بھٹو کی سیاسی جدوجہد اور عہد حاضر کے تقاضے
عوام پی پی سے روٹی کپڑا اور مکان جیسے دلفریب نعرہ کی آج بھی توقع رکھتے ہیں۔
عوام پی پی سے روٹی کپڑا اور مکان جیسے دلفریب نعرہ کی آج بھی توقع رکھتے ہیں۔ فوٹو : فائل
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مرکزی رہنماؤں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 39 ویں برسی کے موقع پرگڑھی خدابخش میں جلسے سے خطاب کیا اور بھٹو کی عہد آفریں سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالی، رہنماؤں نے پارٹی کی ملک میں سیاسی خدمات، جمہوریت کی بقا، بحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کا حوالہ دیا، کارکنوں کی ایک بڑی تعداد قافلوں کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچی اور اپنے قائد سے تجدید وفا اور پارٹی سے والہانہ وابستگی کا برملا اظہار کرتے رہے۔
ادھر پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی سربراہ غنویٰ بھٹو نے بھی الگ جلسہ سے خطاب کیا۔ بلاشبہ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ پی پی ایک بلند آہنگ، ترقی پسندانہ عوامی سیاسی جماعت ہے اور جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے اس کی آمریت کے خلاف جدوجہد ناقابل فراموش رہی ہے، عوام کی حالت بدلنے اور پیپلز پارٹی کے بدترین مخالف بھی بھٹو کی ذات پر کرپشن،کک بیک یا کمیشن لینے کے کسی داغ کا بہتان نہیں لگاتے،ان سے اختلافات کی نوعیت ہمیشہ سیاسی رہی۔
تاہم ملکی سیاست میں پیدا شدہ گرماگرمی، اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشی کی مسلسل روایت اس امر کا تقاضہ کرتی ہے کہ پارٹی منشور کی بنیاد پر جمہوری سیاست ہونی چاہیے، نظریاتی سیاست کے لیے گوشہ رہنا چاہیے۔
عوام پی پی سے روٹی کپڑا اور مکان جیسے دلفریب نعرہ کی آج بھی توقع رکھتے ہیں، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جلسہ میں تقاریر موضوعی تھیں، نواز شریف ان کا ہدف تھے، جب کہ نواز شریف نے بھی معروضی حالات اور پارٹی کے آیندہ انتخابات کے حوالہ سے منشور کی بات نہیں کی بلکہ خبردار کیا کہ وہ مقابلہ کریں گے، بھاگنے والے نہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف سے اب صلح نہیں ہوسکتی، ان سے جنگ رہے گی، میں نے کہا تھا کہ جب چاہوں ن لیگ کی حکومت گراسکتا ہوں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میاں صاحب مولا جٹ بن کر ججز کو دھونس اور دھمکیوں سے ڈرانا چاہتے ہیں، پوری زندگی ووٹ کو عزت نہ دینے والے آج ووٹ کی عزت کی بات کر رہے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ عمران کا آخری اور میرا پہلا الیکشن ہوگا، پی پی فرقہ واریت، دہشتگردی، انتہا پسندی کے خلاف لڑے گی۔
اگرچہ سمندری کے جلسہ اور احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے سیاستدانوں میں اصول اور موقف ہونے کا استدلال دیا تاہم اصل مسئلہ سیاست میں سیاسی عدم رواداری، مخاصمانہ طرز عمل اور غیر جمہوری رویے کے خاتمہ کی ہے۔ اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔
ادھر پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی سربراہ غنویٰ بھٹو نے بھی الگ جلسہ سے خطاب کیا۔ بلاشبہ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ پی پی ایک بلند آہنگ، ترقی پسندانہ عوامی سیاسی جماعت ہے اور جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے اس کی آمریت کے خلاف جدوجہد ناقابل فراموش رہی ہے، عوام کی حالت بدلنے اور پیپلز پارٹی کے بدترین مخالف بھی بھٹو کی ذات پر کرپشن،کک بیک یا کمیشن لینے کے کسی داغ کا بہتان نہیں لگاتے،ان سے اختلافات کی نوعیت ہمیشہ سیاسی رہی۔
تاہم ملکی سیاست میں پیدا شدہ گرماگرمی، اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشی کی مسلسل روایت اس امر کا تقاضہ کرتی ہے کہ پارٹی منشور کی بنیاد پر جمہوری سیاست ہونی چاہیے، نظریاتی سیاست کے لیے گوشہ رہنا چاہیے۔
عوام پی پی سے روٹی کپڑا اور مکان جیسے دلفریب نعرہ کی آج بھی توقع رکھتے ہیں، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جلسہ میں تقاریر موضوعی تھیں، نواز شریف ان کا ہدف تھے، جب کہ نواز شریف نے بھی معروضی حالات اور پارٹی کے آیندہ انتخابات کے حوالہ سے منشور کی بات نہیں کی بلکہ خبردار کیا کہ وہ مقابلہ کریں گے، بھاگنے والے نہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف سے اب صلح نہیں ہوسکتی، ان سے جنگ رہے گی، میں نے کہا تھا کہ جب چاہوں ن لیگ کی حکومت گراسکتا ہوں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میاں صاحب مولا جٹ بن کر ججز کو دھونس اور دھمکیوں سے ڈرانا چاہتے ہیں، پوری زندگی ووٹ کو عزت نہ دینے والے آج ووٹ کی عزت کی بات کر رہے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ عمران کا آخری اور میرا پہلا الیکشن ہوگا، پی پی فرقہ واریت، دہشتگردی، انتہا پسندی کے خلاف لڑے گی۔
اگرچہ سمندری کے جلسہ اور احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے سیاستدانوں میں اصول اور موقف ہونے کا استدلال دیا تاہم اصل مسئلہ سیاست میں سیاسی عدم رواداری، مخاصمانہ طرز عمل اور غیر جمہوری رویے کے خاتمہ کی ہے۔ اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔