بھارت کی آبی جارحیت اور عالمی بے حسی
بھارت گزشتہ چند عشروں سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔
بھارت گزشتہ چند عشروں سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان نے بھارت کی جاری آبی جارحیت کے خلاف ایک بار پھر عالمی بینک سے رابطہ کر لیا ہے۔ میڈیا میں ذرایع کے حوالے سے اطلاع ہے کہ وزارت آبی وسائل نے عالمی بینک کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے اعتراضات کے باوجود بھارت نے کشن گنگا پن بجلی منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان کو کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات ہیں۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ثالثی کی ذمے داریاں پوری کرے۔
بھارت گزشتہ چند عشروں سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے' اطلاعات کے مطابق جن میں سے دریائے نیلم پر اس نے کشن گنگا ڈیم تعمیر کر لیا ہے' بھارت اس ڈیم سے 330 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکے گا' اس منصوبے کی تکمیل میں اس دوران ہی جب ورلڈ بینک نے 2016ء میں پاکستان کے حق میں حکم امتناع پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کا حکم دیا تھا۔
اس سے پیشتر فروری 2013ء کو دی ہیگ میں عالمی عدالت نے پاکستان کے اعتراض کو صحیح قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں واقع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ میں غیرمعمولی اثر پڑے گا۔ پاکستان کے عالمی عدالت میں جانے کے باوجود بھارت نے کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور عالمی عدالت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔
یہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا اور بھارت نے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آبی جارحیت کا عمل جاری رکھا۔ اب کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے بعد صورت حال یہ ہے کہ دریائے جہلم ایک خشک میدان دکھائی دینے لگا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر 850 میگاواٹ کا رتلے پن بجلی کا منصوبہ بنا رہا ہے' اس ڈیم کی تعمیر کے بعد دریائے چناب میں بھی پانی کے بہاؤ پر غیرمعمولی اثرات مرتب ہوں گے۔
گزشتہ دنوں بھارتی وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ و پانی ناتھ کڈکری نے ایک تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اترکھنڈ کے دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جا سکے۔
بھارت جس تیزی سے ڈیموں کے منصوبے بنا رہا ہے ان کی تکمیل کے بعد پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا اور جہلم اور چناب جو پہلے ہی خشک ہو رہے ہیں مزید خشک ہو کر چٹیل میدان بن جائیں گے۔
پاکستان بھارت کے خلاف متعدد بار عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا چکا ہے اب ایک بار پھر اس نے عالمی بینک سے رابطہ کیا ہے لیکن ماضی کی صورت حال دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ جیسے پہلے بھی عالمی عدالت انصاف بھارت کو آبی جارحیت سے روکنے میں ناکام ہوئی اب بھی ورلڈ بینک کو خط لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا' بھارت 1960ء میں تشکیل پانے والے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور عالمی ادارے پاکستان کے احتجاج کے باوجود بے حسی اور بے بسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث میٹھے پانی کے ذخائر میں جس تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اس کے پیش نظر گزشتہ دنوں مشترکہ مفادات کونسل نے قومی آبی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے صوبائی تجاویز شامل کرنے کے بعد مجوزہ پالیسی حتمی منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا آیندہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پائیدار ترقی کے اہداف اس بات کے متقاضی ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور معیشت کے مختلف شعبوں کی نمو کے لیے مربوط آبی پالیسی اختیار کی جائے۔
ایک جانب بھارت پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کرنے پر تلا ہوا ہے تو دوسری جانب اندرون ملک بھی پاکستانی حکومت بڑے ڈیم تعمیر کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ بھاشا ڈیم کی جگہ کے بارے میں یہ اطلاعات متعدد بار منظرعام پر آ چکی ہیں کہ یہ فالٹ رینج پر واقع ہے،شدید زلزلہ آنے پر اسے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے لہٰذا اس جگہ پر ڈیم تعمیر کرنا ایک خطرناک فعل ہو گا۔
پانی کے بڑھتے بحران کے پیش نظر حکومت کو تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر متفقہ پالیسی تشکیل دیتے ہوئے جلد از جلد آبی ذخائر تعمیر کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
بھارت گزشتہ چند عشروں سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے' اطلاعات کے مطابق جن میں سے دریائے نیلم پر اس نے کشن گنگا ڈیم تعمیر کر لیا ہے' بھارت اس ڈیم سے 330 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکے گا' اس منصوبے کی تکمیل میں اس دوران ہی جب ورلڈ بینک نے 2016ء میں پاکستان کے حق میں حکم امتناع پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کا حکم دیا تھا۔
اس سے پیشتر فروری 2013ء کو دی ہیگ میں عالمی عدالت نے پاکستان کے اعتراض کو صحیح قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں واقع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ میں غیرمعمولی اثر پڑے گا۔ پاکستان کے عالمی عدالت میں جانے کے باوجود بھارت نے کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور عالمی عدالت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔
یہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا اور بھارت نے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آبی جارحیت کا عمل جاری رکھا۔ اب کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے بعد صورت حال یہ ہے کہ دریائے جہلم ایک خشک میدان دکھائی دینے لگا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر 850 میگاواٹ کا رتلے پن بجلی کا منصوبہ بنا رہا ہے' اس ڈیم کی تعمیر کے بعد دریائے چناب میں بھی پانی کے بہاؤ پر غیرمعمولی اثرات مرتب ہوں گے۔
گزشتہ دنوں بھارتی وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ و پانی ناتھ کڈکری نے ایک تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اترکھنڈ کے دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جا سکے۔
بھارت جس تیزی سے ڈیموں کے منصوبے بنا رہا ہے ان کی تکمیل کے بعد پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا اور جہلم اور چناب جو پہلے ہی خشک ہو رہے ہیں مزید خشک ہو کر چٹیل میدان بن جائیں گے۔
پاکستان بھارت کے خلاف متعدد بار عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا چکا ہے اب ایک بار پھر اس نے عالمی بینک سے رابطہ کیا ہے لیکن ماضی کی صورت حال دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ جیسے پہلے بھی عالمی عدالت انصاف بھارت کو آبی جارحیت سے روکنے میں ناکام ہوئی اب بھی ورلڈ بینک کو خط لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا' بھارت 1960ء میں تشکیل پانے والے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور عالمی ادارے پاکستان کے احتجاج کے باوجود بے حسی اور بے بسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث میٹھے پانی کے ذخائر میں جس تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اس کے پیش نظر گزشتہ دنوں مشترکہ مفادات کونسل نے قومی آبی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے صوبائی تجاویز شامل کرنے کے بعد مجوزہ پالیسی حتمی منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا آیندہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پائیدار ترقی کے اہداف اس بات کے متقاضی ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور معیشت کے مختلف شعبوں کی نمو کے لیے مربوط آبی پالیسی اختیار کی جائے۔
ایک جانب بھارت پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر کرنے پر تلا ہوا ہے تو دوسری جانب اندرون ملک بھی پاکستانی حکومت بڑے ڈیم تعمیر کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ بھاشا ڈیم کی جگہ کے بارے میں یہ اطلاعات متعدد بار منظرعام پر آ چکی ہیں کہ یہ فالٹ رینج پر واقع ہے،شدید زلزلہ آنے پر اسے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے لہٰذا اس جگہ پر ڈیم تعمیر کرنا ایک خطرناک فعل ہو گا۔
پانی کے بڑھتے بحران کے پیش نظر حکومت کو تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر متفقہ پالیسی تشکیل دیتے ہوئے جلد از جلد آبی ذخائر تعمیر کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔