بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی بے چینی

حکومت نے ضلعی سطح پر جو پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی ہیں‘ وہ بھی مہنگائی روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

حکومت نے ضلعی سطح پر جو پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی ہیں‘ وہ بھی مہنگائی روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ فوٹو : فائل

ملک میں سیاسی بے چینی تو جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا ہوں یا ادویات یا پھر ملبوسات اور پارچہ جات سب کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت نے ضلعی سطح پر جو پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی ہیں' وہ بھی مہنگائی روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

اخباری خبر کے مطابق مارکیٹ میں گھی اور کوکنگ آئل سرکاری نرخنامے کے برعکس اضافی قیمتوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں جب کہ چینی کی قیمت میں بھی کم از کم2روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا۔ بعض شہروں میں قیمت اس سے بھی زیادہ ہے۔


درجہ دوم گھی137روپے کے بجائے 150روپے فی کلو گرام میں فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ درجہ اول گھی148کے بجائے 160روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ آئل کے سرکاری نرخ 158جب کہ فروخت 170کے حساب سے جاری ہیں' دوسری جانب چینی کے50کلو گرام کے تھیلے کی قیمت میں 100روپے اضافہ کر دیا گیا جو نئے اضافہ کے ساتھ2500کا ہو گیا۔

حکومت پنجاب نے فلور ملز کو گندم کی فراہمی کے لیے فی من قیمت 1275روپے سے بڑھا کر1300روپے کر دی جس کے باعث ملوں نے آٹا کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔عوامی خدمت کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کو مہنگائی روکنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا چاہیے۔
Load Next Story