پٹرولیم پر انحسار کم قدرتی گیس کا استعمال بڑھائیں گے نگراں وفاقی وزیر سہیل وجاہت

لائن لاسزوگیس چوری ختم، گیس کی منصفانہ تقسیم کا فیصلہ کرلیا، سی این جی سیکٹر کے وفد سے ملاقات، بحران سے نمٹنے کیلیے۔۔۔

لائن لاسزوگیس چوری ختم، گیس کی منصفانہ تقسیم کا فیصلہ کرلیا، سی این جی سیکٹر کے وفد سے ملاقات، بحران سے نمٹنے کیلیے آج تجاویزطلب فوٹو: فائل

وفاقی وزیر پٹرولیم سہیل وجاہت صدیقی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے مشاورت کا عمل شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی۔

اس دوران فریقین نے گیس بحران اور سی این جی سیکٹر کی مشکلات کے خاتمے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تاکہ ملکی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ غیاث عبداللہ پراچہ کی زیرقیادت وفد میں بریگیڈیئر (ر) افتخار، اشعر حلیم اور دیگر بھی شامل تھے۔ اس موقع پر وزیر پٹرولیم سہیل وجاہت صدیقی نے کہا کہ پٹرولیم درآمد بڑھنے سے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔

اس لیے وہ پٹرولیم پر انحصار کم کرنے اور قدرتی گیس کا استعمال بڑھانا چاہتے ہیں جس کے لیے لائن لاسز،گیس چوری ختم اور تمام شعبوں میں گیس کی منصفانہ تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ اس ملک اور عوام کے مفاد میں تمام سیکٹرز کے مابین گیس کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں اوراس بات سے اتفاق کیا کہ سی این جی ملک کے غریب اور متوسط طبقہ کے لیے بڑی سہولت ہے۔




انھوں نے کہا کہ گیس کی منصفانہ تقسیم اور چوری روکنے کے لیے چند دنوں میں فیصلہ ہوجائے گا۔ انھوں نے سی این جی ایسوسی ایشن کو بدھ 12 بجے قابل عمل تجاویز لانے کی ہدایت بھی کی تاکہ اس پر تفصیلی غور ہو سکے۔ اس موقع پر غیاث پراچہ نے وفاقی وزیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سی این جی سیکٹر کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اورکہا کہ سی این جی اسٹیشنر کو صرف 3 دن گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

اس دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے صرف چند گھنٹے کاروبار چلایا جا سکتا ہے جو قابل عمل نہیں، دنیا میں کوئی کاروبار بھی ہفتے میں 4 یا 5 دن بند نہیں رکھا جا سکتا، ہمیں دیگر شعبوں کی طرح آپریشنل کاسٹ بھی نہیں دی جا رہی، نہ ہم دیگر سیکٹرز کی طرح پیداوار کو ذخیرہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت گیس کی کمی کو جواز بنا کر سی این جی سیکٹر اور صنعت کوتباہ کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ گیس پائپ لائن دھماکا تخریب کاری نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے پریشر کے سبب ہوا، اگر وزارت پٹرولیم بحران حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی طرف سے ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندرکافی حد تک مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
Load Next Story