتا ہے وہ بھی صفائی کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا، بعض علاقوں میں تو انسان جانوروں کے ساتھ ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب کی نسبت صورتحال زیادہ خراب ہے۔
ادھر بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کے باعث پانی کی جو قلت اور بحران جنم لے رہا ہے، اس کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کی زرخیز زمینیں تیزی سے بنجر ہو رہی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھی ہمارا حکمران طبقہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ وہ بھارت کی اس آبی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر بھی کمزورآواز اٹھا رہا اور خود بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے اور پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی بھی نہیں کررہا۔
پی آئی اے اور کراچی اسٹیل ملز سمیت ملک کے وہ بڑے بڑے ادارے جو ترقی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج انتظامی نااہلی اور کرپشن کے باعث اس حالت تک پہنچ چکے ہیں کہ حکومت ان سے جان چھڑانے کے لیے ان کی نجکاری پر زور دے رہی ہے۔ ملک کے مسائل جس قدر تیزی سے بڑھ رہے ہیں، نہ تو حکمران طبقے کو اس کا احساس ہے اور نہ اپوزیشن جماعتیں اس کے لیے اپنا فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
سب اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے نعرے تو لگائے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر اس کے لیے کوئی جاندار اور ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا جا رہا جس سے یہ امید بن سکے کہ یہ مسائل آیندہ چند برسوں میں حل ہو جائیں گے اور وہ روشن پاکستان جس کی خواہش میں عوام سیاست دانوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، ایک زندہ تعبیر بن کر ان کے سامنے آ جائے گا۔
اگر ادارے قانون کے مطابق کام کررہے ہوتے تو معزز عدلیہ کو آگے بڑھ کر معاملات درست کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ ریاستی اداروں کے زوال کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل بڑھتے بڑھتے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں حل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بہرحال اگر اس میں بہتری آ رہی ہے تو یہ خوش آیند پیشرفت ہے۔
ملک بھر میں موجودہ تعلیم، صحت، صفائی اور دیگر بنیادی نوعیت کے مسائل کے حل نہ ہونے پر جس طرح صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی، انتظامیہ کی نااہلی اور اپنے فرائض سے صرف نظر کرنے کی روش پر تنقید کی جا رہی ہے، وہ قابل غور اور لمحہ فکریہ ہے۔
یہ صورتحال دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان عوام کے بنیادی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں فراہمی اور نکاسی آب کیس کی سماعت کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ کراچی میں معاملات بہتر ہو رہے اور وہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں کراچی میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہر میں گندگی اور صفائی کی ناقص صورت حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ہفتے میں صاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب انھوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ کراچی میں صفائی پر توجہ دی جا رہی اور شہر میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر میں جو مسائل موجود ہیں ان کے حل کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے ایک عرصے سے آواز اٹھائی جا رہی ہے لیکن عوام کی یہ کمزور آواز مضبوط حکمران طبقے اور ذمے دار اداروں کی سماعت سے ٹکرا کر واپس آ جاتی رہی ہے، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ملک میں جنم لینے والے بنیادی مسائل بڑھتے بڑھتے اس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کے حل کے لیے خطیر رقم اور ایک عرصہ درکار ہے لیکن اگر خلوص نیت سے کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسائل حل نہ ہوں اور صورتحال میں بہتری نہ آ جائے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں صورت حال اس قدر گھمبیر ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد چکن گونیا میں مبتلا ہیں اور اسپتالوں میں طبی سہولتوں کے فقدان کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔صفائی کی صورتحال کے حوالے سے گزشتہ دنوں چیف سیکریٹری سندھ نے سپریم کورٹ کے روبرو اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ کراچی میں روزانہ پانچ ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھایا جا رہا اور ایسی سڑکیں بھی ہیں جن پر چھ ماہ سے جھاڑو تک نہیں لگی۔
سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے دوردراز کے علاقوں کی حالت یہ ہے کہ وہاں صفائی کا نظام تو ایک طرف رہا، پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے شہریوں کو کئی کئی میل پیدل سفر کرنا پڑتا ہے اور جو پانی انھیں ملتا ہے وہ بھی صفائی کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا، بعض علاقوں میں تو انسان جانوروں کے ساتھ ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں پنجاب کی نسبت صورتحال زیادہ خراب ہے۔
ادھر بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کے باعث پانی کی جو قلت اور بحران جنم لے رہا ہے، اس کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کی زرخیز زمینیں تیزی سے بنجر ہو رہی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھی ہمارا حکمران طبقہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ وہ بھارت کی اس آبی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر بھی کمزورآواز اٹھا رہا اور خود بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے اور پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی بھی نہیں کررہا۔
پی آئی اے اور کراچی اسٹیل ملز سمیت ملک کے وہ بڑے بڑے ادارے جو ترقی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج انتظامی نااہلی اور کرپشن کے باعث اس حالت تک پہنچ چکے ہیں کہ حکومت ان سے جان چھڑانے کے لیے ان کی نجکاری پر زور دے رہی ہے۔ ملک کے مسائل جس قدر تیزی سے بڑھ رہے ہیں، نہ تو حکمران طبقے کو اس کا احساس ہے اور نہ اپوزیشن جماعتیں اس کے لیے اپنا فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
سب اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے نعرے تو لگائے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر اس کے لیے کوئی جاندار اور ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا جا رہا جس سے یہ امید بن سکے کہ یہ مسائل آیندہ چند برسوں میں حل ہو جائیں گے اور وہ روشن پاکستان جس کی خواہش میں عوام سیاست دانوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، ایک زندہ تعبیر بن کر ان کے سامنے آ جائے گا۔
اگر ادارے قانون کے مطابق کام کررہے ہوتے تو معزز عدلیہ کو آگے بڑھ کر معاملات درست کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ ریاستی اداروں کے زوال کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل بڑھتے بڑھتے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں حل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بہرحال اگر اس میں بہتری آ رہی ہے تو یہ خوش آیند پیشرفت ہے۔