سوئمنگ آسٹریلیا میں نئے کوچ اور چیف ایگزیکٹیو کا تقرر
ہاکی کے سابق چیف مارک اینڈرسن اور مائیکل اسکاٹ کو ذمہ داری مل گئی۔
ہاکی کے سابق چیف مارک اینڈرسن اور مائیکل اسکاٹ کو ذمہ داری مل گئی۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
لندن اولمپکس میں ناکام شو کے بعد آسٹریلیا نے اپنی سوئمنگ ٹیم کی ازسرنو تیاری کے لیے ہاکی آسٹریلیا کے سابق چیف مارک اینڈرسن کو چیف ایگزیکٹیو مقرر کردیا۔
وہ کیون نیل کی جگہ یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ نئے ہیڈ کوچ کے لیے برطانوی سوئمنگ فیڈریشن کے سابق چیف مائیکل اسکاٹ کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے، یہ عہدہ بھی اس سے قبل نیل کے پاس ہی تھا، جنھوں نے گذشتہ ماہ ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں دونوں عہدے چھوڑ دیے تھے، سوئمنگ آسٹریلیا کے پاس گذشتہ دو برس سے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر نہیں تھا اور دونوں ذمہ داریاں کیون نیل کے کاندھوں پر ہی تھیں، جس میں وہ بری طرح ناکام رہے تھے، ان کے عہد میں آسٹریلوی ٹیم میں شامل سوئمرز پر ڈسپلن کی خلاف ورزی اور قوت بخش ادویات کے استعمال کا الزام بھی لگا تھا۔
سوئمنگ آسٹریلیا کے صدر بارکلے نیٹل فولڈ نے دونوں کلیدی عہدوں پر نئے تقرر کیے جانے پر کہا کہ ہم نے تفصیلی غوروخوض کرنے کے بعد دو موزوں افراد کا انتخاب کیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ مارک اینڈرسن اور مائیکل اسکاٹ ہمارے لیے بہترین ٹیم ترتیب دینے میں کامیاب رہیں گے، دونوں افراد کا وسیع تجربہ انھیں ان عہدوں کیلیے موزوں بناتا ہے۔
واضح رہے کہ اسکاٹ 5 برس تک برٹش سوئمنگ میںہائی پرفارمنس چیف کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں، آسٹریلیا کی سوئمنگ ٹیم لندن گیمز میں کوئی بھی انفرادی میڈل جیت نہیں پائی تھی، ایسا اس سے قبل 1976 کے اولمپکس میں ہوا تھا۔
وہ کیون نیل کی جگہ یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے جبکہ نئے ہیڈ کوچ کے لیے برطانوی سوئمنگ فیڈریشن کے سابق چیف مائیکل اسکاٹ کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے، یہ عہدہ بھی اس سے قبل نیل کے پاس ہی تھا، جنھوں نے گذشتہ ماہ ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں دونوں عہدے چھوڑ دیے تھے، سوئمنگ آسٹریلیا کے پاس گذشتہ دو برس سے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر نہیں تھا اور دونوں ذمہ داریاں کیون نیل کے کاندھوں پر ہی تھیں، جس میں وہ بری طرح ناکام رہے تھے، ان کے عہد میں آسٹریلوی ٹیم میں شامل سوئمرز پر ڈسپلن کی خلاف ورزی اور قوت بخش ادویات کے استعمال کا الزام بھی لگا تھا۔
سوئمنگ آسٹریلیا کے صدر بارکلے نیٹل فولڈ نے دونوں کلیدی عہدوں پر نئے تقرر کیے جانے پر کہا کہ ہم نے تفصیلی غوروخوض کرنے کے بعد دو موزوں افراد کا انتخاب کیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ مارک اینڈرسن اور مائیکل اسکاٹ ہمارے لیے بہترین ٹیم ترتیب دینے میں کامیاب رہیں گے، دونوں افراد کا وسیع تجربہ انھیں ان عہدوں کیلیے موزوں بناتا ہے۔
واضح رہے کہ اسکاٹ 5 برس تک برٹش سوئمنگ میںہائی پرفارمنس چیف کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں، آسٹریلیا کی سوئمنگ ٹیم لندن گیمز میں کوئی بھی انفرادی میڈل جیت نہیں پائی تھی، ایسا اس سے قبل 1976 کے اولمپکس میں ہوا تھا۔