ملک ریاض پرتوہین عدالت کے الزام میں فردجرم عائد

ملزم کاصحت جرم سے انکار،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کووکیل استغاثہ مقررکردیا

ملزم کاصحت جرم سے انکار،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کووکیل استغاثہ مقررکردیا۔ فوٹو فائل

KARACHI:
سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزام میں ملک ریاض پر فرد جرم عائد کردی اور اٹارنی جنرل کو وکیل استغاثہ مقر ر کر دیا گیا ۔جمعرات کوجسٹس اعجازافضل اورجسٹس شیخ عظمت سعیدپرمشتمل بینچ نے ملک ریاض پرفردجرم عائدکی توملزم نے صحت جرم سے انکارکیا اور ان کے وکیل عبدالباسط نے اعتراض اٹھایاکہ انٹراکورٹ اپیل کافیصلہ کیے بغیرفردجرم عائدکرنے سے ان کاحق مجروح ہواہے تاہم عدالت نے قراردیاکہ جس قانون کے تحت انٹراکورٹ اپیل کاحق دیا گیا تھا وہ قانون کالعدم ہوچکا ہے۔

اٹارنی جنرل نے فردجرم کے متن پراعتراض کیااورکہاکہ جس الزام میں فردجرم عائدہوئی وہ الفاظ کی شکل میں موجودنہیں۔عدالت نے یہ اعتراض بھی مستردکیااور جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ پریس کانفرنس کے دوران جوزبان استعمال ہوئی اس کامجموعی تاثرفردجرم کی بنیادہے۔این این آئی کے مطابق عدالت کاکہناہے کہ ملک ریاض نے پریس کانفرنس کے الفاظ،لہجے اورتاثرات سے توہین عدالت ہوئی بعد ازاں کیس کی سماعت 29اگست تک ملتوی کردی گئی۔

ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس شاکر اللہ کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے کی ، سماعت شروع ہوئی تو ابتدا میں ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹرباسط نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی اوراس وقت توہین عدالت ایکٹ2012نافذ تھا اس کے تحت اپیل آتے ہی شو کاز نوٹس اور توہین عدالت کی کاروائی معطل ہوگئی تھی۔اس پرجسٹس عظمت سعیدنے کہاکہ اس قانون کوکالعدم قراردیتے ہوئے عدالت نے قراردیاتھاکہ یہ تصورکیاجائے جیسے یہ قانون کبھی تھاہی نہیں۔


ڈاکٹرباسط کا کہناتھا کہ تقاضا انصاف کے پیش نظر اپیل کی سماعت تک اس کیس پرکارروائی روکی جائے اپیل کا حق توتوہین عدالت آرڈیننس2003میں بھی ہے،فرد جرم عائد کی گئی تومیراحق متاثرہوگالہذا انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے تک یہ عدالت انتظار کرے۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ملک ریاض پرآج ہی فردجرم عائدکی جائے گی سماعت کے دور ان اٹارنی جنرل عرفان قادرنے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض کے جو الفاظ توہین عدالت تھے وہ چارچ شیٹ پرموجودنہیں ہیں۔

عبدالباسط نے کہا کہ جن الفاظ کوعدلیہ کی تضحیک قراردیاجارہاتھا انھیں چارج شیٹ پرموجودہوناچاہیے تھا ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ یہ صرف چارج شیٹ ہے ٹرائل میں سب چیزیں سامنے آ جائیںگی،ملک ریاض کے وکیل نے سپریم کورٹ کے بینچ پربھی اعتراضات اٹھائے اوراپیل کی کہ عیدکے بعدتک سماعت ملتوی کردی جائے تاہم سپریم کورٹ نے وکیل کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ملک ریاض پر فرد جرم عائد کردی۔وکیل عبدالباسط نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ملک ریاض کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے جس پرجسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں ان کے باہرجانے پرکوئی پابندی نہیں۔

دریں اثنااشرف گجرایڈووکیٹ نے ملک ریاض کانام ای سی ایل میں ڈالنے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی ہے۔ علاوہ ازیں سابق چیئرمین بحریہ ٹائونکیترجمان کا کہنا ہے کہ ملک ریاض پر پہلے سے تیار شدہ فرد جرم عائد کی گئی جس کی صحت سے انھوں نے انکار کردیا ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story